Home Dept of Islamic Studies Articles مفتی کا منصب اور مفتیانِ کرام کے داخلی و خارجی مسائل (۱)

مفتی کا منصب اور مفتیانِ کرام کے داخلی و خارجی مسائل (۱)

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

شریعتِ اسلامیہ میں ’فتویٰ‘ محض ایک قانونی رائے یا ذاتی خیال کا نام نہیں بلکہ یہ باری تعالیٰ کے احکامات کی ترجمانی اور رسول اللہ ﷺ کے منصبِ تبلیغ کی نیابت کا نام ہے۔ امام ابن القیمؒ نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’اعلام الموقعین عن رب العالمین‘ میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ مفتی اس کائنات کے خالق و مالک کی طرف سے دستخط کرنے والا ہوتا ہے۔ یہ منصب جتنا بلند ہے، اس کی ذمّےداریاں اتنی ہی گراں ہیں۔ سلف کا حال یہ تھا کہ وہ فتویٰ دینے سے اس طرح لرزتے تھے جیسے کوئی دہکتی آگ کے قریب کھڑا ہو۔ امام شعبیؒسے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا۔ لیکن دورِ حاضر میں جہاں ٹیکنالوجی اور پیچیدہ معاشی نظام نے زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے، ایک مخلص مفتی کو ہمہ جہت محاذوں پر نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ اسے ایک طرف علمی باریکیوں کا تو دوسری طرف داخلی خلفشار، انتظامی جکڑبندیوں، اور عوامی بے حسی جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

علمی اشتغال اور لوگوں کا رویہ

ایک محقق مفتی کی زندگی کتابوں کے درمیان گزرتی ہے۔ راتوں کو جاگ کر مراجع کی تلاش اور دن میں سائل کے جوابات میں وہ اس قدر محو رہتا ہے کہ اسے اپنے اہلِ خانہ اور بچوں کو دینے کے لیے مناسب وقت نہیں مل پاتا۔ مفتی کا علمی شغف خاندان کی خوشی غمی کی تقریبات میں شریک ہونے سے مانع ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قریبی دوست احباب اور رشتے دار اس سے ناراض رہتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی کرب ہے جو مفتی تنہا سہتا ہے۔ویسے تو اب شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں مفتی صاحب کو بعض مرتبہ مدعو ہی نہیں کیا جاتا کہ وہ آئیں گے تو کسی بات پر ٹوکیںگے۔ لوگ بدعتوں، ناچ گانوں اور فضول خرچیوں میں کسی قسم کی شرعی مداخلت نہیں چاہتے۔ ان کا ماننا ہے کہ مفتی کا کام صرف نکاح پڑھانا ہے، انھیں زندگی کے دیگر معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ معاشرہ دین کو صرف ایک رسم بنا چکا ہے، اسے نظامِ زندگی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

قانونی تلوار کا خوف

موجودہ دور میں مفتی کا قلم صرف شرعی حدود کا پابند نہیں رہا بلکہ اسے ملکی قوانین کی سنگین جکڑ بندیوں کا بھی سامنا ہے۔ بعض اوقات خالص شرعی مسئلہ بیان کرنے پر بھی نفرت انگیزبیان [Hate Speech] یا انتہا پسندی کے جھوٹے الزامات کی تلوار لٹکنے لگتی ہے۔ ذرا سی لفظی لغزش یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا فتویٰ مفتی کے لیے وبالِ جان بن سکتا ہے۔ یہ خوف مفتی کو بہت سے حساس مسائل پر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

لومۃ لائم اور حق گوئی کا داخلی محاذ

مفتی کا اولین فریضہ اللہ اور رسول اللہ کا حکم بلا کم و کاست بتانا ہے۔ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مصلحت پسندی اورلوگوں کی ملامت کا ڈر ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخْشَوْنَهٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ ۭ﴾ [الاحزاب: 39]اس آیت میں انبیاےکرامؑاور ان کے وارثین کی صفت بیان کی گئی ہے جو تبلیغِ دین میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔ مفتی کے لیے یہ ایک بڑا داخلی امتحان ہے کہ وہ کسی طاقت ور گروہ یا مروجہ رسم کے خلاف فتویٰ دیتے وقت صرف اللہ سے ڈرے، اگر وہ معاشرتی دباؤ میں آ کر حکمِ شرعی کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے تو وہ اس سخت وعید کا مستحق ہو سکتا ہے: ﴿اُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ؁﴾[البقرۃ: 159]

