Home Dept of Islamic Studies Articles تراویح پڑھنے والوں سے گذارش

تراویح پڑھنے والوں سے گذارش

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

’بخاری شریف‘ میں ہے: حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے، اس کے سابقہ گناہ بخش دیےجاتے ہیں۔’نسائی شریف‘ میں ہے:حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ ماہِ رمضان المبارک میں تراویح ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے، لیکن واجب قرار نہیں دیتے تھےاور آپ ﷺ فرماتے: جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے، دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے اور شیطان زنجیروں سے باندھ دیے جاتے ہیں۔ ’مجمع الزوائد‘ میں ہے: حضرت امِ ہانیؓ سے روایت ہے،حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تک میری امت ماہِ رمضان میں قیام کرتی رہےگی، رسوا نہیں ہوگی۔ صحابۂ کرامؓنے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ماہِ رمضان میں آپ کی امت کی رسوائی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی حدوں کو توڑنا؛ رمضان المبارک میں جو شخص زنا کرتا ہے یا شراب پیتا ہے، اللہ تعالیٰ اور آسمانوں کے فرشتے کے پاس اس کی کوئی نیکی نہیں جس کے ذریعے وہ آگ سے بچاؤ کا سامان کرے۔ ماہِ رمضان کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، اس مہینے میں نیکیاں اس قدر بڑھ جاتی ہیں جو غیر رمضان میں نہیں بڑھتیں، اور یہی حال برائیوں کا بھی ہے۔
جو لوگ تراویح سِرے سے پڑھتے ہی نہیں ان سے تو کیا کہنا، جو لوگ رمضان المبارک کی ہر رات میں بیس رکعت تراویح پڑھتے ہیں اور اس میں ختمِ قرآن کی سنت کا بھی اہتمام کرتے ہیں، لیکن نہایت لاپرواہی کے ساتھ، ان کی خدمت میں چند باتیں عرض ہیں:
تراویح سنتِ مؤکدہ ہے اور اس میں قرآن شریف ختم کرنا بھی سنت ہے۔ رمضان میں تراویح کی نماز میں ایک ختم کرنا سنت ہے، دویا تین ختم کرنا مستحب اور افضل ہے، لہٰذا کم از کم ایک ختم پوری صحت اور اطمینان کے ساتھ ہونے کا ضرور اہتمام کیا جائے ، ہم جیسا عمل کریںگے ہمارے بعد آنے والی ہماری نسل بھی اس کا ویساہی اہتمام کرےگی، اگر ہم نے براے نام زبردستی تراویح پڑھی اور ختم کیا تو بعد میں آنے والے بھی ویسا ہی کریںگے، اس کی ذمّےداری ہم پر ہوگی اور گناہ میں ہمارا بھی حصہ ہوگا۔
قرآن پڑھنے میں صحت کا لحاظ از حد ضروری ہے، حروف بدل جانے سے یعنی س کی جگہ ص، ث اور س کی جگہ ش، ث،ض کی جگہ ز، ذ اور ذ کی جگہ ض، ز، ت کی جگہ ط، اور ط کی جگہ ت وغیرہ پڑھنے سے لحنِ جلی لازم آتا ہے اور کبھی اس قسم کی غلطی سے معنی بدل کر نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ مد، غنّہ، اخفا اور اظہار کی غلطی لحنِ خفی ہے اس سے نماز تو فاسد نہ ہوگی مگر بڑی فضیلتوں سے محرومی ہو جائےگی۔ رمضان المبارک جیسے مقدس اور مبارک مہینے میں بھی اگر تراویح میں ختمِ قرآن با قاعدہ اور پوری دل چسپی اور شوق وذوق سے نہ کیا جائے تو اس سے زیادہ محرومی اور کیا ہوسکتی ہے؟
’مجالس الابرار‘ میں ہے:فإنهم قد جعلوا التراويح عادةً لا عبادةً يتقرب بها إلى اللہ تعالى على ما شرطه رسول اللہ ﷺ فيها من القراءة وغيرها فيتخذون صلاتها خلف إمام لا يتم الركوع والسجود والقومة و الجلسة ولا يرتل القرآن كما أمر اللہ به بل هو من غاية السرعة يقع في اللحن الجلي بترك بعض حروف الكلمة او حركاتها … الخ. یعنی ان لوگوں نے تراویح کو عادت بنا رکھا ہے، نہ کہ عبادت، کہ جس سے قربِ الٰہی حاصل کریں، اور اس شرط کے موافق جو رسول اللہ ﷺ نے قراءت و غیرہ کی تراویح میں شرط کی ہے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں جو پورے طور سے رکوع، سجود ، قومہ اور جلسہ نہیں کرتا، اور جس طرح خدا کا حکم ہے اس طرح قرآن کو صاف صاف نہیں پڑھتا بلکہ نہایت جلدی کے سبب بعضے حروف یا حرکات کے رہ جانے سے کھلی ہوئی غلطی واقع ہوتی ہے۔
