Home Dept of Islamic Studies Articles حرمین شریفین جانے سے پہلے حاضری کے آداب سیکھ لیں

حرمین شریفین جانے سے پہلے حاضری کے آداب سیکھ لیں

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

اسلامی زندگی میں حرمین شریفین (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) کی زیارت وہ تمنّا ہے جو ہر مومن کے دل میں موجزن رہتی ہے۔ یہ محض ایک سفر نہیں، بلکہ خالقِ کائنات اور اس کے حبیب کے دربار میں حاضری کا ایک مقدس موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے چنیدہ بندوں کو اپنے گھر اور اپنے حبیب کے در پر بلاتا ہے، جہاں ایک ایک لمحہ لاکھوں نیکیوں کے برابر اور ایک ایک سانس برکتوں کا خزینہ ہے۔ تاہم، اس بارگاہِ عالی کے کچھ تقاضے اور بہت سے آداب ہیں، جن سے واقفیت ہر زائر کے لیے لازم ہے۔ آداب کی رعایت نہ صرف اجر و ثواب میں اضافے کا باعث ہے، بلکہ ان سے غفلت انسان کو ایسی محرومی میں دھکیل سکتی ہے جس کا اسے احساس تک نہیں ہوتا۔ زیرِ نظر مضمون میں اسی اہم پہلو کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔

حج و عمرے کی اہمیت

علامہ شامیؒ فرماتے ہیں کہ عبادات میں سب سے افضل نماز، پھر زکوٰۃ، پھر روزہ، پھر حج، پھر عمرہ، پھر جہاد اور پھر اعتکاف ہے۔أن الأفضل الصلاۃ ثم الزکاۃ ثم الصیام ثم الحج ثم العمرۃ و الجھاد و الإعتکاف.[فتاویٰ شامی]

شوقِ زیارت اور حاضری کا شرف

دور دراز رہنے والوں کو عموماًحج و عمرے کی غرض سے ہی حرمین شریفین کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔ مہبطِ انوار اور مسکنِ سیدِ ابرار کی زیارت کے شرف سے مشرف ہونا ایسی عظیم ترین نعمت ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ زندگی بھر کے انتظار کے بعد گاڑھی کمائی اور ایک ایک پائی جمع کر کے اس دیار میں جذبۂ شوق سے مخمور ہو کر سَر کے بَل حاضر ہوتے یا حاضر ہونے کی تمنا رکھتے ہیں، وہی اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں!

ہماری غفلت اور محرومی

جو لوگ مال و دولت کی فراوانی کے سبب محض سیرسپاٹے کی غرض سے وہاں پہنچ جاتے ہیں اور حاضری کے آداب و مسائل سے لابلد رہتے ہیں وہ سخت محروم ہیں، افسوس کہ انھیں اس محرومی پر افسوس تک نہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا محض فضل و احسان ہے کہ ہم ایسوں کو حرمین شریفین زادہ اللہ شرفاً و تکریماًمیں قدم رکھنے کی اجازت مرحمت فرما دیتے ہیں، ورنہ تو یہ سر ہو اور وہ در ہو تب بھی بےادبی محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیےکہ مکمل آداب کی رعایت و اہتمام کے ساتھ حاضرہوں۔

حرمین کی حرمت اور سوشل میڈیا

کیمرے اور سوشل میڈیا کے ناجائز استعمال نے حرمین شریفین کی حرمت کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے، بعض بےادب وہاں بھی باقاعدہ وِلاگ (vlog)اور ٹِک ٹاک (TikTok)بناتے نظر آتے ہیں۔ ویسے تو دنیا کے کسی بھی خطّے میں بےحیائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، چہ جائے کہ بیت اللہ اور مسجدِ نبوی میں حضور ﷺ کی موجودگی میں ایسی حرکتیں کی جائیں۔ربِ کبریا اور محبوبِ کبریا کے سامنے ایسے اعمال و افعال نیکی برباد اور گناہ لازم کر دینے کے لیے کافی ہیں، الأمان والحفیظ۔

قرآنی ہدایات اور آدابِ نبوی

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۂ حجرات میں ارشاد فرمایا: (۱)﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝﴾اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً سب کچھ سنتا، سب کچھ جانتا ہے (۲)﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۝﴾اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمھیں پتا بھی نہ چلے (۳)﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْم۝﴾ یقین جانو جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقوے کے لیے منتخب کرلیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی (۴)﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۝﴾ (اے پیغمبر) جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے آواز دیتے ہیں ان میں سے اکثر کو عقل نہیں ہے (۵)﴿وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝﴾ اگر وہ آپ کے باہر آنے تک صبر کرتے تو اُنھیں کے لیے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ [الحجرات]

