قرآن کا پیغام (پارہ:۱۱)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا گیارھواں پارہ ﴿يَعْتَذِرُوْنَ﴾ انسانی کردار کی تعمیر، نفاق کے خاتمے اور کائنات میں پھیلی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے ادراک کا ایک عظیم الشان مجموعہ ہے۔ یہ پارہ نہ صرف تاریخی واقعات بیان کرتا ہے بلکہ ایک ایسی ریاست اور معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جہاں اخلاص، تقویٰ اور سچائی کی حکمرانی ہو۔
نفاق کی جڑوں پر کاری ضرب:پارے کا آغاز ﴿يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْهِمْ ۭ ﴾:جب تم لوگ واپس ان کے پاس جاؤ گے، تو یہ تمھارے سامنے (طرح طرح کے) عذر پیش کریں گے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان غزوۂ تبوک کے کٹھن سفر سے واپس آئے۔
منافقین کا نفسیاتی تجزیہ اور سماجی بائیکاٹ: اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ یہ منافقین صرف اپنی جان و مال بچانے کے لیے جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں﴿رِجْسٌ ۡ ﴾ :گندگی کا لفظ استعمال کیا۔ اس میں ایک گہرا سبق ہے کہ جو معاشرہ نفاق اور جھوٹ پر مبنی ہو، وہ روحانی طور پر مُردہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان سے اعراض کریں یعنی انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں کیوںکہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
مسجدِ ضرار- سازش کا اڈہ: منافقین نے دین کے نام پر دین کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک مسجد بنائی تھی، جسے قرآن نے ’مسجدِ ضرار‘ کہا۔ قرآن نے کہا: ﴿لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا ۭ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد میں کھڑے ہونے سے بھی منع فرما دیا اور اس کے مقابلے میں اس مسجد ( قبا) کی تعریف کی جس کی بنیاد پہلے دن سے ’تقوے‘ پر رکھی گئی تھی۔ معلوم ہوا کہ ہر وہ کام جو مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لیے کیا جائے، اللہ کے ہاں مردود ہے۔
تین مخلص صحابہؓکا قصہ اور توبہ کا تصور: اس پارے میں حضرت کعب بن مالکؓ،ہلال بن امیہؓ اور مرارہ بن ربیعؓکا تذکرہ ہے جو سچّے صحابی تھے، لیکن سُستی کی وجہ سے تبوک میں شریک نہ ہو سکے۔ ان کاپچاس دن تک سماجی بائیکاٹ رہا، یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی:﴿حَتّٰى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ﴾۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے صدقِ دل کو دیکھ کر ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ گناہ کے بعد سچی ندامت اور سچائی ہی نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے سچّوں کے ساتھ ہو جانے کا حکم دیا ہے۔
سورہ یونس
توحید کے عقلی دلائل: سورۂ یونس کا آغاز حروفِ مقطعات ﴿الۗرٰ ۣ﴾سے ہوتا ہے، یہ مکمل سورت اسی پارے میں موجود ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے انسانی عقل کو جھنجھوڑا ہے کہ کیا تمھیں اس بات پر تعجب ہے کہ ہم نے تمھارے ہی جیسے ایک انسان پر وحی نازل کی؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی نشانیاں شمار کروائیں: سورج کا چمکنا، چاند کا روشن ہونا اور اس کی منزلیں مقرر کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ سب اس لیے ہے تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان سکو۔ یہ قرآن کا وہ سائنسی معجزہ ہے جو وقت کی پیمائش اور فلکیات کی بنیاد رکھتا ہے۔
دنیا کی عارضی زندگی کی مثال: اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کو ایک ایسی بارش سے تشبیہ دی جو زمین پر گرتی ہے، سبزہ اگتا ہے، زمین لہلہانے لگتی ہے اور اس کے مالک سمجھتے ہیں کہ اب وہ اس پر قادر ہو گئے، پھر اچانک اللہ تعالیٰ کا حکم آتا ہے اور وہ سب کٹی ہوئی فصل کی طرح ہو جاتا ہے۔ یہ مثال انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اس عارضی دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی اصل منزل (آخرت) کو نہ بھولے۔