’فتاویٰ بزاز یہ‘ میں ہے کہ غلط پڑھنا بالاتفاق حرام ہے اور دوسرے فتاویٰ میں ہے کہ اگر امام غلط پڑھتا ہو تو اس میں کچھ مضا یقہ و حرج نہیں کہ انسان اپنی مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں چلا جائے اور چلے جانے سے وہ گنہ گار نہ ہوگا، اس لیے کہ اس کا مقصد پر ہیز گار کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس نے پر ہیز گار عالم کے پیچھے نماز پڑھی اس نے گویا کہ پیغمبر کے پیچھے نماز پڑھی، اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کسی (شرعی) عذر سے محلّے کی مسجد چھوڑ دے تو گنہ گار نہ ہو گا ، اب ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو بلا عذر مسجد جانا چھوڑ دیتے ہیں اور ایسی مسجدوں میں جاتے ہیں جہاں طرح طرح کے راگ اور غلطیاں ہوتی ہیں اور ایسا امام تلاش کرتے ہیں جو نہ ٹھیک سے سجدہ کرتا ہےاور نہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر صحیح طور سے پڑھتا ہے بلکہ بعض اوقات ایسے امام پر اعتراض کرتے ہیں جو پورے طور سے رکوع اور سجدے کرتا ہے اور قرآن شریف ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہے اور اس سے بھاگتے ہیں اور ان لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں جنھوں نے اپنے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے ان کو دھوکا دے رکھا ہے اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔
سو بے شک جس نے تراویح اس طور سے پڑھی کہ قومہ، جلسہ اور طمانیت کو -جس کی ادنیٰ مقدار رکوع اور سجدے میں ایک تسبیح کے برابر ہے-چھوڑ دیا تو وہ گنہ گار اور دوزخ کے عذاب کا مستحق ہوگا، اس لیے کہ یہ سب چیزیں امام ابو یوسفؒاور امام شافعیؒکے نزدیک فرض ہیں، ان چیزوں کے چھوڑنے سے ان حضرات کے نزدیک نماز باطل ہو جاتی ہے، اور امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒکے نزدیک (مذکورہ چیزیں ) ایک روایت میں واجب ہیں؛ ان کے چھوڑنے سے نماز کا دہرانا واجب ہوتا ہے، اور دوسری روایت یہ ہے کہ یہ چیزیں سنت ہیں؛ اور اس روایت کے بہ موجب ان چیزوں کا چھوڑ نے والا عتاب اور شفاعت سے محرومی کا مستحق ہے، اور (وہ) ان لوگوں میں سے ہوگا جن کی کوشش دنیا میں اکارت ہوئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں اور وہ ان لوگوں میں سے ہوںگے جن کو خدا کی طرف سے وہ بات پیش آئی جس کا ان کو گمان نہ ہوتا تھا اور یہ کھلا خسارہ اور بڑا نقصان ہے۔
پھر یہاں ایک نکتہ ہے جس سے آگاہ کرنا ضروری ہے تا کہ جس شخص میں انصاف اور حق کی جانب میلان ہو وہ اس سے نصیحت حاصل کرے اور وہ یہ ہے کہ تراویح بیس رکعت ہیں، اور ہر رکعت میں ایک قومہ اور ایک جلسہ ہے، اور پھر ان دونوں میں طمانیت (یعنی ان کو اطمینان سے ادا کرنا) ضروری ہے، اور قومہ و جلسے میں سے کسی ایک میں بھی طمانیت کا چھوڑ نا گناہ ہے، اور اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کی طمانیت جاتی رہی تو بیس گناہ ہوئے، اور اگر قومہ و جلسے دونوں میں طمانیت چھوڑ دی تو چالیس گناہ ہوںگے، اور اگر وہ دونوں (یعنی قومہ و جلسہ ) چھوٹ گئے تو سب مل کر اسّی