Home Dept of Islamic Studies Articles بیمار مومن کا ہر لمحہ، ہر سانس اور ہر درد بارگاہِ الٰہی...

بیمار مومن کا ہر لمحہ، ہر سانس اور ہر درد بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت کا درجہ رکھتا ہے

اللہ رب العزت نے اس کائنات اور بالخصوص انسان کو حکمت و تدبیر کے ایک ایسے نظام کے تحت پیدا فرمایا ہے جس میں تضادات کی صورت میں حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ زندگی و موت، صحت و بیماری، خوشی و غمی، آسانی اور دشواری یہ تمام حالات انسان کی تربیت، آزمائش اور اس کے باطنی ارتقا کا ذریعہ ہیں۔ عام انسان ظاہری فایدے اور لذتوں کو خیر اور جسمانی تکالیف یا آزمائشوں کو زحمت سمجھتا ہے، لیکن شریعتِ مطہرہ کی نظر میں معاملے کی حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسلام کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انسان کا یہ دنیوی وجود محض ایک عارضی سفر ہے اور اس سفر کا اصل مقصد تزکیۂ نفس اور معرفتِ الٰہی کا حصول ہے۔ جب انسان صحت مند، توانا اور مادّی وسائل سے مالامال ہوتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر غفلت، نفسانی سرکشی اور خودمختاری کا ایک زعم پیدا ہونے لگتا ہے۔ صحت کا غرور انسان کو اس حقیقت سے غافل کر دیتا ہے کہ اس کی ہر سانس، ہر نبض اور اس کے وجود کا ذرّہ ذرّہ اپنے خالق کا محتاج ہے۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص عنایت اور محبت کے تحت اپنے بندے کو بیماری کے ذریعے متنبہ اور خبردار فرماتے ہیں۔ بیماری بہ ظاہر جسم کی لغزش یا نظامِ تنفس و دورانِ خون کی خرابی نظر آتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک روحانی تنبیہ، باطنی صفائی اور ربِ کریم کا اپنے بندے کو اپنے قریب کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

صوفیا کے مطابق جب جسم بیمار ہوتا ہے تو نفس کی تمام قوتیں و شہوتیں مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔ لذیذ کھانے، گناہ کی خواہشات اور نمودونمائش کی تمنائیں خود بہ خود ختم ہو جاتی ہیں۔ اس طرح بیماری نفس کی قید اور روح کی آزادی کا نام ہے۔صوفیا کے یہاں ریاضت و مجاہدے (کم کھانے، کم سونے، کم بولنے) کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ نفس کو دبایا جائے، بیماری اللہ تعالیٰ کی طرف سے بغیر کسی ذاتی کوشش کے ایک قدرتی ریاضت بن کر آتی ہے، جو نفس کی گردن توڑ دیتی ہے اور باطن کا تزکیہ کر دیتی ہے۔ طریقت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ایک ’مقامِ رضا‘ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے -چاہے وہ اس کی طبع کے موافق ہو یا مخالف-پر دل سے راضی رہے۔عام لوگ صرف راحت، صحت اور عطا پر راضی ہوتے ہیں، لیکن صوفیا و عارفین بیماری اور امتناع پر بھی سرِ تسلیم خم رکھتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں مریض کے مقام، اس کی دعا کی تاثیر، اس پر نازل ہونے والی رحمتوں اور بیماری کی حالت میں چھوٹ جانے والے معمولات کے ثواب کے متعلق ایسے مضامین آئے ہیں کہ اگر مومن ان کی حقیقت کو سمجھ لے تو وہ بیماری کو اپنے لیے وبالِ جاں نہیں بلکہ نعمتِ بےبہا سمجھےگا۔

بیمار کی دعا قبول ہوتی ہے

جب انسان بیمار ہوتا ہے تو اس کے دل سے دنیا کی محبتیں، بناوٹیں اور دکھاوے ختم ہو جاتے ہیں۔ اس وقت اس کی پکار میں کامل اخلاص اور بے بسی ہوتی ہے، اور اخلاص ہی دعا کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔حضرت عمر بن خطابؓفرماتے ہیں، حضرت نبی کریمﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: جب تم بیمار کے پاس جاؤ، اس سے کہو کہ تمھارے حق میں دعا کرے، کیوںکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے۔ ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي النَّبِيُّ ﷺ:‏‏‏‏ “إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمُرْهُ أَنْ يَدْعُوَ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ”. [ابن ماجہ]فرشتوں کی صفتِ معصومیت اور ان کی بےگناہی کی وجہ سے ان کی دعا رد نہیں ہوتی، اسی طرح جب مومن بسترِعلالت پر رحمٰن و رحیم اللہ کو پکارتا ہے تو چوںکہ بیماری کے سبب اس کے گناہ جھڑ چکے ہوتے ہیں اور اس کا دل صاف ہو چکا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی مانند قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔

بیمار اور قربِ الٰہی

اللہ تعالیٰ بیمار بندے کو اپنا ایسا قرب عطا فرماتے ہیں جس کا تصور عام حالات میں ممکن نہیں۔ اسی لیے بیمار کی عیادت کو شریعت نے صرف ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ اللہ سے ملاقات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ایک نہایت جذباتی اور عارفانہ حدیثِ قدسی ہے۔حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائےگا: اے ابنِ آدم! میں بیمار تھا اور تو نے میری عیادت نہیں کی؟ وہ کہےگا: یا رب! میں آپ کی عیادت کیسے کرتا، آپ تو رب العالمین ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا ۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ” إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قَالَ يَا رَبِّ: كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ! الحدیث.[مسلم] یہاں لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ (تو مجھے اس کے پاس پاتا) کا مطلب یہ ہے کہ بیمار بندے پر اللہ کی رحمت، سکینت، فضل اور خاص تجلیات اتنی زیادہ نازل ہو رہی ہوتی ہیں کہ وہاں پہنچنے والا شخص گویا اللہ کے نورانی قرب میں ہوتا ہے۔

