خودکشی سے مصیبت ختم نہیں ہوتی، بڑھ جاتی ہے

مفتی ندیم احمد انصاری

خودکشی یعنی خود کو ختم کر ڈالنا، مار ڈالنا، ہلاک کرلینا یقیناًکم ہمتی، کم حوصلگی اور ایمان کی کمی کی علامت ہے۔ یہ ایک جُرم اور گناہ ہے، جسے نہ شرعاً درست سمجھا گیا نہ قانوناً اور نہ عقلاً۔ شرعی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو انسان اپنے وجود کا خالق ہے نہ مالک، تمام مخلوق کا حقیقی خالق و مالک اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے، اسی نے ہمیں پیدا کیا۔ بہ طور امانت ایک خاص مدت کے لیے ہمیں دنیا میں بھیجاگیا اور پیدائش کا مقصد بھی متعین فرما دیا گیا، اس میں خیانت کرنا غیرمِلک میں تصرف اور گناہ ہے۔خودکشی کبیرہ گناہ ہے اور اس پر سخت وعید وارد ہوئی ہیں۔ خودکشی کرنے والا عموماً اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی نہ ہو کر اور کسی مصیبت سے گھبرا کر ایسا کرتا ہے، وہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اپنی جان لے لینا اس کی زندگی کی تمام مشکلوں کو حل کر دے گا، جب کہ اہلِ ایمان کی اصل زندگی کا تو آغاز ہی اس دنیوی موت سےہوتا ہے، ایسے میں خودکشی کر کے اِس دنیا سے اُس دنیا میں جانا خود کو عذاب میں مبتلا کرنا ہے۔آج اس جرم و گناہ کو ہلکا سمجھا جانے لگا ہے، اس لیے خودکشی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق ہر چالیس سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کر رہا ہے اور دنیا میں ہر سال تقریباً سات لاکھ لوگ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ فضل و احسان کا معاملہ فرمائے اور اپنی رضامندی والی زندگی اور ر اپنی ضامندی والی موت نصیب فرمائے۔ آمین

اپنے آپ کو قتل نہ کرو

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔[البقرۃ]نیز فرمایا: اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔ [النساء]امام بغویؒ نے لکھا ہے: اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔[معالم التنزیل] حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ لکھتے ہیں: اس میں بہ اتفاق مفسرین خودکشی بھی داخل ہے اور یہ بھی کہ ایک دوسرے کو ناحق قتل کرے۔اس کے بعد دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :اور جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر ایسا کرے گا تو ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے، اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔ [النساء] تعدی اور ظلم کی قید سے معلوم ہوا کہ اگر سہو و نسیان یا خطا سے ایسا ہوگیا تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ [معارف القرآن]

خودکشی کرنے والے کے لیے وعید

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا رہے گا، اور جو شخص نیزہ چبھو کر مارتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ چبھو کر مارتا رہے گا۔[بخاری]حضرت ابوہریرہؓنے بیان کیا کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص پہاڑ سے گر کر اپنے آپ کو قتل کر ڈالے وہ جہنم کی آگ میں ہوگا اور اس میں ہمیشہ گرایا جاتا رہے گا، اور جس نے زہر پی کر خود کو مار ڈالا تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور جہنم کی آگ میں اس کو پیتا رہے گا اور ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا، اور جس نے اپنے کو لوہے سے قتل کر ڈالا تو اس کالوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا جہنم کی آگ میں اس سے اپنے پیٹ میں اپنے آپ کو مارتا رہے گا اور ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا۔[بخاری]حضرت ثابت بن ضحاکؓروایت کرتے ہیں، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور ملت کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی، وہ ایسا ہے جیسا اس نے کہا۔ اور جس نے اپنی جان کو کسی لوہے سے قتل کیا تو جہنم کی آگ میں اسی لوہے سے عذاب دیا جائےگا۔[بخاری]

جنت حرام کر دی جائےگی

حسن بصریؒ نے کہا: ہم سے حضرت جندب بن عبداللہ بجلیؓنے اسی (بصرے کی) مسجد میں بیان کیا-نہ تو ہم بھولے اور نہ ہمیں یہ ڈر ہے کہ حضرت جندبؓنے حضرت نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھا ہوگا-آپ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص کو زخم لگا، اس نے (اس کی تکلیف کی وجہ سے) خود کو مار ڈالا، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے جان نکالنے میں مجھ پر جلدی کی، اس کی سزا مِیں مَیں اس پر جنت حرام کرتا ہوں۔[بخاری]

خودکشی کرنے والا جہنم میں

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم ایک جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے ہم راہ شریک تھے۔ آپﷺ نے ایک شخص -جو اسلام کا دعوےدار تھا-کے متعلق فرمایا : یہ شخص جہنمی ہے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو وہ بہت بےجگری سے لڑا، اس دوران میں وہ زخمی ہوگیا۔ عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول! آپ نے جس شخص کے متعلق جہنمی ہونا ارشاد فرمایا تھا اس نے تو آج بہت سخت جنگ لڑی اور وہ مر چکا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا : وہ دوزخ میں گیا۔ قریب تھا کہ کچھ لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجاتے، لوگ اسی حالت میں تھے کہ اچانک آواز آئی: وہ مرا نہیں بلکہ وہ سخت زخمی ہوگیا ہے۔ جب رات ہوئی تو اس نے زخموں کی تاب نہ لاکر خود کو ہلاک کرلیا۔ جب آپ ﷺ کو اس صورتِ حال سے آگاہی ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں! پھر آپﷺ نے حضرت بلالؓکو لوگوں میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا : جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے اور اللہ کبھی فاسق و فاجر کے ذریعے سے بھی اپنے دین کی تائید فرما دیتا ہے۔[بخاری]

خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ

حضرت جابر بن سمرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺکے ساتھیوں میں سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ زخم کافی تکلیف دہ ثابت ہوا تو وہ گھسٹ گھسٹ کر تیر کے پیکانوں تک پہنچا اور اپنے آپ کو ذبح کر ڈالا۔ آپ ﷺ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا اور یہ آپ کی جانب سے تایب تھی (کہ لوگ آیندہ ایسی حرکت کبھی نہ کریں) ۔[ابن ماجہ]
ترمذی شریف میں حضرت جابر بن سمرہؓسے روایت ہے، ایک شخص نے خود کشی کرلی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی۔ امام ترمذیؒفرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اہلِ علم کا اس مسئلےمیں اختلاف ہے، بعض علما فرماتے ہیں کہ جس شخص نے بھی قبلہ رخ نماز پڑھی ہو اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائےگی خواہ اس نے خودکشی ہی کیوں نہ کی ہو۔ سفیان ثوریؒ اور اسحاقؒکا یہی قول ہے۔ امام احمدؒفرماتے ہیں کہ خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ پڑھنا امام کے لیے جائز نہیں، باقی لوگ پڑھ لیں۔[ترمذی]
’دارقطنی‘ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں سنت ہیں؛ (۱)ہر امام کے پیچھے صف بناکر (نماز ادا کرنا)، تمھیں تمھاری نماز کا ثواب ملے گا اس کے گناہ کا بوجھ اسی پر ہوگا (۲)ہرامیرکے ہم راہ جہاد کرنا، تمھیں تمھارے جہاد کا ثواب ملے گا،اس کا شر اسی پر ہوگا(۳)اہلِ توحید میں سے ہر میت کی نمازِ جنازہ ادا کرنا، خواہ اس نے خودکشی کی ہو۔[دارقطنی]

[کالم نگار دارالافتا، نالاسوپارہ، ممبئی کے مفتی ہیں]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here