ادارہ جاتی مصلحتیں اور انتظامی بیڑیاں

آج کل اکثر مفتیانِ کرام کسی ادارے، ٹرسٹ یا مخصوص شخصیت کے زیرِ انتظام فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ منتظمین کی یہ خاموش بلکہ برملا خواہش ہوتی ہے کہ مفتی صاحب کوئی ایسی بات نہ کہیں جس کی زد ادارے کے مفادات، بانیوں کے نظریات یا ان کے مالی معاونین [Donors] پر پڑتی ہو۔جب کہ مفتی کی زبان کسی کی زرخرید لونڈی نہیں ہونی چاہیے۔ ’بخاری‘ میں حضرت نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ. اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔ [بخاری: 7145] ’ابوداود‘ میں ہے: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ. اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں، اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔ [ابوداود: 2625]امام ابو حنیفہؒنے قاضی کا منصب اسی لیے ٹھکرا دیا تھا کہ وہ شاہی دباؤ سے آزاد رہ کر دین کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن اس عظیم منصب کو انتظامیہ کا تابع نہیں ہونے دیا۔ امتِ مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ مفتیانِ کرام کی تمام ضروریات کی کفالت کی ذمّے داری خود اٹھائے۔ جب تک مفتی کی معاشی باگ ڈور کسی ایک فرد یا مخصوص ادارے کے ہاتھ میں رہے گی، اس کی زبان پر مصلحتوں کے تالے لگنے کا اندیشہ رہے گا۔ مقامی سطح پر ایسے فنڈز وغیرہ قایم ہونے چاہئیں جو محقق مفتی کی ضروریات، کتب کی فراہمی اور اس کے گھر کے اخراجات کو پورا کر سکیں۔ جب مفتی معاشی طور پر بےفکر ہوگا، تبھی وہ بے خوف ہو کر افتا کی ذمّےداری انجام دے سکے گا۔

آپسی نزاعات میں مفتی کا استعمال

بہت سے سائل رضاے الٰہی یا مسئلہ معلوم کرنے کے لیے نہیں آتے بلکہ وہ مفتی کو اپنے خاندانی یا کاروباری جھگڑوں میں ایک ’فریق‘ بنانا چاہتے ہیں۔ وہ آدھی ادھوری اور یک طرفہ معلومات فراہم کر کے ایسا فتویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے مخالف فریق کو نیچا دکھایا جا سکے۔ اگر مفتی اپنی بصیرت سے کام لے کر غیر جانب دار رہا تو وہی سائل اس کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں، ورنہ اسے یرغمال بنا لیتے ہیں۔

خواہشِ نفس کی تکمیل کا مطالبہ

آج کل سائل مفتی سے اپنے قول و عمل کی تصدیق کرانے آتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مفتی وہی کہے جو اُن کے مزاج کے موافق ہو۔ اگر مفتی کا جواب سائل کے مزاج کے خلاف ہوا تو وہ ’فتویٰ شاپنگ‘ شروع کر دیتے ہیں یعنی ایک مفتی سے دوسرے مفتی کے پاس جانا، جب تک کہ انھیں اپنی مرضی کا جواب نہ مل جائے۔ اس صورتِ حال میں حق گو مفتی کو سائل کی بدزبانی اور معاندانہ رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سائل کی عجلت پسندی

جدید دور کا انسان فوری [Instant] نتائج کا عادی ہو چکا ہے۔ سائل چاہتا ہے کہ وہ اپنے پیچیدہ معاملات و مسائل کا جواب ایک فون کال پر ایک منٹ میں حاصل کر لے۔ جب کہ شرعی مسائل، خاص طور پر جدید مسائل میں مراجعتِ کتب، غور و فکر اور بسا اوقات اجتماعی مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔امام مالکؒنے ایک مجلس میں اکثر مسائل میں لا اَدری (میں نہیں جانتا) کہہ کر جس علمیت اور خشیت کا ثبوت دیا، وہ اب مفقود ہے۔ موجودہ معاشرہ مفتی کی اس احتیاط کو اس کی کم علمی کا نام دے کر اس کا مذاق اڑاتا ہے اور بعض مفتی بھی اس سے متاثر ہو جاتے ہیں۔

تسامح اور بشری لغزش کی عدم گنجائش

مفتی معصوم نہیں ہوتا، وہ تحقیقِ حق کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔ تحقیق میں کوتاہی یا کسی پوشیدہ پہلو کے رہ جانے کی وجہ سے اس سے خطا ممکن ہے۔موجودہ دور میں اگر کسی مفتی سے احتیاط کے باوجود کوئی علمی تسامح ہو جائے تو اس کی پچھلی ساری خدمات کو نظر انداز کر کے اسے عوامی سطح پر رسوا کیا جاتا ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا اجر ملتا ہے اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا اجر ملتا ہے۔ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ.[بخاری: 7352]

عوامی عدالتیں اور سوشل میڈیا ٹرائل

جدید دور کا ایک بڑا فتنہ سوشل میڈیا ٹرائل ہے۔ اگر کسی مفتی سے کوئی علمی تسامح ہو جائے یا وہ کوئی ایسی بات کہہ جائے جو لبرل طبقے یا کسی مخصوص گروہ کو ناگوار گزرے تو فوراً اس کے خلاف مہم چلا دی جاتی ہے۔ ہزاروں لوگ جو علمِ دین کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہوتے، وہ فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام وغیرہ پر اس کی تضحیک کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال مفتی کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔

علمی سرقہ اور کریڈٹ سے محرومی

یہ بھی ایک بڑا المیہ ہے کہ ایک محقق مفتی ہفتوں کی عرق ریزی اور درجنوں کتابوں کی ورق گردانی کے بعد ایک تحقیقی فتویٰ تیار کرتا ہے، لیکن جدید تکنیک کے اس دور میں دوسرے لوگ اس کے نام و نسبت کو حذف کر کے اسے اپنے نام سے یا صرف ’منقول‘ لکھ کر شائع کر دیتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ مفتی کی محنت کا پھل دوسرے لوگ سمیٹ لیتے ہیں اور اصل محقق پسِ منظر میں چلا جاتا ہے بلکہ بعض اثرورسوخ رکھنے خود اس لکھنے والے ہی پر سرقے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ یہ علمی بددیانتی محقق کے حوصلوں کو پست کرنے کا سبب بنتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here