قرض کی ادایگی میںسُستی یا ٹال مٹول کرنا اخلاقی و شرعی جرم

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

قرض کی ادایگی میں ٹال مٹول کرنا نہ صرف ایک اخلاقی پستی ہے بلکہ شرعی لحاظ سے بھی سنگین جرم ہے۔ اسلام نے جہاں ضرورت مندوں کی داد رسی کے لیے ’قرضِ حسنہ‘ کی ترغیب دی ہے، وہیں مقروض پر یہ ذمّےداری بھی عائد کی ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اسے لوٹانے کی فکر کرے۔بدقسمتی سے آج کے دور میں امانت داری کا فقدان عام ہو چکا ہے۔ لوگ قرض تو لے لیتے ہیں مگر واپسی کی فکر نہیں کرتے، یہاں تک کہ بعض نے قرض لے کر واپس نہ دینے کو آرٹ سمجھ لیا ہے۔ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ بدنیتی ان کی اپنی عاقبت برباد کر رہی ہے۔ اس رویے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ معاشرے میں باہمی ہم دردی کا جذبہ دم توڑنے لگا؛ جو لوگ مالی مدد کی استطاعت رکھتے ہیں، وہ بھی تلخ تجربات کی بنیاد پر پیچھے ہٹنے لگے ہیں۔آج صورتِ حال یہ ہے کہ کسی کی مدد کرنا گویا خود کو مشکل میں ڈالنے کے مترادف بن چکا ہے۔ ایک تلخ مثال ان صاحب کی ہے جنھوں نے جذبۂ خیر سگالی کے تحت کسی کو حج و عمرے کے لیے اس شرط پر رقم دی کہ واپسی پر ترجیحی بنیادوں پر قرض ادا کیا جائےگا، مگر افسوس کہ وہ رقم آج تک قسطوں کی صورت میں اٹکی ہوئی ہے۔

اچھی نیت کا اچھا اثر

اسلامی تعلیمات کے مطابق قرض لینے والے کی نیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر نیت صاف ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد شاملِ حال ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے ادا کرےگا، اور جو کوئی ادا نہ کرنے کے لیے کسی کا مال لے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو تباہ کر دےگا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ”. [بخاری، کتاب الاستقراض، باب: من أخذ أموال الناس یرید أداھا أو اتلافھا]

اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی انتظام

حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے، جس نے کوئی قرض لیا اور دل میں ادایگی کا قصد رکھا پھر وہ فوت ہو گیا تو اللہ پاک اس سے درگزر کرےگا، اور اس کے قرض دار کو ہر حال میں راضی کرلےگا، اور جس نے ادا نہ کرنے کی نیت سے قرض لیا اور پھر مرگیا تو اللہ پاک اس کے قرض خواہ کے لیے قیامت کے دن ضرور بدلہ لے گا۔ من دانَ بدينٍ وفي نفسه وفاءه فمات تجاوزَ اللہ عنه وأرضى غريمه بما شاء ومن دان بدينٍ وليس في نفسه وفاءه فمات اقتصَّ اللہُ لغريمه منه يوم القيامة.عن أبي أمامة. [کنزالعمال]

جب قرض ناپسندیدہ چیز کے لیے نہ ہو

حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرض لینے والے کے ساتھ ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، بہ شرط یہ کہ قرض ایسے مقصد کے لیے نہ ہو جو اللہ کو ناپسند ہو۔ ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “كَانَ اللَّهُ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ”. [ابن ماجہ، کتاب الصدقات، باب: من ادان دنیا وھو ینوی قضاءہ]

قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے

اگر کوئی شخص استطاعت اور حیثیت کے باوجود وقت پر قرض ادا نہ کرے یا ٹال مٹول سے کام لے، تو شریعت میں اسے ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مال دار کا قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔‏عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ”. [بخاری، کتاب الاستقراض، باب: مطل الغنی ظلم] علما نے کہا کہ اس ٹال مٹول کی وجہ سے مقروض کی گواہی اور اس کی عدالت بھی متاثر ہوتی ہے کیوں کہ یہ گناہِ کبیرہ ہے۔

سب سے بڑا گناہ

حضرت ابوموسیٰ اشعریؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ کے نزدیک ان کبائر کے بعد -جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے- سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مرے اور اس پر قرض ہو، اور وہ کوئی ایسی چیز نہ چھوڑے جس سے اس کا قرض ادا ہو۔ ‏حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ “إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا عَبْدٌ بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَمُوتَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَدَعُ لَهُ قَضَاءً”. [ابوداود، کتاب البیوع، باب: فی التشدید فی الدین]

