رمضان المبارک کے دن یا رات میں اجتماعی دعاکرنا

رمضان المبارک کے دن یا رات میں اجتماعی دعاکرنا
ندیم احمد انصاری

دعا کو حدیث شریف میں عبادت بلکہ عبادتوں کا مغز کہا گیا ہے، خود باری تعالیٰ نے بندوں کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے انسان کو چاہیے کہ اپنی ہر چھوٹی بڑی حاجت اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے خود دعا کرنے کے آداب بھی بتائے اور وہ پیارے پیارے الفاظ بھی سکھائے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی حاجت پیش کی جائے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج فرض و واجب امورکے سیکھنے کی لوگوں کو توفیق نہیں، تو مستحبات و آداب پر توجہ کون دے! دعا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے کہ جتنی اس کی اہمیت ہے، اتنی ہی اس میں غفلت عام ہے۔ بعض افراد تو وہ ہیں جن کے پاس مالک الملک سے دعا کرنے کی فرصت ہی نہیں اور بعض وہ جنھوں نے کبھی دعا کرنا سیکھا ہی نہیں، وہ دعا کرتے بھی ہیں توایسا لگتا ہے کہ کسی ہوٹل کے بیرے کو آرڈر دے رہے ہوں، اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ یہی سب کیا کم تھا کہ ایک طرف لوگوں نے فرض نمازوں وغیرہ کے بعد امام کے ساتھ رسمی سی جہری دعا کو لازمی قرار دے لیا اور دوسرے موقعوں پر تعلیم یا کسی اور جائز مقصد سے کی جانے والی اجتماعی دعا کو سِرے سے بدعت ٹھیرانے لگے، جب کہ اس میں بڑی تفصیل ہے اور فی نفسہٖ اجتماعی دعا جائز بلکہ اس میں قبولیت کی زیادہ امید ہے۔

البتہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دعا اصلاً انفرادی عمل ہے ،یہ خدا اور بند ے کے درمیان رازونیاز اور سرگوشی کا درجہ رکھتی ہے ، پھر رسول اللہ ﷺنے ہر چیز خدا سے مانگنے کا حکم دیا ہے اور ظاہر ہے کہ ہر ایک کی ضرورتیںالگ ہوتی ہیں،بعض ایسی بھی ضرورتیںہوتی ہیںجن کا بندہ اپنے مالک کے سامنے ذکر کرتا ہے وہ کسی اور کے سامنے ان کا ذکر نہیںکرسکتا ،اسی لیے رسو ل اللہ ﷺ اور صحابہ کا عام معمول انفرادی دعا کا تھا ،خاص خاص مواقع پر اجتماعی دعاکی جاتی تھی ،جیسے قنوتِ نازلہ ،بارش کے لیے دعاےاستسقا ،یا مسلمان کسی خاص آزمائش سے گزر رہے ہوںتو ان کے لیے دعا۔ اس لیے اگر کوئی لازم سمجھے بغیر کبھی کبھی اجتماعی دعا کر لے تو ا س کی گنجا ئش ہے ،لیکن اس کو روزانہ کا معمو ل نہ بنا یا جائےاور اس پر اصرار نہ کیا جائے اور اسے ضروری نہ سمجھاجائے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے مسائل پر باہم نزاع پیدا نہ ہو نے دیا جائے۔دعا اجتماعی ہو یا انفرادی زیادہ سے زیا دہ مستحب ہے اور اختلاف و انتشار سے بچنا واجب ہے ۔(کتاب الفتاویٰ)

خیال رہے مذکورہ بالا حکم بابِ احکام سے متعلق ہے اور کہیں تربیت یا کسی اور جائز مقصد کے تحت لازم و ضروری سمجھے بغیر اجتماعی دعا کی وقتی پابندی کی جائے تو وہ بھی ناجائز و بدعت نہیں، جب کہ کوئی اور عارضہ نہ ہو۔اس لیے کہ دو چیزیں بالکل الگ الگ ہیں؛(1)بابِ احکام (2)بابِ تربیت۔ بابِ احکام کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت، فقہ اورشریعت سے جو جو چیزیں ثابت ہیں، ان کا پابند کیا جائے، اور جو ثابت نہیں ہے، اس کا پابند کرنا درست نہیں،اور بابِ تربیت کا مطلب یہ ہے کہ جو جو چیزیں شریعت سے ثابت ہیں ان کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزوں کا بھی پابند بنایا جائے جو شریعت سے کھل کر ثابت نہیں ہیں، لیکن ان امور کے اختیار کرنے میں تعلیم و تربیت کے حق میں مصلحتیں ہیںاور تربیت سیکھنے والوں کے لیے مفید اور معاون ہیں۔ جو معمولات بابِ احکام سے متعلق نہیں ہیں بلکہ بابِ تربیت سے متعلق ہیں، انھیں کتاب و سنت کے دلائل سے ناجائز ثابت کرنا درست نہیں ہوگا،اور بابِ تربیت کی چیزیں حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرتیں۔(فتاویٰ قاسمیہ ملخصاً)

