جب انجکشن سے علاج ہو سکے تو روزہ نہ توڑے
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب مدظلہ! انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا، توجب کسی کا علاج صرف انجکشن سے ممکن ہو تو کیا اسے پھر بھی روزہ توڑنے کی اجازت ہوگی؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً: اگر روزہ چھوڑنے کی صورت میں مرض کی شدت یا مدت میں اضافے کا ظنِ غالب ہو تو افطار جائز ہے صرف قضا واجب ہے کفارہ نہیں، اگر انجکشن سے علاج ہو سکے تو روزہ توڑنا جائز نہیں ہے۔[احسن الفتاویٰ] فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






![انشورنس [Insurance]میں جمع کرائی گئی رقم پر زکوٰۃ](https://afif.in/wp-content/uploads/2026/03/33-Insurance-ki-raqam-par-zakat-100x70.jpg)