بلڈ بینک میں خون دینے کے لیے روزہ توڑنا یا تڑوانا
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب دامت برکاتہم! کوئی اگر بلڈبینک میں کام کرنے والا کسی روزےدار کو بلڈ دینے کے لیے روزہ توڑنے کو کہتا ہے تو کیا وہ گنہ گار ہوگا؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً: ’محمود الفتاویٰ‘سے اسی طرح کے سوالات اور ان کا جواب ملاحظہ فرمائیں، اس میں ہے:
ہم بلڈبینک [Blood Bank] میں ملازمت کرتے ہیں، ہسپتال میں کچھ مریضوں کو حالتِ اضطراری میں خون چڑھایا جاتا ہے، اس سلسلے میں دو سوالات کے جوابات درکار ہیں:
سوال(۱):ڈاکٹری اصول کے تحت خالی پیٹ خون نہیں لیا جاتا ہے اور اس وجہ سے روزے دار کو کھانے کی ہی ہدایت دی جاتی ہے، چند لوگوں کے سوا زیادہ تر روزہ توڑ دیتے ہیں، کیا ہم لوگ ایسی حالت میں اسلامی نقطۂ نظر سے گنہ گار تو نہیں ہوںگے؟
سوال(۲):اگر ایسی حالت میں روزہ افطار کرنے کا جواز ہے تو اس کی کیا شکل ہوگی؟
الجواب(۱،۲):اس حالت میں شرعاً روزہ توڑنے کا جواز نہیں ہے، آپ اگر کسی کو روزہ توڑنے کے لیے کہیںگے تو آپ بھی گنہ گار ہوںگے، ایسے لوگوں کا خون رات میں لیا جائے۔ فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






![باؤنڈز[Bonds] پر زکوٰۃ](https://afif.in/wp-content/uploads/2026/03/32-Bonds-par-zakat-100x70.jpg)