ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
حج اور عمرہ محض ظاہری افعال کا نام نہیں، بلکہ یہ سراسر بندگی اور سپردگی کا اظہار ہے۔ اس مبارک سفر کا پہلا اور بنیادی قدم ’احرام‘ ہے، جو بندے پر دنیوی آسائشوں کو حرام کر کے اسے سراپا نیاز بنا دیتا ہے۔ احرام درحقیقت اللہ تعالیٰ کی پکار پر ’لبیک‘ کہنے کا ایک عملی عہد ہے، جس کے ساتھ ہی تلبیہ کی روح پرور صدائیں زبان پر جاری ہو جاتی ہیں۔ عبادات کی قبولیت کا دارومدار سنتِ نبوی کی پیروی پر ہے، اس لیے احرام کی نیت، اس کے ممنوعات، مکروہات اور تلبیہ کے احکام سے واقفیت ہر زائر کے لیے ناگزیر ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں مستند فقہی مآخذ اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ان ضروری مسائل کو نہایت تفصیل سے جمع کر دیا گیا ہے تاکہ زائرین اپنے اس مقدس فریضے کو ہر قسم کی کوتاہی سے پاک رکھ کر ادا کر سکیں۔
کیا احرام نیت کے لیے کافی ہے؟
جمہور فقہا کے نزدیک عمرے کا احرام ہی عمرے کی نیت ہے، اور حنفیہ کے نزدیک عمرے کی نیت ذکر یا خصوصیت کے ساتھ ہوگی،ان کے یہاں ذکر سے مراد تلبیہ وغیرہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہو اورخصوصیت سے مراد ایسی چیز جو تلبیہ کے قایم مقام ہو ۔الْإحْرَامُ بِالْعُمْرَةِ عِنْدَ الْجُمْهُورِ هُوَ نِيَّةُ الْعُمْرَةِ. وَعِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ: نِيَّةُ الْعُمْرَةِ مَعَ الذِّكْرِ أَوِ الْخُصُوصِيَّةِ. وَمُرَادُهُمْ بِالذِّكْرِ: التَّلْبِيَةُ وَنَحْوُهَا مِمَّا فِيهِ تَعْظِيمُ اللَّهِ تَعَالَى، وَالْمُرَادُ بِالْخُصُوصِيَّةِ: مَا يَقُومُ مَقَامَ التَّلْبِيَةِ،ا لخ.[الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]
احرام کی کچھ تفصیلات
حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے، ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول!حالتِ احرام میں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: قمیص، پاجامہ، عمامہ اور ٹوپی نہ پہنے، مگر یہ کہ کوئی ایسا آدمی جس کے پاس جو تیاں نہ ہوں تو وہ موزے پہن سکتا ہے اور ٹخنے کے نیچے سے کاٹ دے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا وَرْس لگی ہو۔ اور احرام والی عورت چہرے پر نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ”مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ” .[بخاری]
احرام کے بعد عمرہ ادا کرنے میں تاخیر
(۱)احرام باندھنے کے بعد بلاوجہ عمرہ یا افعالِ عمرہ ادا کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے لیکن ایسا کرنے سے جنایت وغیرہ کچھ لازم نہیں (۲)اگر کوئی شخص طوافِ عمرہ کے بعد احرام میں تو رہا لیکن اس نے طواف کے بعد سعی میں یا سعی کے بعد حلق یا قصر میں تاخیر کی تو اس سے جنایت لازم نہیں۔ ولا يجب لتأخير طواف العمرة، ولا لتأخير سعيها، ولا لتأخير الحلق شيء؛ لأن وقت العمرة واسع في جميع السنة. [البحر العمیق فی مناسک المعتمر و الحاج الی البیت العتیق]
