ندیمِ عروض: طلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے مفیدِ مطلب

    کتاب: ندیمِ عروض یا شعروں کی تقطیع کیسے کریں؟
    مصنف: ندیم احمد انصاری
    صفحات: ۷۲
    قیمت: ۷۰روپے
    سالِ اشاعت: ۲۰۱۸ء
    مبصر: پروفیسر یونس اگاسکر

    ممبئی یونی ورسٹی کے شعبۂ اُردو سے دیرینہ وابستگی کے دوران ایسے متعدد طلبہ سے رشتۂ مودّت و انسیت استوار ہوا جو اپنی فطری ذہانت، علمی تجسّس اور ادبی شعور کے سبب نمایاں تشخّص کے حامل نظر آئے اور جنھوں نے اپنی تخلیقی و قلمی کاوشات کے سہارے علم و ادب کی دنیا میں نام بھی کمایا۔ ان میں سے کچھ ایسے طالبِ علم بھی تھے جو ایم اے کی سطح تک پہنچنے سے قبل ہی اپنی قلمی فتوحات کے جھنڈے گاڑ چکے تھے اور اپنے سے کم علم و کم معروف اساتذہ کی کلاسوں میں حاضری دینا وقت کا زیاں گر دانتے تھے ۔ اگرچہ ان میں بعض اب بھی عند الملاقات اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اس خاکسار کے شاگردوں میں سے ہیں لیکن میرے لیے اس بات کا اندازہ لگانا دشوار ہوتا ہے کہ یہ حقیقت ہم دونوں میں سے کس کے لیے باعثِ افتخار ہے ۔
    البتہ ندیم احمد انصاری کے تعلق سے میں یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی شاگردی جو ظاہر ہے کہ محض ایک اتفاقیہ امر ہے ، میرے لیے باعثِ فخر و انبساط ہے ۔ وہ ممبئی یونی ورسٹی کے متلاشیانِ اسناد کے انبوہ میں اپنا نام لکھوانے سے قبل ہی مستند عالمِ دین باور کیے جاتے تھے ۔ دینی تعلیم نیز ہندی میڈیم کے اسکول میں ایس ایس سی تک تعلیم حاصل کرنے کے سبب اُردو، عربی، فارسی اور ہندی کے علاوہ ثانوی زبان انگریزی اور سنسکرت سے بھی واقف تھے ۔بی اے سماجیات اور اُردو سے کرنے کے بعد وہ اُردو سے ایم اے کرنے آئے تھے ۔ اُردو میں ایم فل کر لینے اور متعدد علمی و ادبی تصانیف و تالیفات کی اشاعت کے بعد تو ان کا قد اتنا نمایاں ہو گیا ہے کہ انگلیاں اٹھتی ہیں جب حضرتِ داغ آتے ہیں۔
    ندیم احمد انصاری صاحب اس وقت ممبئی کے ایک معروف تعلیمی ادارے ’اسماعیل یوسف کالج‘ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں جہاں انھیں بی اے اُردو کے نصاب میں شامل فنِ عروض اور اشعار کی تقطیع کی تدریس کی ذمے داری بھی تفویض ہوئی ہے ۔ اس ذمے داری سے قرارِ واقعی عہدہ بر آ ہونے کے لیے انھوں نے نصاب میں شامل کتاب کے علاوہ دیگر کتب کا بہ غور مطالعہ کیا اور طلبہ کو عروض پڑھانے اور تقطیع کی مشق کرانے کا سلسلہ شروع کیا تو اُنھیں اندازہ ہوا کہ روایتی انداز میں تیار کی گئی اس ٹیڑھی کھیر کو سونے کے چمچے سے کھلانے پر بھی وہ ہضم ہونے والی نہیں ہے ۔ چناں چہ انھوں نے نصاب کے تقاضوں کے پیش نظر ایک مختصر و عام فہم رسالے کا ڈول ڈالا جو ’ندیمِ عَروض یا شعروں کی تقطیع کیسے کریں‘ کے زیرِ عنوان منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ میں نے اس چھوٹی سی کتاب کے بعض حصوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ ندیم احمد انصاری نے اس میں اپنے مطالعے اور اپنی محنت و ذہانت کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے طلبہ کی صلاحیتوں اور ضرورتوں کے مطابق ایک ایسی رہنما کتاب ترتیب دی ہے جو ان کی تکمیلِ آرزو اور تسکینِ ذوق دونوں کا سامان فراہم کرتی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کاوش طلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے مفیدِ مطلب ثابت ہوگی۔

    • 9
      Shares
    • 9
      Shares

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here