ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
انسانی زندگی ایک قیمتی امانت اور وقت کا محدود سرمایہ ہے، جس کا ہر لمحہ خالقِ کائنات کی عبادت اور اس کی رضا کے حصول کے لیے مخصوص ہے۔ بچپن کے نادان لمحوں سے گزر کر جوانی کی توانائیوں اور پھر بڑھاپے کی نقاہت تک زندگی کے تمام مراحل انسان کے امتحان کے مختلف درجے ہیں۔ شریعتِ مطہرہ نے عمر کے ہر پڑاؤ کو ایک خاص فکری اور عملی اہمیت دی ہے تاکہ انسان اپنی زندگی کے مقاصد سے غافل نہ ہو۔ ذیل کی سطروں میں عمر کے ان ہی مختلف مراحل اور ان کی دینی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
عمر کے مختلف مراحل
حضرت انسؓسے روایت ہے: بندہ جب چالیس سال کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تین مصیبتوں سے محفوظ کردیتا ہے: (۱)پاگل پن، کوڑھ اور برص (۲)جب پچاس سال کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب ہلکا کردیتا ہے (۳)جب ساٹھ سال کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے پسندیدہ اعمال میں اپنی طرف انابت کی توفیق دیتا ہے (۴)جب ستّر سال کا ہوجاتا ہے تو آسمان والے (فرشتے) اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں (۵)جب اسّی سال کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں باقی رکھتا اور برائیاں مٹا دیتا ہے (۶)جب نوّے سال کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیتا ہے، اور اس کے گھر والوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول فرماتا ہے، اور آسمان سے ایک آواز دینے والا اسے آواز دیتا ہے : ’یہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہے‘۔إذا بلغَ العبدُ أربعينَ سنةً أمَّنَهُ اللَّهُ تعالى منَ البَلايا الثَّلاثِ : الجنونُ والجذامُ والبرصُ، فإذا بلَغ خمسين سنةً خففَّ عنهُ الحسابَ، فإذا بلغَ ستِّينَ سنَةً رزقَهُ اللَّهُ الإنابةَ إليهِ لما يحبُّ، فإذا بلَغَ سَبعينَ سنةً أحبَّهُ أَهْلُ السَّماءِ، فإذا بلغَ ثمانينَ سنةً أثبتَ اللَّهُ حسَناتِهِ ومَحا سيِّئاتِهِ، فإذا بلغَ تِسعينَ سنةً غَفرَ اللَّهُ له ما تقدَّمَ مِن ذنبِهِ وما تأخَّرَ، وشُفِّعَ في أَهْلِ بيتِهِ، وَناداهُ مُنادٍ منَ السَّماءِ : هذا أسيرُ اللَّهِ في أَرضِهِ. عن أنس. [کنزالعمال] حضرت ابوہریرہؓکی روایت میں یہ بھی ہے: (۷)بندہ جب سو سال کا ہوجاتا ہے تو اس کا نام زمین میں ’اللہ تعالیٰ کا روکا ہوا‘ رکھ دیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ وہ زمین میں اپنے ’روکے ہوئے‘ کو عذاب نہ دے۔فإذا بلغ مائة سنة سمى “حبيس اللہ في الأرض” وحق على اللہ أن لا يعذب حبيسه في الأرض. عن أبي هريرة. [کنزالعمال] ’کنزالعمال‘ میں اس سلسلے کی متعدد روایات موجود ہیں، گو ان میں کلام ہے۔
نیک عمل کے بغیر لمبی زندگی بےکار
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بہترین شخص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو۔ اس نے پھر سوال کیا: بدترین شخص کون ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: جس کی عمر لمبی اور عمل برا ہو۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: ” مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ ” قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ: ” مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ “، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. [ترمذی]حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مرد یا عورت ساٹھ سال تک اللہ کی عبادت کرتے ہیں پھر جب ان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو (من مانی) وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، پس ان کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً، ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ”. [ابوداود]
جوانی کی عبادت غنیمت ہے
