Home Dept of Islamic Studies Articles طواف کرنے والوں کے لیے ہر دن اور ہر رات ساٹھ رحمتیں...

طواف کرنے والوں کے لیے ہر دن اور ہر رات ساٹھ رحمتیں نازل ہوتی ہیں

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

بیت اللہ کا طواف ایک ایسی والہانہ عبادت ہے جو کائنات کے نظامِ محبت کی عکاسی کرتی ہے۔ جس طرح کائنات کا ہر ذرہ اپنے مرکز کے گرد محوِ گردش ہے، اسی طرح ایک مومن اپنے خالق کے گھر کے گرد طواف کر کے اپنی بندگی اور وارفتگی کا ثبوت دیتا ہے۔ یہ وہ عظیم عبادت ہے جس کے بارے میں حضرت نبی کریم ﷺ نے گناہوں کی معافی، درجات کی بلندی اور رحمتوں کے نزول کی بشارتیں دی ہیں۔ طواف صرف ایک جسمانی حرکت نہیں بلکہ روح کا اپنے رب سے قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

طواف کا ثواب

ابنِ عبید بن عمیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓدونوں رکنوں (حجرِ اسود اور رکنِ یمانی) پر ٹھہرا کرتے تھے۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمن! آپ دونوں رکنوں پر ٹھہرتے ہیں جب کہ میں نے کسی اور صحابی کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حضرت ابنِ عمرؓنے فرمایا: میں کیوں نہ ٹھہروں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ان کو چھونے سے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر کا سات مرتبہ طواف کیا اور اس کی حفاظت کی تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے مثل ہے۔ میں نے یہ بھی سنا ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص طواف میں ایک قدم رکھتا ہے اور ایک قدم اٹھاتا ہے تو اس کا ایک گناہ معاف ہو جاتا ہے اور ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يَفْعَلُهُ. فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ أَفْعَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ” إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا “، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ ” مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ “، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ ” لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً”.[ترمذی]

طواف کرنے والوں پر ساٹھ رحمتیں

حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس مسجد یعنی مسجدِ حرام پر ہر دن اور ہر رات ایک سوبیس رحمتیں نازل فرماتے ہیں؛ ساٹھ طواف کرنے والوں کے لیے، چالیس نماز پڑھنے والوں کے لیے اور بیس زیارت کرنے والوں کے لیے۔ إن اللہ تعالى يُنْزِلُ على هذا المسجدِ مسجد مكة في كل يومٍ وليلةٍ عشرين ومائةَ رحمةٍ: ستين للطائفينَ، وأربعين للمصلينَ؛ وعشرين للناظرينَ.[کنزالعمال]

زیادہ طواف افضل ہے، یا زیادہ عمرے؟

حج و عمرے کے علاوہ بھی طواف مستقل ایک عبادت ہے اور بیت اللہ کے علاوہ دنیا میں کہیں اور یہ عبادت ادا نہیں کی جا سکتی، نماز روزہ تو دنیا کے کسی بھی حصّے میں رہ کر ادا کیا جا سکتا ہے لیکن طواف صرف یہیں ادا ہو سکتا ہے، اس لیے مکّے کے قیام میں اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ حضرت سعید بن جبیرؒنے فرمایا: میرے نزدیک مسافروں کے لیے نماز سے زیادہ طواف کرنا افضل ہے۔ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عُتَیْقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولُ : الطَّوَافُ لِلْغُرَبَاءِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنَ الصَّلاَۃِ.[مصنف ابن شیبہ] فقہا کا فیصلہ یہ ہے کہ زیادہ طواف کرنا اس وقت افضل ہے جب کہ عمرہ کرنے پر جتنا وقت خرچ ہوتا ہے اتنا یا اس سے زیادہ وقت طواف پر خرچ کرے، عمرے کی جگہ ایک دو طواف کرلینے کو افضل نہیں کہا جاسکتا۔نظیرہ ما أجاب بہ العلامۃ القاضی إبراھیم بن ظھیرۃ المکی حیث سئل: ھل الأفضل الطواف أو العمرۃ؟ من أن الأرجح تفضیل الطواف علی العمرۃ إذا شغل بہ مقدار زمن العمرۃ. [فتاویٰ شامی]