ان پانچ آیتوں کی تفسیر و تشریح

سورۂ حجرات کی یہ ابتدائی پانچ آیتیں ایک خاص موقع پر نازل ہوئی تھیں، حضورِ اقدس ﷺ کے پاس عرب کے قبائل کے بہت سے وفد آتے رہتے تھے اور آپ ان میں سے کسی کو آیندہ کے لیے قبیلے کا امیر مقرر فرما دیتے تھے، ایک مرتبہ قبیلۂ تمیم کا ایک وفد آپ کی خدمت میں آیا، ابھی آپ نے ان میں سے کسی کو امیر نہیں بنایا تھا اور نہ اس سلسلے میں کوئی بات کی تھی لیکن آپ کی موجودگی میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓنے یہ مشورہ شروع کردیا کہ ان میں سے کس کو امیر بنایا جائے؟ حضرت ابوبکرؓ نے ایک نام لیا اور حضرت عمرؓنے دوسرا، پھر ان دونوں بزرگوں نے اپنی اپنی رائے کی تائید اس طرح شروع کردی کہ کچھ بحث کا سا انداز پیدا ہوگیا اور اس میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں، اس پر پہلی تین آیتیں نازل ہوئیں؛ پہلی آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جن معاملات کا فیصلہ آپ ﷺ کو کرنا ہو اور آپ نے ان کے بارے میں کوئی مشورہ بھی طلب نہ فرمایا ہو ان معاملات میں آپ سے پہلے ہی کوئی رائے قایم کرلینا اور اس پر اصرار یا بحث کرنا آپ کے ادب کے خلاف ہے۔ اگرچہ یہ پہلی آیت اس خاص واقعے میں نازل ہوئی تھی لیکن الفاظ عام استعمال فرمائے گئے ہیں تاکہ یہ اصولی ہدایت دی جائے کہ کسی بھی معاملے میں آپ ﷺ سے آگے بڑھنا مسلمانوں کے لیے درست نہیں ہے، اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اگر آپ ﷺ کے ساتھ چلنا ہو تو آپ سے آگے نہ بڑھنا چاہیے، نیز آپ نے زندگی کے مختلف شعبوں میں جو حدود مقرر فرمائی ہیں ان سے آگے نکلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے بعد دوسری اور تیسری آیتوں میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ آپ کی مجلس میں بیٹھ کر اپنی آواز آپ کی آواز سے بلند نہیں کرنی چاہیے اور آپ سے کوئی بات کہنی ہو تو وہ بھی بلند آواز سے نہیں کہنی چاہیے بلکہ آپ کی مجلس میں آواز پست رکھنے کا اہتمام ضروری ہے۔ [توضیح القرآن]

حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ مسلمانو ! تم رسول اللہ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے اور بےمحابا جہر کرنے سے بچو کیوں کہ ایسا کرنے میں خطرہ ہے کہ تمھارے اعمال حبط اور ضایع ہوجائیں، اور وہ خطرہ اس لیے ہے کہ رسول سے پیش قدمی یا ان کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کر کے غالب کرنا ایک ایسا امر ہے جس سے رسول کی شان میں گستاخی اور بےادبی ہونے کا بھی احتمال ہے، جو سبب ہے ایذاے رسول کا، اگرچہ صحابۂ کرامؓسے یہ وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ بالقصد کوئی ایسا کام کریں جو آپ ﷺکی ایذا کا سبب بنے لیکن بعض اعمال و افعال جیسے تقدم اور رفعِ صوت اگرچہ بہ قصدِ ایذا نہ ہوں پھر بھی ان سے ایذا کا احتمال ہے، اسی لیے ان کو مطلقاً ممنوع اور معصیت قرار دیا ہے، اور بعض معصیتوں کا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے کرنے والے سے توبہ اور اعمالِ صالحہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے اور وہ گناہوں میں منہمک ہو کر انجام کار کفر تک پہنچ جاتا ہے جو سبب ہے حبطِ اعمال کا۔[معارف القرآن، دیکھیے تفسیر بیان القرآن]
قاضی ابوبکر ابنِ عربیؒنے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور ادب آپ کی وفات کے بعد بھی ایسا ہی واجب ہے جیسا حیات میں تھا، اسی لیے بعض علما نے فرمایا کہ آپ کی قبر شریف کے سامنے زیادہ بلند آواز سے سلام و کلام کرنا بھی ادب کے خلاف ہے۔[معارف القرآن]
اندازہ کیجیے کہ جہاں سلام اور مباح کلام کے متعلق یہ ہدایت ہے، وہاں مکروہ و ممنوع اعمال و افعال کا کیا حکم ہوگا؟

مختصر یہ کہ حرمین شریفین کی حاضری کےبہت سے احکام و آداب ہیں اس لیے کہ مکّہ معظمہ احکم الحاکمین کا سب سے بڑا دربار اور مدینہ منورہ سیدالانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آرام گاہ ہے۔ اس لیے جسمانی، ذہنی اور روحانی ہر اعتبار سے مکمل تیاری کے بعد اس جانب رختِ سفر باندھنا چاہیے۔جس طرح ویزا اور ٹکٹ کا پہلے سے انتظام کیا جاتا ہے،اس سے کہیں زیادہ اہتمام فضائل و مسائل سیکھنے کا ہونا چاہیے۔ حرمین شریفین کا سفر محض ایک ظاہری سفر نہیں بلکہ اپنی اصلاح اور اللہ و رسول اللہ ﷺ کی رضا حاصل کرنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ اگر اس سفر میں ادب اور تواضع کو ملحوظ نہ رکھا جائے، تو نیکیوں کا یہ عظیم سفر وبالِ جان بھی بن سکتا ہے۔ آج کے دور میں جب نمائش اور غفلت عام ہے، ہمیں اپنے باطن کی صفائی اور ان مقدس مقامات کی عظمت کا پاس رکھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے گھر اور اپنے محبوب کے در کی باادب حاضری نصیب فرمائے اور ہمارے حج و عمرے کو شرفِ قبول عطا فرمائے۔ آمین

(کالم نگار مشہور عالمِ دین، تقریباً پچاس کتابوں کے مصنف اور الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی کے صدر و مفتی ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here