حضرت عمرو بن میمونؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھو : (۱)زندگی کو موت سے پہلے (۲)فراغت کو مشغولیت سے پہلے(۳)مال داری کو فقر سے پہلے (۴)جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۵)صحت کوبیماری سے پہلے۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ لِرَجُلٍ : اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: حَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ، وَفَرَاغَک قَبْلَ شَغْلِکَ، وَغِنَاک قَبْلَ فَقْرِکَ، وَشَبَابَک قَبْلَ ھَرَمِکَ، وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِک.[مصنف ابن ابی شیبہ] حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا: سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں اس دن جگہ دےگا جس روز اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا: (۱)انصاف کرنے والا حکمران (۲)وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں پروان چڑھے (۳)وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں اٹکا رہتا ہو (۴)وہ دو شخص جو اللہ کے لیے دوستی رکھیں، جمع ہوں تو اس کے لیے اور جدا ہوں تو بھی اسی کے لیے (۵)وہ شخص جسے کوئی خوب رو اور معزز عورت برائی کی دعوت دے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں (۶)وہ شخص جو اس قدر پوشیدہ طور پر صدقہ دے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہ چلے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کرتا ہے (۷)وہ شخص جو خلوت میں اللہ کو یاد کرے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: “سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ”. [بخاری]
چالیس سال کی عمر ہونے پر خاص دعا
چالیس سال کی عمر کو قرآنِ کریم میں فکری پختگی، شعور کی بلندی اور رجوع الی اللہ کا خاص مرحلہ قرار دیا گیا ہے، اسی عمر میں حضرت نبی کریم ﷺ کی بعثت بھی ہوئی۔ اس عمر میں انسان کو خصوصی طور پر شکر اور دعا کا حکم دیا گیا ہے۔ سورہ احقاف میں ہے؛ جب وہ اپنی پوری توانائی کو پہنچ گیا اور چالیس سال کی عمر تک پہنچا تو وہ کہتا ہے: ﴿رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰي وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَاَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ ڝ اِنِّىْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاِنِّىْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ﴾ یار رب ! مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کی اس نعمت کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی، اور ایسے نیک عمل کروں جن سے آپ راضی ہوجائیں، اور میرے لیے میری اولاد کو بھی صلاحیت دے دیجیے، میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں فرماں برداروں میں شامل ہوں۔ [الاحقاف]
ساٹھ ستّر سال کی عمر میں عذر کا خاتمہ
ساٹھ ستّر سال کی عمر کو شریعت میں زندگی کی وہ مدت قرار دیا گیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام عذر ختم کر دیے ہیں اور اسے توبہ و عمل کی بھرپور مہلت عطا فرما دی ہے۔ ’بخاری‘ میں حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو لمبی عمر دی، یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس کے عذر کو قبول نہیں کرتا۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: “أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً”.[بخاری] ’نسائی‘ میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا جس کی موت کو مؤخر کیا یہاں تک کہ وہ ساٹھ یا ستّر سال کی عمر کو پہنچ گیا۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: “مَعْذِرَةُ اللَّهِ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلغَ سِتِّينَ أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً.[نسائی]
حاصلِ مضمون
حاصل یہ ہے کہ عمر کا ہر بڑھتا ہوا سال انسان کے لیے بندگی کی نئی ذمّےداری اور آخرت کی تیاری کا پیغام لے کر آتا ہے۔ جوانی کی شادابی ہو یا بڑھاپے کی پختگی، ہر منزل پر تقاضا یہ ہے کہ وقت کی قدر کی جائے اور عذر تراشنے کے بجائے اخلاص کے ساتھ نیک اعمال میں پیش قدمی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمر کے ہر مرحلے کو اپنی رضا کے مطابق گزارنے اور حسنِ خاتمہ سے نوازے، آمین۔






