کروناوائرس جیسی وبائی بیماریاںکیوں آتی ہیں؟

مولانا ندیم احمد انصاری

چین کےصوبے ہوبئی کے دارالحکومت ووہان سے شروع ہوئے مہلک مرض کررونا وائرس کے سبب دنیا کے ستّر ممالک میں اب تک 3173 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے اور تقریبا 92533 افراد اس سے متاثر ہیں ۔دیگر ملکوں کے ساتھ بھارت میں بھی اس کے کئی مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ایران میں بھی اس کا دایرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔مختصر یہ کہ اس وائر س سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ سچّے رسول ہیں۔ ہماری آنکھیں دھوکا کھا سکتی ہیں، دماغ غلط سوچ سکتا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کا مبارک فرمان کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ آپﷺ نے جو خبریں اپنی امت کو دی ہیں، وہ وحی کا حصہ ہیں: وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی، اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔(النجم)اس میں کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش نہیں۔ آپ ﷺنے ڈیڑھ ہزار سال پہلے ایسی ایسی پیشن گوئیاں بیان کی ہیں جو آفتابِ نیم روز کی طرح پوری ہوتی ہوئی دیکھی گئی ہیں۔ درجِ ذیل حدیث کو پڑھیے اور حضور کی صداقت کے قربان جائیے۔

جب فحاشی عام ہوجائے

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے مہاجرین کی جماعت! پانچ چیزوں میں جب تم مبتلا ہوجاؤ؛ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان چیزوں میں مبتلا ہو: (۱)یہ کہ جس قوم میں فحاشی اعلانیہ ہونے لگے تو اس میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہیں تھیں(۲) جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے وہ قحط، مصائب اور حکرانوں کے ظلم وستم میں مبتلا کردی جاتی ہے (۳)جب کوئی قوم اپنے اموال کی زکوٰۃ نہیں دیتی، اس سے بارش روک دی جاتی ہے اور اگر چوپائے نہ ہوں تو ان پر کبھی بھی بارش نہ برسے (۴)جو قوم اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑتی ہے، اللہ تعالیٰ غیروں کو ان پر مسلّط فرما دیتا ہے جو اس قوم سے عداوت رکھتے ہیں پھر وہ ان کے اموال چھین لیتے ہیں (۵)جب مسلمان حکمراں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نظام میں (مرضی کے موافق کچھ باتیں) اختیار کرلیتے ہیں (اور باقی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں) باہمی اختلافات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔(ابن ماجہ )ایک حدیث شریف میں ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کوئی قوم کبھی بھی کسی عہد کو نہیں توڑتی مگر ان میں قتل ہوتا ہے، اور کسی قوم میں کبھی فحاشی ظاہر نہیں ہوتی مگر اللہ ان پر موت کو مسلط کردیتے ہیں، اور نہیں روکتی کوئی قوم زکوٰۃ مگر اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک لیتا ہے۔(سنن کبریٰ بیہقی)ایک حدیث میں ہے کہ جب فحاشی کا غلبہ ہونے لگتا ہے تو اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہوتا ہے اور جب حکمراں ظلم شروع کردیں تو بارش بند ہوجاتی ہے اور جب ذمیوں کے ساتھ دھوکا کیا جائے تو دشمن کا غلبہ ہو جاتا ہے۔(کنزالعمال)

قیامت سے قبل چھے باتیں

ابوادریس عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضری دی، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: یاد رکھو قیامت برپا ہونے سے پہلے چھے باتیں معرضِ وجود میں آئیں گی (۱)میری رحلت (۲)فتحِ بیت المقدس (۳) یکایک موت؛ وبا تم میں اس طرح پھیلے گی جس طرح بکریوں میں یکایک مرنے کی بیماری پھیل جاتی ہے(۴)سرمایہ داری کی کثرت یعنی اگر کسی کو سو اشرفیاں دی جائیں تب بھی وہ خوش نہ ہو (۵) فتنے کی بیماری جو عرب کے ہر گھر میں داخل ہوگی (۶)صلح نامہ جو تم مسلمانوں اور بنو اصغر (یعنی رومیوں) کے درمیان مرتب ہوگا پھر وہ اس صلح نامے سے پھرجائیں گے اور تمھارے مقابلے کے لیے اسّی جھنڈے لیے ہوئے آئیں گے اور ان کے ہر ایک پرچم کے نیچے بارہ ہزار آدمیوں کا غول ہوگا۔(بخاری: 3176 )