بیمار شخص کے لیے معمولات کا ثواب

مومن جب صحت مند ہوتا ہے تو وہ نفل نمازیں پڑھتا ہے، نفلی روزے رکھتا ہے، تلاوت اور ذکر و اذکار کرتا ہے، اور دیگر نیک اعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے، لیکن جب بیماری آ گھیرتی ہے تو وہ ان اعمال کو کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ایک نیک مومن کا دل اس بات پر کڑھتا ہے کہ وہ اپنے ان معمولات سے محروم رہ گیا، لیکن اللہ رب العزت کا فضل اپنے بندوں پر اس قدر وسیع ہے کہ وہ بیماری کے پورے دورانیے میں بھی بغیر کیے ہی ان اعمال کا ثواب جاری رکھتے ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب آدمی بیمار ہوتا ہے یا سفر میں ہوتا ہے تو وہ جس قدر عبادات اقامت اور صحت میں کرتا تھا، اس کے لیے وہ سب لکھی جاتی ہیں۔ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ وَاصْطَحَبَ هُوَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَبُو بُرْدَةَ سَمِعْتُأَبَا مُوسَى مِرَارًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ “إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا”. [بخاری] یہ حدیث مومن کے لیے عظیم ترین بشارت ہے۔ بندہ بیمار ہونے کے سبب جو اعمال کر ہی نہیں پا رہا، اللہ کے فرشتے اس کے نامۂ اعمال میں اس تہجد اور اور ذکر وتلاوت کا ثواب اسی طرح درج کر رہے ہیں جیسے وہ صحت مند ہونے کے دنوں میں کیا کرتا تھا۔ یہ اللہ کی رحمتِ کاملہ کا مظہر ہے۔

بیماری گناہوں کا کفارہ

انسان خطا کا پتلا ہے، روزمرہ کی زندگی میں اس سے جانے ان جانے میں بہت سے گناہ اور لغزشیں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو پاک صاف کر کے اپنی بارگاہ میں لانا چاہتے ہیں۔ اس پاکیزگی کے لیے بیماری ایک روحانی غسل کا کام کرتی ہے۔صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں حضرت نبی کریم ﷺ کی بیماری میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بہت تیز بخار تھا۔ میں نے عرض کیا : بلاشبہ آپ کو بہت سخت بخار ہے۔ میں نے یہ بھی کہا کہ آپ کو بہت تیز بخار اس لیے ہے کہ آپ کو دوگنا ثواب ہوگا۔ آپﷺ نے فرمایا : درست ہے، جب کوئی مسلمان کسی بھی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اس کے گناہ ایسے جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت سے پتّے جھڑ جاتے ہیں۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي مَرَضِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “أَجَلْ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا حَاتَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ”. [ بخاری] ایک حدیث میں ہے؛ حضرت ابو سعید خدریؓاور حضرت ابوہریرہؓکہتے ہیں، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو کوئی رنج وغم اور مصیبت نہیں پہنچتی؛ یہاں تک کہ اگر کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا وَصَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَمٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا حُزْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَذًى، ‏‏‏‏‏‏وَلَا غَمٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ”. [ بخاری]

خلاصۂ مضمون

ان احادیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مومن کے لیے تکلیف کا کوئی ایک لمحہ بھی ضائع نہیں جاتا۔ بخار کی حرارت، جسم کا درد، اور بیماری کی بےچینی انسان کی خطاؤں کو اس طرح اس سے دور کر دیتی ہے جیسے درختوں سے پتّے جھڑ جاتے ہیں۔بیماری کا دورانیہ انسان کی اخلاقی تربیت کا ایک بہترین اسکول ہے۔ انسان کی سب سے بڑی اخلاقی بیماری تکبر ہے،جب انسان کے پاس صحت، طاقت، مالی وسعت اور نفوذ ہوتا ہے، تو وہ فرعونیت کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی زندگی کتنی بے ثبات ہے۔ بیماری انسان کی اس مصنوعی طاقت کی پول کھول کر رکھ دیتی ہے۔ صرف بخار یا پیٹ کا درد ہی بڑے سے بڑے طاقت وَر، بادشاہ اور امیر انسان کو لاچار کر کے بستر پر گرا دیتا ہے۔ وہ شخص جو چند لمحے پہلے لوگوں پر حکم چلا رہا تھا، وہ اب ایک گھونٹ پانی لینے کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔بیماری انسان کو عجز سکھاتی ہے۔ یہ انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت اور صحت تمھارا ذاتی کمال نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ تم جتنے بھی طاقت وَر ہو جاؤ، تمھارا وجود ایک چھوٹے سے وائرس یا جراثیم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کے ایام میں عاجزی اختیار کرے اور دوسروں پر ظلم و ستم کرنے سے باز رہے اور بیماری کے ایام میں اللہ تعالیٰ سے لَو لگائے اور صبر سے کام لے۔ہماری زندگی کا بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نعمتوں کی موجودگی میں شکر اور آزمائش کے موقعے پر صبر نہیں کرتے۔

کالم نگار مشہور عالمِ دین، پچاس کتابوں کے مصنف
اور الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی کے صدر و مفتی ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here