احرام کے ممنوعات
احرام کے ممنوعات میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:(۱)مرد کے لیے سلا ہوا کپڑا پہننا(۲)ایسا کپڑا پہننا جس کی بناوٹ ایسی ہو جو جسم کا یا بعض اعضا کا احاطہ کرلے جیسے موزے، سر پر پردہ ڈالنا، چہرے کو چھپانا، ایسا جوتا پہننا جو ٹخنوں تک پہنچ جائے، اس کا پہننا حرام ہے (۳)احرام والی عورت کے لیے ایسی چیز سے چہرے کو چھپانا جو چہرےسے مسّ کرے؛ اس کے علاوہ وہ اپنا عام لباس پہن سکتی ہے (۴)مَردوں اور عورتوں سب کے لیے خوشبو لگانا، ایسی چیز کا استعمال کرنا جس میں خوشبو ہو، سر سے یا جسم کے کسی بھی حصے سے بال کو زائل کرنا، جسم یا بال کو نرم کرنے والا تیل استعمال کرنا خواہ ( خوشبودار نہ ہو )، ناخن کاٹنا، شکار کرنا، جماع اور اس کے دَواعی، جماع کے بارے میں گفتگو کرنا حرام ہے (۵)نیز احرام باندھنے والا خصوصیت کے ساتھ شریعت کے احکام کی مخالفت سے پر ہیزکرے اور نا جائز جھگڑوں سے بچے۔احرام کے ممنوعات میں سے کسی کا ارتکاب ہو جائے تو جزاواجب ہوتی ہے خاص طور پر جماع میں عمرہ فاسد ہو جاتا ہے اور قضاوکفارہ واجب ہوتے ہیں، البتہ رفث ، فسوق اور جدال میں گناہ ہوتا ہے اور دوسری جزا واجب ہوتی ہے۔مَحْظُورَاتُ الإحْرَامِ لِلْعُمْرَةِ هِيَ مَحْظُورَاتُ الإحْرَامِ لِلْحَجِّ، مِنْهَا: (أ) يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ: لُبْسُ الْمَخِيطِ وَكُلُّ مَا نُسِجَ مُحِيطًا بِالْجِسْمِ أَوْ بِبَعْضِ الأعْضَاءِ كَالْجَوَارِبِ، وَيَحْرُمُ عَلَيْهِ وَضْعُ غِطَاءٍ عَلَى الرَّأْسِ وَتَغْطِيَةُ وَجْهِهِ، وَلُبْسُ حِذَاءٍ يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ. (ب)يَحْرُمُ عَلَى الْمَرْأَةِ الْمُحْرِمَةِ سَتْرُ الْوَجْهِ بِسِتْرٍ يُلاَمِسُ الْبَشَرَةَ، وَلُبْسُ قُفَّازَيْنِ، وَتَلْبَسُ سِوَى ذَلِكَ لِبَاسَهَا الْعَادِيَّ. (ج)يَحْرُمُ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ الطِّيبُ وَأَيْ شَيْءٍ فِيهِ طِيبٌ، وَإِزَالَةُ الشَّعْرِ مِنَ الرَّأْسِ وَمِنْ أَيِّ مَوْضِعٍ فِي الْجِسْمِ، وَاسْتِعْمَالُ الدُّهْنِ الْمُلَيِّنِ لِلشَّعْرِ أَوِ الْجِسْمِ – وَلَوْ غَيْرَ مُطَيِّبٍ – وَتَقْلِيمُ الأظْفَارِ، وَالصَّيْدُ وَالْجِمَاعُ وَدَوَاعِيهِ الْمُهَيِّئَةُ لَهُ، وَالرَّفَثُ «أَيْ: الْمُحَادَثَةُ بِشَأْنِهِ» وَلْيَجْتَنِبِ الْمُحْرِمُونَ الْفُسُوقَ أَيْ: مُخَالَفَةَ أَحْكَامِ الشَّرِيعَةِ، وَكَذَا الْجِدَالُ بِالْبَاطِلِ. وَيَجِبُ فِي ارْتِكَابِ شَيْءٍ مِنْ مَحْظُورَاتِ الإْحْرَامِ الْجَزَاءُ، وَفِي الْجِمَاعِ خَاصَّةً فَسَادُ الْعُمْرَةِ وَالْكَفَّارَةُ وَالْقَضَاءُ، عَدَا مَا حَرُمَ مِنَ الرَّفَثِ وَالْفُسُوقِ وَالْجِدَالِ فَفِيهَا الإثْمُ وَالْجَزَاءُ الأخْرَوِيُّ فَقَطْ . [الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]
احرام میں سِلی ہوئی لنگی پہننا
ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو حالتِ احرام میں سلی ہوئی لنگی پہننے کی گنجائش ہے کیوںکہ یہ لنگی باندھے بغیر بدن پر نہیں ٹھہرتی، پس لنگی اس لباس میں داخل ہے جس کے استعمال سے دم واجب نہیں ہو تا۔بلا ضرورت ایسی سلی ہوئی لنگی سے احتراز کرے۔جو حضرات عام حالات میں کھلی لنگی پہننے کے عادی ہیں یا ایسی کھلی لنگی میں ستر کی حفاظت پر قادر ہیں ان کو ایسی سلی ہوئی لنگی استعمال نہیں کر نی چاہیے۔[دیکھیے محمودالفتاویٰ]
احرام کے مکروہات
احرام حج کا ہو یا عمرے کا، درجِ ذیل باتیں مکروہ ہیں:(۱)سر میں کنگھی کرنا (۲) سر کو زور سے کھجلانا (۳) بدن کو بہت زیادہ کھجلانا (۴)زینت اختیار کرنا۔يُكْرَهُ فِي إِحْرَامِ الْعُمْرَةِ مَا يُكْرَهُ فِي إِحْرَامِ الْحَجِّ، مِثْلُ تَمْشِيطِ الرَّأْسِ أَوْ حَكِّهِ بِقُوَّةٍ، وَكَذَا حَكُّ الْجَسَدِ حَكًّا شَدِيدًا، وَالتَّزَيُّنُ. [الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]
تلبیہ کے الفاظ
حضرت ابنِ عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو -جب کہ آپ اپنے بالوں کو گوند سے جمائے ہوئے تھے-تلبیہ کہتے ہوئے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: لَبَّيْکَ،أَللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ، لَبَّيْکَ لَآ شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَآ شَرِيکَ لَکَ. ان سے زیادہ کلمات نہیں فرمائے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: “لَبَّيْكَ، اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ” لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ. [بخاری]
حج و عمرہ میں تلبیہ کب تک پڑھے؟
عمرے میں احرام باندھنے کے بعد تلبیہ شروع کرےگا اور طواف شروع کرتے ہی تلبیہ پڑھنا بند کر دےگا۔یستحب … التلبیۃ … و یقطع التلبیۃ حین یشرع فی الطواف. [البحر العمیق فی مناسک المعتمر و الحاج الی البیت العتیق]إذا استلم الحجریقطع التلبیۃ عند أول شوط من الطواف، عند عامۃ العلماء … و الصحیح قول العامۃ.[بدائع الصنائع]’دارقطنی‘ میں ہے: حضرت عبداللہ بن عباسؓفرماتے ہیں: عمرہ کرنے والا شخص اس وقت تک تلبیہ پڑھتا رہے گا جب تک طواف کا آغاز نہیں کرلیتا۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لاَ يُمْسِكُ الْمُعْتَمِرُ عَنِ التَّلْبِيَةِ حَتَّى يَفْتَتِحَ الطَّوَافَ. ’ابوداود‘ میں ہے:حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمرہ کرنے والا حجرِ اسود کو چومنے تک لبیک کہتا رہے۔عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: “يُلَبِّي الْمُعْتَمِرُ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ”. ’مصنف ابنِ ابی شیبہ‘ میں ہے:حضرت ابنِ عباسؓنے فرمایا: عمرہ کرنے والا جب حجرِ اسود کا استلام کرے تو تلبیہ پڑھنا ترک کر دے اور حج کرنے والا جمرات کی رمی تک پڑھتا رہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ قَالَ : الْمُعْتَمِرُ یُمْسِکُ عَنِ التَّلْبِیَۃِ إذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، وَالْحَاجُّ إذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ.





