Home Dept of Islamic Studies Articles علمِ دین کی عظمت و فضیلت اور اس کے تقاضے

علمِ دین کی عظمت و فضیلت اور اس کے تقاضے

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

اللہ تبارک و تعالیٰ نے کائناتِ ہستی کی تخلیق کا مقصدِ اصلی اپنی معرفت اور بندوں کی رشد و ہدایت کو قرار دیا ہے، اور اس نورِ ہدایت کی ترسیل کے لیے علم کو سب سے بڑا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی ﴿اِقْرَاْ﴾ سے لے کر احادیثِ مبارکہ کی تابناک روشنی تک، علم، طلبِ علم اور اہلِ علم کا مقام ہر بلندی سے فروزاں ہے۔انسانی زندگی کی کامیابی، بندگی کی معراج اور دنیا و آخرت کی فلاح کا انحصار اسی لامتناہی چشمۂ علم پر ہے، جس کے بغیر انسان تاریکیوں اور گمراہیوں کے بھنور میں بھٹکتا رہتا ہے۔

علم و عمل کا باہمی تعلق

امام بخاریؒ نے باب قائم کیا ہے: الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَ الْعَمَلِ: علم قول و عمل سے مقدَّم ہے۔ جب آپ کسی چیز کا علم حاصل کریںگے تب اس کو اپنی تقریر میں کہہ سکیںگے، تو علم قول سے مقدم ہوا۔ اسی طرح کسی بات پر عمل اُس وقت ہوگا جب اُس سے واقف ہوںگے، تو علم عمل سے مقدم ہوا، جیسے نماز کاطریقہ ہی معلوم نہیں تو نماز کیسے پڑھیںگے، لہٰذا علم کو قول و عمل پر سبقت حاصل ہے۔ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ اگر علم حاصل کیا اور اس پر عمل نہیں کیا تو اس پر بڑی وعیدیں آئی ہیں لہٰذا علم ہی حاصل مت کرو، ایسا کرنے سے بچ جاؤگے؛ وعید کے ڈر سے علم حاصل نہ کرنا، اچھی بات نہیں ہے۔ علم حاصل کرنا ایک اونچا مقام ہے، علم کا درجہ عمل کے مقابلے میں بڑا ہے، علم حاصل کرنے میں آدمی کو پس پائی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ تقدمِ زمانی تو ہے ہی، تقدمِ رُتبی بھی ہے، اس لیے کہ عمل جوارح سے ہوتا ہے اور علم قلب سے تعلق رکھتا ہے، ظاہر ہے قلب کا عمل جوارح کے عمل سے بڑھا ہوا ہے۔(دیکھیے تقریرِ بخاری)

قرآن و سنت میں علم کا مقام و مرتبہ

ارشادِ ربانی ہے:تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کو درجوں میں بلند کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔(المجادلۃ) ایک جگہ ارشاد فرمایا: کہو کہ کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، سب برابر ہیں ؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (الزمر) حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نااہل کو علم دینے والا سوروں کی گردن میں جواہر، موتی اور سونا پہنانے والے کی طرح ہے۔(ابن ماجہ) حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ (ترمذی ) حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علم سیکھنے کے لیے کوئی راستہ اختیار کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا ایک راستہ آسان کردیتے ہیں۔ (ترمذی ) حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص علم کی تلاش میں نکلے وہ واپس لوٹنے تک اللہ کے راستے میں ہے۔ (ترمذی) حضرت زِر بن حُبیشؓفرماتے ہیں، میں حضرت صفوان بن عَسَّالؓمُرادی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے کہا:کیسے آئے؟ میں نے عرض کیا: علم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؛ جو شخص بھی علم کی طلب میں اپنے گھر سے نکلے، فرشتے اس کے عمل کو پسند کرنے کی وجہ سے اس کے لیے پر پھیلا لیتے ہیں۔ (ابن ماجہ ) حضرت ابوہریرہؓکہتے ہیں، میں نے سنا، رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے تھے: دنیا ملعون ہے، اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے، مگر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور عالم اور طالبِ علم۔(ابن ماجہ)

حسد دو لوگوں پر

حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسد دو ہی لوگوں میں جائز ہے؛ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور راہِ حق میں خرچ کرنے کی قدرت دی، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی اور وہ اس کے ذریعے فیصلہ کرتا اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ (بخاری)

علم دین کی اشاعت اور اس کی خیروبرکت

حضرت سہل بن سعدؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا: اللہ کی قسم! تمھاری رہنمائی سے اگر اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت عطا فرما دیں تو یہ تمھارے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔(ابوداؤد) حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا اُس کے لیے اُس راستے پر چلنے والوں کے مثل ثواب ہے، اور اِس سے اُن کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا، اور جس نے لوگوں کو گناہ کی طرف بلایا اُس کے لیے بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا اُس کی اتباع کرنے والوں پر، اور اِس میں بھی اُن کے گناہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔(ترمذی)

علما کی عظمت اور شفاعت

حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک فقیہ شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے بھی زیادہ سخت ہے۔(ترمذی) حضرت عثمان بن عفانؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قیامت کے دن تین لوگ شفاعت کریں گے:انبیا، پھر علما، پھر شہدا۔(ابن ماجہ)

علم اٹھ لیا جائےگا

حضرت ابوامامہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس (دینی) علم کو ضرور حاصل کرلو، اس سے پہلے کہ یہ قبض کر لیا جائے، اور اس علم کا قبض کر لیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے، اور آپ ﷺ نے درمیان والی اور شہادت کی انگلی ملا کر فرمایا: عالم اور طالبِ علم اجر میں شریک ہیں اور باقی تمام لوگوں میں کوئی خیر نہیں۔(ابن ماجہ ) حضرت انسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ علم اٹھ جائےگا اور جہالت قائم ہوجائے گی اور شراب پی جانے لگےگی اور زنا اعلانیہ ہونے لگےگا۔ (بخاری) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓکہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائےگا کہ بندوں (کے سینوں سے) نکال لے، بلکہ علما کو موت دے کر علم کو اٹھائےگا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہےگا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیںگے اور ان سے (مسائل) پوچھے جائیںگے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے؛ خود بھی گم راہ ہوںگے اور دوسروں کو بھی گم راہ کریںگے۔(بخاری)

خلاصۂ کلام

علمِ دین کی تحصیل، اس کی اشاعت اور اس پر عمل پیرا ہونا وہ مقدس اور گراں قدر فریضہ ہے جس پر زمین و آسمان کی کائنات رشک کرتی ہے۔ علم کے بغیر نہ تو حقیقی بندگی کا تصور ممکن ہے اور نہ ہی اعمال کی درستگی کی کوئی ضمانت ہو سکتی ہے۔ قرآن و سنت کے ارشادات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ علم ہی وہ نور ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، اور اہلِ علم و دانش کو معاشرے میں بلند ترین مقام عطا کرتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کا یہ بنیادی فریضہ ہے کہ وہ علمِ دین کی شمع کو اپنے سینوں میں روشن رکھے، اس کی حفاظت اور اشاعت میں اپنا حصہ ڈالے اور جہالت کے اندھیروں کے خلاف علمی و عملی جدوجہد جاری رکھے تاکہ دنیا و آخرت کی فلاح و کامرانیاں مقدر بن سکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here