طبرانی میں روایت موجود ہے:
عن حبیب بن مسلمۃ الفھری، وکان مستجاباً، انہ امّر علی جیش، فدرب الدروب، فلما لقی العدو، قال الناس: سمعت رسول اللہﷺ یقول: لا یجتمع ملافیدعو بعضھم و یؤمن سائرھم، الا اجابھم اللہ۔
حضرت حبیب بن مَسلَمہ فَہریؓمستجابُ الدعوات صحابی تھے، انھیں ایک لشکر کا امیر بنایا گیا، انھوں نے ملکِ روم جانے کے راستے تیار کرائے۔ جب دشمن کا سامنا ہوا تو انھوں نے لوگوں سے کہا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو جماعت ایک جگہ جمع ہو اور ان میں سے ایک دعا کرائے باقی سب آمین کہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔(معجم کبیر طبرانی، مجمع الزوائد)

اسی لیے علما نے لکھا ہے کہ کسی دینی مجلس یا پروگرام کے بعد اجتماعی دعا کرنا، جس میں ایک شخص دعا کراتا ہے اور بقیہ سامعین ان کی دعا پر جہراً آمین کہتے ہیں، یہ طریقہ جائز اور حدیث سے ثابت ہے۔(فتاویٰ قاسمیہ)یہاں تک کہ اگر کوئی دینی مجلس کے بالکل اخیر میں شرکت کرتا ہے وہ بھی ان شاء اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔(ایضاً)خلاصہ یہ کہ مجلس کے اختتام پر اجتماعی دعا ثابت ہے اور یہ اقرب الی الاجابۃ ہے،لیکن جہاں خصوصیت سے یہ دعا ثابت نہ ہو اس کو سنت سمجھ کر نہیں کرنا چاہیے۔(فتاویٰ دارالعلوم زکریا)اسی طرح کبھی یا خاص رمضان کی طاق راتوں میں باقاعدہ تداعی اور اعلان کے ساتھ اجتماعی دعا ثابت نہیں ہے، البتہ اگر تداعی کے بغیر لوگ عبادت یا وعظ ونصیحت سننے کی غرض سے جمع ہوجائیں اور اخیر میں دعا کرلیں تو اس میں شرعاً حرج معلوم نہیں ہوتا ہے۔(کتاب النوازل)

حیاۃ الصحابہ میں حضرت مولانا محمد یوسف صاحب کاندھلویؒ نے اجتماعی دعا کے عنوان کے تحت طبرانی سے ایک دل چسپ واقعہ نقل کیاہے،وہ لکھتے ہیں کہ حضرت قیس مدنی کہتے ہیں؛ ایک آدمی نے حضرت زید بن ثابتؓکی خدمت میں حاضر ہو کر کسی چیز کے بارے میں پوچھا، انھوں نے فرمایا: تم جاکر یہ بات حضرت ابوہریرہؓسے پوچھو کیوںکہ ایک مرتبہ میں، حضرت ابوہریرہ اور فلاں آدمی ہم تینوں مسجد میں دعا کررہے تھے، اور اپنے ربّ کا ذکرکررہے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے تو ہم خاموش ہوگئے، پھر فرمایا: جو تم کررہے تھے اسے کرتے رہو۔ چناںچہ میں نے اور میرے ساتھی نے حضرت ابوہریرہ سے پہلے دعاکی اور حضورﷺ ہماری دعا پر آمین کہتے رہے، پھر حضرت ابوہریرہ نے یہ دعا کی: اے اللہ! میرے ان دوساتھیوں نے جو کچھ تجھ سے مانگا میں وہ بھی تجھ سے مانگتاہوں اور ایسا علم بھی مانگتاہوں جو کبھی نہ بھولے۔ حضورﷺ نے فرمایا: آمین۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی اللہ سے وہ علم مانگتے ہیں جو کبھی نہ بھولے، حضورﷺ نے فرمایا: یہ دَوسی نوجوان (یعنی حضرت ابوہریرہؓ) تم دونوں سے آگے نکل گئے۔(حیاۃ الصحابہ، طبرانی اوسط)

  • 7
    Shares
  • 7
    Shares

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here