عرفہ کا روزہ اپنے یہاں کی تاریخ کے مطابق یا سعودی کی

عرفہ کا روزہ اپنے یہاں کی تاریخ کے مطابق یا سعودی کی؟
ندیم احمد انصاری

 

اللہ تعالیٰ نے ایک مکمل نظام بنایا ہے، جس کے مطابق بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی ہے، نبیوں میں، فرشتوں میں، انسانوں میں، کتابوں میں،زمانوں میں، مکانوں میں،دنوں میں اور راتوں میں، وغیرہ وغیرہ۔سال بھر کی تمام راتوں میں سب سے افضل رات لیلۃ القدر اور دنوں میں سب سے افضل عرفہ کا دن ہے۔ یومِ عرفہ کی اللہ تعالیٰ نے سورہ بروج میںوَشَاہِد وَّ مَشہُود کہہ کر قسم کھائی ہے۔(آیت:3)، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہؓکی روایت میں ہے:أن الشاہد؛ یوم الجمعۃ، والمشہود: یوم عرفۃ۔شاہد سے مرادیومِ جمعہ اور مشہود سے مراد یومِ عرفہ ہے۔ (تفسیر زاد المیسر: 9/71)نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:فَإذَا افضتُم مِن عَرَفَات فَاذکُرُوا اللہُ عِندَ المَشعَرِ الحَرَام۔پس جب تم لوگ عرفات سے لوٹو تو مشعرِ حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔(البقرہ:198)نیز مسروق تابعیؒ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ یومِ عرفہ سال کا سب سے افضل دن ہے۔

اور علما کا کہنا ہے کہ اصح و راجح یہی ہے کہ عرفے کا دن جمعے کے دن سے بھی افضل ہے یعنی سال کے تمام ایام میں عرفے کا دن سب سے افضل ہے اور ہفتے کے ایام میں جمعے کا۔واستدل بہ علی أنہ أفضلُ من یوم عرفۃَ، والأصحُّ أن یوم عرفۃ أفضلُ، وجُمِعَ بأنہ أفضلُ أیام السنۃ و یوم الجمعۃ أفضل أیام الأسبوع۔

  و فی المرقاۃ:أَفْضَلُ أَیَّامِ السَّنَۃِ فَھُوَ عَرَفَۃُ، وَأَفْضَلُ أَیَّامِ الأُسْبُوْعِ فَھُو الْجُمُعَۃُ۔(مرقاۃ )رسول اللہ ﷺ کاارشادِ گرامی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ (یعنی 9 ذی الحجہ) کا روزہ ایک سال گذشتہ اور ایک سال آیندہ کے( صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ (مسلم)  و فی المرقاۃ:أَفْضَلُ أَیَّامِ السَّنَۃِ فَھُوَ عَرَفَۃُ، وَأَفْضَلُ أَیَّامِ الأُسْبُوْعِ فَھُو الْجُمُعَۃُ۔(مرقاۃ شرحِ مشکوٰۃ)رسول اللہ ﷺ کاارشادِ گرامی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ (یعنی 9 ذی الحجہ) کا روزہ ایک سال گذشتہ اور ایک سال آیندہ کے( صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ (مسلم) اسی لیے یومِ عرفہ کے قریب آتے ہی عام طور سے یہ سوال کثرت سے کیا جاتا ہے کہ سعودیہ عربیہ کے علاوہ میں یومِ عرفہ یعنی 9 ذی الحجہ کا روزہ کس اعتبار سے رکھا جائے، وہاں کے حساب سے یا اپنے مقام کے حساب سے؟جواب اس کا بہت سادہ ہے کہ جس طرح رمضان کے روزے آپ اپنے مقام کی تاریخ کے حساب سے رکھتے ہیں، عید و قربانی جس طرح اپنے مقام کی تاریخ کے حساب سے کرتے ہیں، اسی طرح عرفے کا روزہ بھی اپنے مقام کے اعتبار سے رکھیں گے۔مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی نے بجا طور پر تحریر فرمایا ہے کہ شریعت میں کسی دن یاکسی تاریخ کی جو فضیلت منقول ہے وہ اس علاقے کے اعتبار سے ہے ،جہاں انسان قیام پذیر ہو،مثلاً10ذی الحجہ کو یومِ نحر یعنی قربانی کادن ہے، تو اب ظاہر ہے کہ پوری دنیامیں ہر جگہ کے لوگ اپنے علاقے کے اعتبار سے 10ذی الحجہ کوقربانی کریں گے اور عید کی نماز اداکریں گے ، نہ کہ سعودی عرب کے اعتبار سے ، اگرسعودی عرب کا اعتبار کیاجائے تو کہیں10کے بجائے 8ذی الحجہ کوقربانی کرنی پڑے گی اور کہیں 12ذی الحجہ کو ، اگر یہ سوچاجائے کہ یومِ عرفہ حجاج کے وقوفِ عرفہ کی یادگار ہے، تو پھر یہ بھی خیال کیاجاسکتاہے کہ یومِ قربانی حجاج کی قربانی ہی کی نقل ہے، اس لیے قربانی بھی سعودی عرب ہی کے لحاظ سے ہونی چاہیے،مگر دراصل یہ سوچ ہی غلط ہے اور اصل یہی ہے کہ ہر جگہ اسی مقام کی تاریخ کااعتبار ہوگا ، اسی لحاظ سے 9ذی الحجہ کویومِ عرفہ سمجھاجائے گااور اس دن روزہ رکھنامسنون ہوگا۔(کتاب الفتاویٰ) نیز احناف کا راجح قو ل یہ ہے کہ بلاد ِبعیدہ جن کےطلوع وغروب میں کافی فرق پایاجاتا ہے، ان کی روئیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر نہیں ہےاور سعودی عرب اور بھارت کے مطلع میں بہت فرق ہے،لہٰذا جس طرح نمازو روزہ اور سحر و افطار وغیرہ کے اوقات میں ہر ملک کا اپنا وقت معتبر ہے، اسی طرح عید ،روزے اور قربانی وغیرہ میں بھی ہر ملک کی اپنی روئیت کا اعتبارہوگا۔(مستفاد از تبویب، معارف القرآن)  إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر۔(بدائع الصنائع، وانظر العرف الشذی للکشمیری)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here