طواف باوضو

حضرت عائشہؓنے بیان کیا: سب سے پہلا کام جو آپﷺ نے آتے ہی کیا وہ یہ کہ آپ نے وضو کیا،پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ طَافَ .[بخاری] طواف کے دوران میں اگر کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ وضو کر کے وہیں سے باقی شوط پورے کر سکتا ہے جہاں چھوڑا تھا، حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک وہ مکمل طواف کا اعادہ نہیں کرےگا، امام مالکؒکی بھی ایک روایت یہی ہے۔وَمَنْ أَحْدَثَ فِي أَثْنَاءِ الطَّوَافِ يَذْهَبُ فَيَتَوَضَّأُ وَيُتَمِّمُ الْأشْوَاطَ وَلاَ يُعِيدُهَا عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ وَالشَّافِعِيَّةِ، وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ مَالِكٍ. [الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]

طواف میں رمل کی ابتدا

حضرت ابنِ عباسؓفرماتے ہیں کہ صحابۂ کرامؓصلحِ حدیبہ سے اگلے سال جب عمرہ کرنے کے لیے مکّے میں داخل ہونے لگے تو حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کل تمھاری قوم تمھیں دیکھےگی، وہ تمھیں چست اور توانا دیکھے! چناں چہ جب صحابۂ کرامؓمسجدِ حرام میں داخل ہوئے تو حجرِ اسود کا استلام کیا اور رمل کیا،جب رکنِ یمانی کے قریب پہنچے تو حضرت نبی کریم ﷺ بھی صحابۂ کرامؓکے ساتھ ہی تھے ۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ:‏‏‏‏ “إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ فَلَيَرَوُنَّكُمْ جُلْدًا”، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَمَلُوا وَالنَّبِيُّ ﷺ مَعَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، ‏‏‏‏‏‏مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَمَلُوا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَشَى الْأَرْبَعَ. [ابن ماجہ]

رمل کتنے شوط میں؟

’بخاری شریف‘ میں ہے:حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، جب رسول اللہﷺ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا: وہ (محمد ﷺ) آئے ہیں، ان کے ساتھ ایسے لوگ ہیں جنھیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کردیا ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کریں(یعنی تیز چلیں) اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسبِ معمول چلیں، اور آپ ﷺ نے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں، اس لیے کہ ان پر آسانی ہو۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ “قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ وَقَدْ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ”. [بخاری] صحابۂ کرام بخار سے واقعی لاغر ہو گئے تھے اس لیے ساتوں چکروں میں رمل کرنے میں پریشانی تھی اس لیے صرف تین چکروں میں رمل کا حکم دیا اور ان میںبھی جب اوٹ میں جاتے تو عام چال چلتے تھے، مگر مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ پورے چکر میں دوڑ رہے ہیں، چناںچہ وہ مرعوب ہو کر وہاں سے چل دیے، مگر حجۃ الوداع میں آپﷺ نے پورے تین چکروں میں رمل کیا ہے، اس لیے یہی مسنون ہے۔ [تحفۃ القاری] ’ابوداود شریف‘ میں ہے:حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے مقامِ جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا تو پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں حسبِ معمول رفتار سے چلے۔ ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏”أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا”. ’مسند احمد ابنِ حنبل‘ میں ہے:حضرت عمر فاروقؓنے ایک مرتبہ فرمایا: اب طواف کے دوران جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو شان و شوکت عطا فرمادی اور کفرواہلِ کفر کو ذلیل کرکے نکال دیا ہے، رمل و اضطباع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی، لیکن اس کے باوجود ہم اسے ترک نہیں کریںگے کیوں کہ ہم اسے رسو ل اللہ ﷺ کے زمانے سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ فِيمَا الرَّمَلَانُ الْآنَ وَالْكَشْفُ عَنْ الْمَنَاكِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ وَمَعَ ذَلِكَ لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. [مسند احمد]

طواف میں اضطباع

’مسنداحمد‘ میں ہے:حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرامؓنے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اضطباع کیا اور انھیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ فَاضْطَبَعُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ حَدَّثَنَا يُونُسُ جَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ، قَالَ يُونُسُ: وَقَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ الْيُسْرَى.[مسند احمد] ’ابوداود شریف‘ میں ہے:حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریمﷺ نے اضطباع کیا، پھر استلام کیا اور تکبیر کہی، پھر تین پھیروں میں رمل کیا۔ جب آپ ﷺ اور آپ کے اصحابؓرکنِ یمانی کے پاس پہنچے اور قریش کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے تو عام چال سے چلے، پھر جب سامنے آئے تو پھر رمل کیا، یہاں تک کہ قریش کہنے لگے کہ گویا یہ ہر نیں ہیں۔ حضرت ابنِ عباسؓنے فرمایا: پھر یہ فعل سنت ہوگیا۔ ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏”أَنّ النَّبِيَّ ﷺ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ يَرْمُلُونَ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ قُرَيْشٌ:