وبا سے متعلق ہدایت

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف روانہ ہوئے، جب مقامِ سرغ میں پہنچے تو انھیں خبر ملی کہ شام میں وبا پھیلی ہوئی ہے تو انھیں عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: تم جس زمین کے متعلق سنو کہ وہاں وبا پھیلی ہوئی ہے وہاں نہ جاؤ اور جب کسی زمین میں وبا پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے فرار کے ارادے سے نہ نکلو! چناں چہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سرغ سے واپس لوٹ گئے۔(بخاری ) اسی طرح عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے، انھوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے طاعون کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ وہ مصیبت یا عذاب ہے جس میں بعض قومیں مبتلا کی گئی تھیں، پھر اس میں کچھ باقی رہ گیا جو کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی آجاتا ہے، پس جو شخص کسی جگہ کے متعلق سنے کہ (وہاں وبا پھیلی ہوئی ہے) تو وہاں نہ جائے اور جو شخص کسی جگہ ہو اور وہاں وبا پھیل جائے تو وہاں سے بھاگ کر نہ جائے۔(بخاری)

تعدیہ اور اسلام کانقطۂ نظر

آج کل کروناوائرس کو لے ایک خوف کا ماحول ہے۔ اس سے حفاظت کی تدابیر اختیار کرنی چاہیے، لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل اعتماد بھی رکھنا چاہیے، اسی کا نام توکّل ہے۔مسلمانوں کو چھوا چھوت کا عقیدہ رکھنا درست نہیں،اسلام نے اسے باطل قرار دیا ہے۔(لطائف المعارف)رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کے امراض کے متعلق ارشاد فرمایا:عدویٰ، طیرہ، ہامّہ اورصفر (کی نحوست) کی کوئی حقیقت نہیں۔(بخاری)اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے صراحتاً ارشاد فرما دیا کہ مرض کاتعدی ہونا کوئی چیز ہے نہ بدفالی۔

تعدیہ کی حقیقت

بعض امراض متعدّی ہوتے ہیںلیکن اس طرح نہیں کے ان کا تعدیہ ضروری اور لازم ہوکہ اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا،بلکہ یہ مِثل دیگر اسباب ِ مظنونہ کے ہوتے ہیں۔ حق تعالیٰ کو منظور ہوا تو تعدیہ ہوا اور منظور نہ ہوا تو نہ ہوا۔اہلِ سائنس بالذات تعدیہ کے قائل ہیں کہ امراض کی ذات میں تعدیہ ہے، ’لا عدویٰ‘ میں اس کی نفی ہوتی ہے ۔ باقی جہاں خدا تعالیٰ کا حکم تعدیہ کا ہوجاتا ہے ، وہاں ایسا ہونا لازمی ہے۔ بعض نے ’لا عدویٰ‘ کو مطلق کہا ہے کہ تعدیہ بالکل ہوتا ہی نہیں اور مجذوم والی حدیث میں جو بچنے کو فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس جانے والے کو اگر اتفاق سے یہ مرض ہو گیا تو وہ یہی سمجھے گا کہ اس کی بیماری مجھ کو لگ گئی۔ اس اعتقاد سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے اختلاط سے منع فرمایا۔خلاصہ یہ کہ بعض نے لا عدویٰ کی تاویل کی ہے اور بعض نے مجذوم والی حدیث کی۔ مگر اقرب یہ ہے کہ تعدیہ ہوتا ہے ، مگر اللہ کی اجازت وحکم سے، اور بلا اس کی اجازت و حکم کے نہیں ہوتا۔۔۔ اس کے متعلق ایک مسئلہ یہ ہے کہ جس بستی میں ایسا مرض ہو ، اس کو چھوڑ کر چلے جانا جائز نہیں ۔ ہاں ! اس کے متعلق اُس مکان میں سے دوسرے مکان میں منتقل ہوجانا جائز ہے۔ ایک دقیق فرع اس کی یہ بھی ہے کہ اگر ساری بستی والے کہیں اور منتقل ہو جائیں ، ایک بھی وہاں نہ رہے تو جائز ہے ، باقی یہ جائز نہیں کہ بعض چلے جائیں اور بعض وہیں رہیں ۔اس میں حکمت یہ ہے کہ بعض کے چلے جانے سے باقی ماندوں کی دل شکنی ہوتی اور حق ضائع ہوتا ہے کہ بیماروں کی تیمار داری کو ن کرے گا ؟ ایسا کرنا ہمدردی کے خلاف ہے۔المختصر ! لا عدوی کے معنی یہ ہیں کہ مرض لزوماً متعدی نہیں ہوتا اور بعض دفع چیچک یا طاعون وغیرہ میں متعدی ہونا معلوم ہوتا ہے ، اس سے لزوم لازم نہیں آتا بلکہ صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کبھی متعدی ہوتا ہے ، کبھی نہیں۔ حدیث میں لزوم کی نفی ہے ، نہ کہ مطلق تعدیہ کی۔ (الانتباہات المفیدۃ عن الاشتباہات الجدیدۃ،بتصرف)

