ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
مدینہ منورہ کو حضرت نبی کریم ﷺ کی نسبت کے سبب عظیم فضیلت حاصل ہے، اس لیے کوئی مومن حج و عمرے کے لیے مکہ مکرمہ تک جائے اور مدینہ منورہ نہ جائے یہ اسے زیب نہیں دیتا۔ مومن کا دل ہر وقت نبی اور دیارِ نبی کی زیارت کے لیے بےقرار رہتا ہے اور کیوں نہ ہو آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’میرے بعد میری قبر کی زیارت کرنا ایسا ہے جیسے زندگی میں میری زیارت کرنا‘۔ اخلاص کے ساتھ اس زیارت پر شفاعت کے واجب ہونے تک کی بشارت دی گئی ہے اور اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہو سکتی۔
مدینہ منورہ اسلام کا قبہ
حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مدینہ اسلام کا قبہ ہے، ایمان کا گھر ہے، ہجرت کی زمین ہے اور حلال و حرام کا ٹھکانہ ہے۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قال، قال رسول اللہ ﷺ: الْمَدِیْنَۃُ قُبَّۃُ الْإِسْلَامِ، وَ دَارُ الْإِیْمَانِ، وَ أَرْضُ الْھِجْرَۃِ، وَ مَثْوَی الْحَلَالِ وَ الْحَرَامِ.[الترغیب و الترہیب]
مدینے کے لیے نبوی دعائیں
حضرت عبداللہ بن زیدؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکّے کو حرم قرار دیا تھا اور اس کے لیے دعا کی تھی، میں نے مدینے کو حرم قرار دیا ہےجس طرح حضرت ابراہیم نے مکّے کو حرم قرار دیا تھا، اور میں نے مدینے کے صاع اور مُد کے لیے دعا کی ہے جس طرح حضرت ابراہیم نے مکّے کے لیے دعا کی تھی۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، ”أَنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا، وَحَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَدَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام لِمَكَّةَ”. [بخاری]
حضرت علی بن ابی طالبؓسے روایت ہے، ہم ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓکے محلّے ’حَرّہ سُقیا‘ کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہ دعا کی: اے اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آپ کے بندے اور خلیل تھے انھوں نے اہلِ مکہ کے لیے برکت کی دعا کی تھی، میں آپ کا بندہ اور رسول ہوں میں آپ سے اہلِ مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں، اِن کے مد اور صاع میں اُس سے دوگنی برکت عطا فرما جو تو نے اہلِ مکہ کو عطا فرمائی اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں۔عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ السُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ” ائْتُونِي بِوَضُوءٍ “، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ قَالَ: ” اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ، وَدَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ، وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ، وَصَاعِهِمْ مِثْلَيْ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ”. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. [ترمذی]
احُد پہاڑ سے محبت
حضرت ابو حمید ساعدیؓنے بیان کیا کہ ہم حضرت نبی کریم ﷺکے ساتھ غزوۂ تبوک سے واپسی میں جب مدینے کے قریب پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا: یہ طابہ (مدینہ) آگیا، اور یہ کوہِ احد ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: “هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ”. [بخاری]
مکّہ سے زیادہ مدینہ کی محبت
حضرت عائشہؓسے روایت ہے، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکرؓاور حضرت بلالؓکو بخار آگیا۔ حضرت ابوبکرؓکو جب بخار آتا تو وہ یہ شعر پڑھتے:
كُلُّ امْرِءٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ
وَ الْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ
ترجمہ: ہر شخص اپنے گھر میں صبح کرتا ہے حالاں کہ موت اس کے جوتوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔
اور حضرت بلالؓکا جب بخار اترتا تو بلند آواز سے یہ شعر پڑھتے:
أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً
بِوَادٍ وَ حَوْلِي إِذْخِرٌ وَ جَلِيلُ
وَ هَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ
وَ هَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَ طَفِيلُ
کاش میں وادیِ مکہ میں ایک رات پھر رہتا، اس حال میں کہ میرے ارد گرد اذخر اور جلیل گھاس ہوتی، کاش میں ایک دن مجنہ کا پانی پی لیتا اور کاش میں شامہ اور طفیل کو پھر دیکھ لیتا۔
پھر انھوں نےکہا :یا اللہ شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت کر، جس طرح ان لوگوں نے ہمیں ہمارے وطن سے وبا کی زمین کی طرف دھکیل دیا۔
یہ سن کر حضرت نبی کریم ﷺنے یہ دعا فرمائی: أَللّٰهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، أَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدِّنَا وَصَحِّحْهَا لَنَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ.