گناہ ہوئے، اور اگر اس کے ساتھ اظہار کا گناہ بھی ملالیں تو سب مل کر ایک سو ساٹھ گناہ ہو جائیںگے، اور اگر اس کے ساتھ اس نماز کے نہ لوٹانے کا گناہ بھی ملا لیں تو اب مجموعہ ایک سواسّی گناہ ہو جائیں گے، اور اس کے ساتھ ساتھ ان مذکورہ چیزوں کا ترک کرنا اس کا سبب ہو جاتا ہے کہ انتقالات کے اندر جو ذکر ہیں وہ تمام انتقالات کے بعد ادا کیے جائیں اور انتقالات کے اندر مقرر کیے ہوئے اذکار کو بعد میں ادا کرنے میں دو قباحتیں ہیں؛ ایک تو اس کے موقع پر ادانہ کرنا اور دوسرے اس کو بے موقع ادا کرنا، تو اب ہر رکعت میں چار مکروہ ہوئے اور اس کی وجہ سے چار سنتوں کا ترک لازم آتا ہے، کیوں کہ جس نے قومہ یا اس کے اطمینان کو چھوڑ دیا تو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ اور اَللہُ اَکْبَرْ جھکتے وقت ادا ہوگا بلکہ اَللہُ اَکْبَرْسجدے میں واقع ہوگا، اور سنت یہ ہے کہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ  رکوع سے سر اٹھاتے وقت کہے اوراَللہُ اَکْبَرْ سجدے کے لیے جھکتے وقت کہے۔ اسی طرح اگر جلسہ یا اس کا اطمینان چھوڑ دیا جائے تو پہلی تکبیر کا کچھ حصہ جھکتے وقت ادا ہوگا بلکہ دوسری تکبیر کا کچھ حصہ سجدے میں جانے کے بعد پڑھےگا، حالاں کہ سنت پہلی تکبیر کا سر اٹھاتے وقت کہنا ہے اور دوسری تکبیر کا جھکتے وقت، تو اب مکروہات کا شمار تمام رکعتوں میں اسّی ہو جائےگا جس کی وجہ سے اسّی سنتوں کا چھوڑ نا لازم آئےگا، اور جب ان مکروہات کے اظہار کا گناہ بھی اس میں شامل کر لیں تو اب مجموعہ ایک سو ساٹھ مکروہات کا ارتکاب اور ایک سو ساٹھ سنتوں کا ترک ہوا، اب جو شخص رمضان کی مبارک راتوں میں سے ہر رات فقط تراویح میں اسّی گناہ اور ایک سو ساٹھ مکروہات کا ارتکاب کرتا ہو اور ایک سو ساٹھ سنتوں کو چھوڑتا ہو تو کیا ایسے شخص کا شمار عقلا میں ہو سکتا ہے؟ حالاں کہ ہر سنت کے چھوڑنے میں ایک خاص عتاب اور شفاعت سے محرومی ہے، پس کیا کوئی عاقل اس بات کو پسند کر سکتا ہے کہ اپنے کو رسولِ خدا ﷺ کی شفاعت سے محروم کر دے جن کی شفاعت کی اللہ کی تمام مخلوق حتی کہ انبیاو اولیاو صلحا خواست گار ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ خدا ہم کو محروم لوگوں میں سے نہ کرے، آمین ثم آمین ۔
صاحبِ مجالس الابرار کے اس تفصیلی بیان کو بار بار پڑھیے اور پھر اپنی تراویح پر نظر ڈالیے کہ ہماری تراویح میں یہ تمام خرابیاں ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں ہیں تو خدا کا شکر ادا کیجیے اور اگر ہیں تو ان خرابیوں کی اصلاح کی کوشش کیجیے اور یہ اسی وقت ہو سکے گا جب کہ حافظ صحیح خواں اور سنت کے مطابق نماز ادا کرنے والا ہو اور مقتدی بھی ذوق وشوق سے اس عظیم عبادت کو عبادت اور تقربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھ کرادا کرنے کی فکر کریں، کچھ وقت زیادہ صَرف ہو تو اس کا خیال نہ کیا جائے کہ وقت عبادت ہی میں صَرف ہو رہا ہے۔
تیز پڑھنا مطلقاً قابلِ مذمت نہیں ہے، اسی لیے قرّا نے قراءت کے تین درجے مقرر کیے ہیں: ترتیل، تدویر ، حدر۔ ترتیل میں آہستہ پڑھا جاتا ہے، تدویر میں اس سے تیز اور حدر میں اس سے تیز، مگر شرط یہ ہے کہ صحت اور صفائی میں کوئی خرابی نہ آنے پائے۔ خدارا! تراویح کی عظمت کو سمجھیے اور اس میں ہونے والی اغلاط کی اصلاح کیجیے۔
اللہ تعالیٰ تمام مومنین کو توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔

[ہماری کتاب ’فقہِ رمضان‘ سے ماخوذ]

qvq

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here