وبا سے مرنے والا شہید

البتہ جب کسی کے لیے موت مقدر ہو اور کوئی مومن کسی وبا کا شکار ہو کر وفات پا جائے تو حدیثِ پاک میں اس کے لیے بشارت وارد ہوئی ہے۔حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شُہدا اور اپنے بستروں پر مرنے والے اللہ کے حضور مقدمہ پیش کریں گے۔ شہدا کہیں گے : یہ ہمارے بھائی ہیں، جیسے ہم مارے گئے ہیں یہ لوگ بھی مارے گئے ہیں! اور جو لوگ اپنے بستروں پر وفات پاگئے ہیں وہ کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں، یہ لوگ اپنے بستروں پر مرے ہیں جیسے ہم لوگ اپنے بستروں پر پڑے پڑے مرے ہیں۔ تو میرا رب کہے گا : ان کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم شہیدوں کے زخم سے ملتے ہیں تو یہ لوگ شہیدوں میں سے ہیں اور شہیدوں کے ساتھ رہیں گے۔ جب دیکھا گیا تو ان کے زخم شہیدوں کی طرح نکلے۔(نسائی)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید پانچ ہیں:(۱) طاعون سے مرنے والا(۲)پیٹ کی بیماری سے مرنے والا (۳)ڈوب کر مرنے والا (۴) دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مرنے والا اور (۵)اللہ کے راستے میں شہید ہونے والا۔(ترمذی)

وبا کے وقت خاص ہدایت

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر ! اس وقت تمھارا کیا حال ہوگا جب لوگوں پر (وبا کی وجہ سے)موت طاری ہوگی ! حتی کہ قبر کی قیمت غلام کے برابر ہوگی ۔میں نے عرض کیا :اللہ اور اس کا رسول جانتا ہے (کہ ایسے وقت میں کیا کرنا چاہیے)!آپ ﷺ نے فرمایا: صبر کرنا۔ اور فرمایا: اس وقت تمھاری کیا حالت ہوگی جب لوگوں پر بھوک طاری ہوگی؟ حتی کہ تم مسجد آؤ گے تو واپس اپنے بستر (گھر) تک جانے کی ہمت و استطاعت نہ ہوگی اور بستر سے اٹھ کر مسجد نہ آسکو گے! میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کوزیادہ علم ہے (کہ اس وقت کیا کرنا چاہیے؟) یا کہا کہ (وہ کروں گا) جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ میرے لیے پسند فرمائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: اس وقت حرام سے بچنے کا خصوصی اہتمام کرنا۔ پھر فرمایا: اس وقت تمھاری کیا حالت ہوگی جب لوگوں کا قتلِ عام ہوگا، یہاں تک کہ حِجَارَةُ الزَّيْتِ (مدینے میں ایک جگہ کا نام ہے) خون میں ڈوب جائے گا۔ میں نے عرض کیا : جو اللہ اور اس کے رسول میرے لیے پسند کریں! آپﷺ نے فرمایا: تم جن لوگوں میں سے ہو، اُنھیںکے ساتھ مل جانا (یعنی مدینے والوں کے ساتھ)۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول کیا میں اپنی تلوار لے کر ایسا کرنے والوں کو نہ ماروں؟ آپﷺ نے فرمایا: پھر تو تم بھی ان (فتنہ کرنے والوں) میں شریک ہوجاؤ گے، اس لیے تم اپنے گھر میں رہنا! میں نے عرض کیا :اگر فسادی میرے گھر میں گُھس آئیں تو کیا کروں؟ آپ ﷺنے فرمایا: اگر تمھیں تلوار کی چمک سے خوف آئے تو چادر منہ پر ڈال لینا تاکہ وہ قتل کرنے والا تمھارا اور اپنا گناہ سمیٹ کر دوزخی بن جائے۔(ابن ماجہ )

حفاظت کی جامع دعا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجُنُونِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجُذَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ. اے اللہ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں برص کی بیماری سے، پاگل پن سے، کوڑھ سے اور تمام نقائص اور بیماریوں سے۔(ابوداود)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here