نیا چاند یعنی رویتِ ہلال کی دعا کی تحقیق

2026/01
سوال:حضرت مفتی صاحب!

مہینے کا نیا چاند یعنی رویتِ ہلال کی دعا کے صحیح الفاظ کیا ہیں؟ کچھ جگہوں پر ’بالیمن‘ لکھا ہوا دیکھا تو کچھ جگہوں پر ’بالامن‘۔ آپ ذرا تفصیل اور تحقیق سے بتائیں۔ بینوا توجرا

الجواب:حامداً و مصلیاً مسلماً
حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:
أَللّٰهُمَّ أَهِلَّہٗ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّيْ وَرَبُّکَ اللهُ.
اے اللہ ہم پر اس چاند کو خیر و ایمان، سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ (اے چاند) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔
 حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ ﷺ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَهْلِّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.[ترمذی،کتاب الدعوات، باب: ما یقول عند رؤیۃ الھلال: 3451 ]
نیا چاند دیکھنے یعنی رویتِ ہلال کی یہ مسنون دعا مشہور ہے، لیکن اس کے الفاظ میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اسے بِالْيُمْنِ اور بعض  بِالْاَمْنِ کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ ہم نے جب الفاظ کی تحقیق کی خاطر کتبِ حدیث و شروح کی ورق گردانی کی تو یہ نتیجہ سامنے آیا کہ یہ دعا ترمذی [کتاب الدعوات، باب: ما یقول عند رؤیۃ الھلال:3451]، مسنداحمدابنِ حنبل[3/17،برقم:1397] اور طبرانی کی کتاب الدعاء [باب: القول عند رؤیۃ الھلال: 903] میں بِالْيُمْنِ کے ساتھ وارد ہوئی ہے، جس کے راوی حضرت طلحہؓ ہیں۔ لیکن دارمی [کتاب الصوم، باب: ما یقال عند رؤیۃ الھلال: 1688]، مشکوٰۃ [کتاب الدعوات، باب: الدعوات فی الاوقات:2428] اور عمل الیوم و اللیلۃلابن السنیؒ [باب: ما یقول إذا رأی الھلال: 641] میں  بِالْاَمْنِ کے سے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ غالباً ان حضرات سے نقلِ روایت میں تسامح ہوا ہے۔ امام دارمی نے اس سے ملتی جُلتی ایک مختلف دعا حضرت ابنِ عمرؓ سے نقل کی ہے، اور دونوں میں  بِالْاَمْنِ نقل کر دیا ہے۔ امام نوویؒ نے حضرت طلحہؓ اور حضرت ابنِ عمرؓ والی ان دونوں روایتوں کو اپنی کتاب میں درست نقل کیا ہے۔ [کتاب الاذکار، کتاب اذکار الصیام، باب: ما یقول لہ إذا رأی الھلال و ما یقول إذا رأی القمر: 486،487]
ترمذی شریف کے درجِ ذیل مختلف نسخوںاور اس کی شروحات میں بِالْيُمْنِ  ہی موجود ہے۔ دیکھیے:
(۱)سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب ما یقول عند رؤیۃ الہلال، مکتبۃ الرشد، القاہرۃ، برقم الحدیث: 3451
(۲)الجامع الصحیح وھو سنن الترمذی، تحقیق و تعلیق: ابراہیم عطوہ عوض، برقم الحدیث: 3451
(۳)الجامع الکبیر للامام الترمذی، بتحقیق الدکتور بشار عواد معروف،دارالغرب اسلامی، بیروت، برقم الحدیث: 3451
(۴)سنن الترمذی، حکم علی احادیثہ و آثارہ و علق علیہ الشیخ محمد ناصر الدین الالبانی، مکتبۃ المعارف، الریاض، ص:784
(۵) عارضۃ الاحوذی بشرح صحیح الترمذی، للامام ابن العربی المالکی، دار الکتب العلمیۃ، بیروت: 9/13
(۶)العرف الشذی شرح سنن الترمذی للعلامۃ محمد انور شاہ الکشمیری، دار احیاء التراث العربی، بیروت:4/388
(۷)تحفۃ الالمعی شرح سنن الترمذی، للشیخ سعید احمد پالن پوری، زمزم پبلشرز، کراچی: 8/114
(۸)’تحفۃ الاحوذی‘ میں مرقوم ہے: (بالیمن) أی  البرکۃ، و فی بعض النسخ بالأمن (والإیمان) أی بدوامہ۔[تحفۃ الاحوذی بشرح جامع الترمذی: 9/404، دارالفکر]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here