ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
اسلام فطری، آسان اور معتدل دین ہے جو کسی بھی معاملے میں انسان پر اس کی طاقت و استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ضیافت اور دعوت کا بنیادی مقصد باہمی تعلقات میں خوشگواری، رشتے داروں اور دوستوں کی تالیفِ قلب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکرادا کرنا ہے، نہ کہ فخر، نمائش یا مالی تباہی کا سبب بننا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ، نکاح اور ولیمے کی تقاریب دکھاوے اور رسم و رواج کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ لوگ محض نام و نمود اور برادری میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے کثیر تعداد میں لوگوں کو مدعو کرتے ہیں۔ جن کی استطاعت نہیں ہوتی وہ بھی قرض لے لے کر یا اپنے اثاثے بیچ کر بڑی بڑی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر مہینوں اور سالوں تک اس کی ادایگی کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف عقل و دانش کے خلاف ہے بلکہ روحِ شریعت کے بھی منافی ہے۔ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی سب سے بابرکت ہستی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے سب سے بڑے ولیمے (حضرت زینب بنتِ جحشؓسے نکاح) میں بھی تقریباً تین سو صحابۂ کرامؓکی دعوت کی تھی، جب کہ دیگر ازواجِ مطہراتؓسے نکاح کے موقع پر محض چند صاع ستّو، کھجور، یا حیس پر ہی ولیمے کی سنت ادا فرمائی تھی۔ اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن عوفؓجو مدینے کے امیر ترین تاجر تھے، جب انھوں نے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں فرمایا:’’ولیمہ کرو، خواہ ایک ہی بکری کا ہو‘‘۔ یہ اسوۂ حسنہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام میں دعوت کا مدار شاندار انتظام يا ہجوم پر نہیں بلکہ سادگی، استطاعت اور اخلاصِ نیت پر ہے۔
استطاعت و وسعت کا لحاظ ضروری
شریعتِ اسلامیہ کا یہ عالمگیر اور طے شدہ اصول ہے کہ کسی انسان کو اس کی وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا جاتا۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اللہ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمّےداری نہیں سونپتا‘‘۔ (البقرۃ) اسی طرح مالی معاملات اور اخراجات میں سادگی اور میانہ روی کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا گیا:’’ہر وسعت رکھنے والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، اور جس شخص کے لیے اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہو، تو جو کچھ اللہ نے اسے دیا ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے، اللہ نے کسی کو جتنا دیا ہے، اس پر اس سے زیادہ کا بوجھ نہیں ڈالتا‘‘۔ (الطلاق) دعوت و ضیافت کا معاملہ بھی اسی بنیادی اصول کے تابع ہے۔ انسان کی جتنی حیثیت اور گنجائش ہو اسی کے مطابق دعوت کرنی چاہیے۔ اگر کسی کے پاس صرف ایک یا دو افراد کو کھلانے کی گنجائش ہو تو اس کے لیے اتنی ہی دعوت کافی ہے اور یہ شرعی نقطۂ نظر سے سنت کے عین مطابق ہے۔
عصرِ حاضر میں بدانتظامی اور اخلاقی کجی
آج کل ہماری تقریبوں اور دعوتوں میں میزبان اور مہمان دونوں کی طرف سے اخلاقی اور انتظامی کجی دیکھنے میں آتی ہیں، جو اسلام کی تعلیمات کے برعکس ہیں؛ ایک طرف لوگ شادی بیاہ اور تقاریب میں بے شمار افراد کو دعوت دے دیتے ہیں، جن کی نہ تو صحیح سے دیکھ بھال ہو پاتی ہے اور نہ ان کا اکرام کیا جا سکتا ہے۔ میزبان کو یہ تک نہیں معلوم ہوتا کہ کون آیا اور کون نہیں۔ مہمان آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، اس طرح میزبانی اور اکرامِ مسلم کا جو مقصد تھا، وہ فخر و نمائش کی نذر ہو کر رہ جاتا ہے۔ ضیافت کا مقصد محض کھانا کھلانا نہیں بلکہ مہمان کی قدر، توجہ اور خوش دلی سے پیش آنا ہے۔ دوسری طرف وہ مہمان جنھیں دعوت دی جاتی ہے وہ بھی اپنی اخلاقی اور شرعی ذمّےداری کا احساس نہیں کرتے۔ دعوت نامہ ملنے پر وہ زبانی طور پر ان شاء اللہ تو کہہ دیتے ہیں لیکن اپنی آمد یا عدمِ آمد کو باقاعدہ کنفرم نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات پورے گھرانے میں سے صرف ایک فرد آتا ہے جس سے بڑی مقدار میں تیار کردہ کھانا بچ جاتا ہے اور رزق ضائع ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات بغیر بتائے پورا کا پورا گھرانہ ہی تشریف لے آتا ہے جس کی وجہ سے کھانا کم پڑ جاتا ہے اور تقریب میں بدانتظامی، ندامت اور میزبان کی رسوائی کا سبب بنتا ہے۔ حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں میزبان کا مہمان سے صاف صاف یہ کہنا کہ ’’آپ کے گھر سے صرف آپ کی دعوت ہے‘‘ یا یہ پوچھنا کہ’’کتنے افراد تشریف لائیں گے؟‘‘ اور مہمان کا کھل کر اپنی آمد سے آگاہ کرنا ’’عیب‘‘ اور ’’کم ظرفی‘‘ سمجھا جاتا ہے، جب کہ شریعت اور عقلِ سلیم کا تقاضا یہی ہے کہ انتظام کو درست رکھنے اور رزق کی بربادی سے بچنے کے لیے باہمی گفتگو میں صفائی اور سچائی کا دامن تھاما جائے۔
حضور ﷺ کے ساتھ ایک واقعہ
رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓنے ہمیشہ اپنی موجودہ استطاعت کے مطابق ضیافت کا اہتمام فرمایا اور کبھی بھی تکلف يا دکھاوے کا سہارا نہیں لیا۔ جہاں دعوتوں میں سادگی کی تاکید کی گئی، وہیں یہ بھی سکھایا گیا کہ اگر کوئی صرف ایک ہی فرد کی دعوت کرنا چاہے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ کا ایک فارسی پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا، اس نے رسول اللہﷺ کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آکر آپ کو دعوت دی۔ آپ نے حضرت عائشہؓکی طرف اشارہ کرکے فرمایا : کیاان کی بھی دعوت ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر مجھے بھی تمھاری دعوت قبول نہیں۔ وہ دوبارہ آپ کو بلانے آیا۔ آپ نے فرمایا : کیاان کی بھی دعوت ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا:پھر نہیں۔ وہ پھر دعوت دینے کے لیے آیا۔ آپ نے فرمایا : کیاان کی بھی دعوت ہے؟ تیسری مرتبہ اس نے کہا : ہاں، ان کی بھی۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آگئے۔(مسلم)
صرف ایک شخص کی دعوت کا ثواب
شارحینِ حدیث نے اس واقعے سے چند نکات اخذ کیے ہیں، من جملہ ان کے یہ ہے کہ ان صحابیؓکے پاس صرف اتنی گنجائش اور کھانا تھا کہ وہ ایک شخص کی ضیافت کر سکتے تھے، اس لیے انھوں نے بغیر کسی جھجھک کے رسول اللہ ﷺ کی تنہا دعوت کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنی حیثیت کے مطابق ایک دو افراد کی دعوت کرنے میں کوئی عیب نہیں۔ نیز چوں کہ ان کے پاس کھانا بہت مختصر تھا، اس لیے انھوں نے بغیر کسی جھوٹ یا مصنوعی تکلف کے سچائی کے ساتھ دو بار صاف منع کر دیا اور حضور نے اس پر برا بھی نہیں منایا۔ اسلام میں دعوت کی مقبولیت کا تعلق کھانے کی مقدار، ہجوم يا مہمانوں کی تعداد سے نہیں بلکہ نیت کے اخلاص اور حلال روزی سے ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے ایک یہ ہے کہ تم کسی مومن کو کھانا کھلاؤ! اس میں کہیں بھی یہ شرط نہیں کہ پورا محلہ یا سیکڑوں لوگ جمع کیے جائیں؛ ایک شخص کو بھی اگر اخلاص کے ساتھ کھلایا جائے تو وہ اللہ کے ہاں مقبول ہے۔
راہِ اعتدال
حضرت نبی کریم ﷺ نے حضرت صفیہؓکے ولیمے میں ستو اور کھجور کا اہتمام فرمایا، جب کہ حضرت زینبؓکے ولیمے میں روٹی اور گوشت کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حالت اور استطاعت کے مطابق دعوت کی نوعیت بدل سکتی ہے اور کم سے کم پر بھی سنت ادا ہو جاتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا بتایا ہوا معتدل اور آسان راستہ یہ ہے کہ اگر گنجائش صرف ایک یا چند افراد کی ہے تو اتنے ہی لوگوں کو مدعو کیا جائے تاکہ اکرام اور دیکھ بھال ہو سکے اور میزبان اور مہمان دونوں کو چاہیے کہ تعداد کے معاملے میں صاف بات کرنے کو عیب نہ سمجھیں اور مہمان اپنی آمد اور افراد کی حتمی تعداد سے میزبان کو وقت پر مطلع کردے تاکہ کھانا ضائع ہونے یا کم پڑنے کی نوبت نہ آئے۔ اگر امتِ مسلمہ تمام تقاریب بالخصوص نکاح اور ولیمے میں تکلفات، دکھاوے، قرض کے رجحان اور باہمی غیر ذمّےدارانہ رویوں کو چھوڑ کر سادگی، سچائی اور اسوۂ نبوی ﷺ کو اپنا لے تو نہ صرف معاشی بوجھ اور بدانتظامی سے نجات مل سکتی ہے بلکہ ہماری تقاریب میں حقیقی برکت، الفت اور عافیت کا دور دورہ ہو سکتا ہے۔