قرض شہید کا بھی معاف نہیں

قرض کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں جان دینے والے یعنی شہید کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، لیکن قرض معاف نہیں کرتا۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہید سے سوائے قرض کے سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ “. [مسلم، کتاب الامارۃ، باب: من قتل فی سبیل اللہ کفرت خطایاہ إلا الدین]

ہر دن رات میں ایک گناہ

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی بندہ ایسا نہیں جو اپنے قرض خواہ (جس سے قرض لیا ہے، اس) پر ظلم کرے -جب کہ وہ قرض ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو؛ مگر اللہ تعالیٰ اس پر دن رات ایک گناہ لکھ دیتا ہے۔لَیْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْوِيْ غَرِيْمَهُ وَهُوَ يَجِدُ إِلَّا كَتَبَ اللہُ عَلَيْهِ فِيْ كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِثْماً .[معجم طبرانی اوسط]

قرض ادا نہ کرنے والوں کا اخروی انجام

جو لوگ اس نیت سے قرض لیتے ہیں کہ اسے ادا نہیں کریںگے، قیامت کے دن انھیں چور کی حیثیت سے اٹھایا جائےگا۔حضرت صہیبؓسے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی قرض لے اور اس کی نیت یہ ہو کہ اسے ادا نہیں کرےگا، وہ اللہ تعالیٰ سے چور کی حالت میں ملے ۔ ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا صُهَيْبُ الْخَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ “أَيُّمَا رَجُلٍ يَدِينُ دَيْنًا وَهُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا يُوَفِّيَهُ إِيَّاهُ لَقِيَ اللَّهَ سَارِقًا”. [ابن ماجہ، کتاب الصدقات، باب: من ادان دنیا لم ینو قضاءہ]

قرض ادا نہ کرنے والوں کا دنیوی انجام

حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مال دار کا قرض کی ادایگی میں ٹال مٹول سے کام لینا اس کی بےعزتی اور سزا کو حلال کردیتا ہے۔ ابنِ مبارکؒنے کہا : ’اس کی بےعزتی کو حلال کردینے‘ کا مطلب یہ ہےکہ اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے ۔ اور ’اس کو سزا دینا حلال ہے‘ کا مطلب یہ ہے کہ قاضی اسے قید کر سکتا ہے۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ،‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ”، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ يُحِلُّ عِرْضَهُ:‏‏‏‏ يُغَلَّظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعُقُوبَتَهُ:‏‏‏‏ يُحْبَسُ لَهُ. [ابوداود، کتاب القضاء، باب: فی الدین ھل یحبس بہ]

قرض کو اچھی طرح ادا کرنے کی فضیلت

حضرت ابوہریرہؓروایت کرتے ہیں: حضرت نبی کریم ﷺ پرایک خاص عمر کا اونٹ کسی کا قرض تھا، وہ آپ کے پاس تقاضا کرنے کے لیے آیا تو آپ نے صحابہؓسے فرمایا: اسے دے دو! لوگوں نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا تو اس عمر کا اونٹ نہ ملا ،اس سے زائد عمر کا ملا۔ آپﷺ نے فرمایا: وہی دے دو۔ اس شخص نے کہا: آپ نے میرا حق پورا پورا دیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرض کو اچھے طور پر ادا کرے۔ ‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَعْطُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَطَلَبُوا سِنَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلَّا سِنًّا فَوْقَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَعْطُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ بِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً”. [بخاری، کتاب الوکالۃ، باب: وکالۃ الشاھد و الغائب جائزۃ]

خلاصۂ مضمون

مذکورہ بالا دلائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جائز و مباح کاموں کے لیے قرض لینا تو جائز ہے لیکن اسے ادا کرنے کی فکر نہ کرنا یا ادایگی کی استطاعت کے باوجود تاخیر سے کام لینا سخت گناہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ حتی الامکان قرض لینے سے بچیں، اگر ناگزیر ہو تو قرض لے لیں لیکن ادایگی کی نیت پختہ رکھیں اور اسے اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھیں۔یہ نہ ہوکہ دنیا کے تمام کام کاج، گھومنا پھرنا، کھانا پینا وغیرہ تو بہ دستور جاری رہے اور قرض کو یا تو بالکل ہی ادا نہ کیا جا رہا ہو یا اس طرح توڑ توڑ کر ادا کیا جا رہا ہو کہ سامنے والا پریشان ہو کر آیندہ کسی کو قرض دینے سے توبہ کر لے۔

[کالم نگار الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے صدر و مفتی ہیں]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here