Home Darul Ifta تراویح میں اگر اجرت پہلے سے طے نہ کی جائے تو جائز...

تراویح میں اگر اجرت پہلے سے طے نہ کی جائے تو جائز ہے؟

تراویح میں اگر اجرت پہلے سے طے نہ کی جائے تو جائز ہے؟

سوال:ہمارے یہاں بعض علما کہتے ہیں کہ تراویح میں اجرت فکس کر کے لینا اور بات ہے جو یقیناً ناجائز ہے، لیکن اگر اجرت پہلے سے فکس نہ کی جائے بلکہ بعد میں ہدیے کے طور پر دی جائے، تو جائز ہے۔ کیا یہ درست ہے؟
الجواب:’احسن الفتاویٰ‘ میں ہے:خواہ اجرت متعین ہو یا بلاتعیین بہ نام امدادوخدمت ہو، بہ ہر حال ناجائز ہے، بلکہ بدون تعیین میں مزید قباحت یہ ہے کہ اس میں اجرت مجہول ہے، اس لیے اور بھی زیادہ شدید گناہ ہے۔ [احسن الفتاویٰ: 3/516]۔ فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here