اے اللہ ہمارے دلوں میں مدینے کی محبت پیدا فرما دے جس طرح ہمیں مکہ سے محبت ہے، یا اس سے بھی زیادہ، یا اللہ ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما اور یہاں کی آب و ہوا ہمارے مناسب کر دے اور اس کے بخار کو جُحفہ کی طرف منتقل کر دے۔
حضرت عائشہؓبیان کرتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو وہ اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ وبا والی زمین تھی اور وہاں بطحان ایک نالہ تھا جس سے بدبو دار پانی تھوڑا تھوڑا بہتا رہتا تھا۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: “لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى، يَقُولُ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ، يَقُولُ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ أَرْضِنَا إِلَى أَرْضِ الْوَبَاءِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدِّنَا وَصَحِّحْهَا لَنَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ”، قَالَتْ: وَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ، قَالَتْ: فَكَانَ بُطْحَانُ يَجْرِي نَجْلًا تَعْنِي مَاءً آجِنًا. [بخاری]
جمہور کا موقف
علامہ نوویؒ فرماتے ہیں:جمہور کے نزدیک آسمان زمین سے افضل ہے، لیکن اس میں زمین کے وہ حصے مستثنیٰ ہیں جو انبیاے کرام علیہم السلام کے اعضا سے متصل ہیں۔قال النووی: الجمهور على تفضيل السماء على الأرض ، فينبغي أن يستثنى منها مواضع ضم أعضاء الأنبياء للجمع بين أقوال العلماء.[فتاویٰ شامی]
جسدِ اطہر سے لگا ہوا حصہ
علامہ حصکفیؒ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک مدینہ منورہ کا کوئی حرم نہیں اور مکہ شریف مدینہ منورہ سے افضل ہے، لیکن مدینہ منورہ میں جو حصہ رسول اللہ ﷺ کے جسدِ اطہر سے ملا ہوا ہےوہ حصہ مکّہ بلکہ عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔ و مكة أفضل منها على الراجح، إلا ما ضم أعضاءه عليه الصلاة والسلام، فإنه أفضل مطلقًا حتى من الكعبة و العرش و الكرسي.[درمختارِ مع شامی]
قبرِ اطہر کے بعد کعبہ شریف
قبرِ اطہر کے بعد کعبہ شریف کا حصہ سب سے افضل ہے یعنی قبرِ اطہر کا حصہ زمین پر سب سے افضل ہے ، اس میں کوئی اختلاف نہیں، اس کے بعد کعبہ شریف افضل ہے، اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں، اس کے بعد اختلاف ہے کہ مدینہ کا بقیہ حصہ افضل ہے یا مکہ شریف کا بقیہ حصہ؟ قال شارحه : وكذا أي الخلاف في غير البيت : فإن الكعبة أفضل من المدينة ما عدا الضريح الأقدس، وكذا الضريح أفضل من المسجد الحرام، وقد نقل القاضي عياض وغيره الإجماع على تفضيله حتى على الكعبة ، وأن الخلاف فيما عداه . ونقل عن ابن عقيل الحنبلي أن تلك البقعة أفضل من العرش.[فتاویٰ شامی]
حضورﷺ سفارش کریںگے
حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے ہو سکے کہ مدینہ منورہ میں مرے تو وہ مدینے ہی میں مرے، جو یہاں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ” مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا. [ترمذی]
مدینے میں جمعہ اور رمضان کی فضیلت
حضرت بلال بن حارثؓسے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : مدینہ منورہ میں ایک رمضان گزارنا اس کے علاوہ کسی اور شہر میں ایک ہزار رمضان گزارنے سے زیادہ بہتر ہے، اور مدینہ منورہ میں ایک جمعہ اس کے علاوہ کسی اور شہر میںایک ہزار جمعوں سے زیادہ بہتر ہے۔عَن بِلال بن الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: رَمَضَانُ بِالْمَدِينَةِ خيرٌ مِن أَلفِ رَمَضَانَ فِيمَا سواهَا من البُلدانِ، وجُمْعةٌ بِالْمَدِينَةِ خيرٌ من ألفِ جُمُعَة فِيمَا سواها من الْبُلدَانِ .[الترغیب و الترہیب]
مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کا ثواب
حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی میری اُمّت میں سے مدینے کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرےگا، میں اس کے لیے قیامت کے دن سفارش کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: ” لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ، وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوْ شَهِيدًا “. [مسلم]
اہلِ مدینہ کے ساتھ فریب پر عذاب
حضرت سعدؓنے بیان کیا کہ میں نے حضرت نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:جو شخص بھی اہلِ مدینہ سے فریب کرےگا وہ اس طرح گُھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گُھل جاتا ہے۔ عَنْ عَائِشَةَ هِيَ بِنْتُ سَعْدٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: “سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ، يَقُولُ: “لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ، كَمَا يَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ”. [بخاری]