قرآن؛ شفا و رحمت: آیت نمبر۵۷؍ میں قرآن مجید کی چار صفات بیان کی گئی ہیں:(۱)﴿مَّوْعِظَةٌ﴾: نصیحت (۲)﴿شِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ﴾: دلوں کے امراض (حسد، کینہ، شک وغیرہ) سے شفا(۳)﴿هُدًى﴾: ہدایت کا راستہ (۴)﴿رَحْمَةٌ﴾: اہلِ ایمان کے لیے اللہ کی رحمت۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو اس قرآن پر خوشی منانی چاہیے کیوں کہ یہ اس سب سے بہتر ہے جو (مال و دولت) وہ جمع کر رہے ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام کا عزم: اس میں حضرت نوح علیہ السلام کا مختصر لیکن جامع تذکرہ ہے کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا:﴿يٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِيْ وَتَذْكِيْرِيْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَعَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُوْنِ ﴾میری قوم کے لوگو ! اگر تمھارے درمیان میرا رہنا اور اللہ کی آیات کے ذریعے خبردار کرنا تمھیں بھاری معلوم ہورہا ہے تو میں نے تو اللہ ہی پر بھروسا کر رکھا ہے، اب تم اپنے شریکوں کو ساتھ ملا کر اپنی تدبیروں کو خوب پختہ کرلو، پھر جو تدبیر تم کرو وہ تمھارے دل میں کسی گھٹن کا باعث نہ بنے، بلکہ میرے خلاف جو فیصلہ تم نے کیا ہو، اسے کر گزرو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔ یہ داعیانِ حق کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ جب مقصد سچا ہو تو دشمن کی طاقت یا کثرت سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
فرعون کی توبہ: آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا معرکہ بیان کیا گیا ہے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے پکارا کہ میں بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لاتا ہوں۔ اللہ تعالی نے جواب دیا: ﴿اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ﴾ اب ایمان لاتا ہے ؟ حالاںکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا، اور مسلسل فساد ہی مچاتا رہا۔ فرعون کے بدن کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ اسی لیے ہوا تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ﴿اٰيَةً﴾ نشانی رہے۔ آج تک اس کی لاش کا موجود ہونا قرآن کی صداقت کا منھ بولتا ثبوت ہے۔
قومِ یونس- ایک استثنائی مثال: تمام قوموں کی تاریخ میں قومِ یونس وہ واحد قوم ہے جس نے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ایمان قبول کر لیا: ﴿فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ﴾۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحیمی کا اظہار ہے کہ اگر انسان عذاب کے بالکل قریب پہنچ کر بھی پورے اخلاص سے توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔
سورہ ہود
استغفار اور معاشرتی فلاح: پارے کے بالکل آخر میں سورۂ ہود کی ابتدائی آیات ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر کسی قوم کو دنیا میں خوش حالی اور ﴿مَّتَاعًا حَسَنًا﴾ بہترین زندگی چاہیے تو اسے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ استغفار صرف آخرت کی نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیوی ترقی کی بھی کنجی ہے۔
خلاصۂ کلام: یہ گیارھواں پارہ ہمیں چند بنیادی سبق دیتا ہے: (۱)اخلاصِ نیت:نفاق وہ کینسر ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے، اس سے بچنا نہایت ضروری ہے (۲)سچائی کی طاقت: تین صحابہؓکے واقعے سے معلوم ہوا کہ سچ بولنے میں وقتی تکلیف تو ہو سکتی ہے لیکن انجام کار کامیابی سچائی ہی میں ہے (۳)قدرتِ الٰہی کا مشاہدہ: کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دے رہی ہے، ضرورت صرف بصیرت کی ہے (۴)توبہ کی اہمیت:انسان جتنا بھی گنہ گار کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ فرعون کی طرح دیر نہ کر دے۔






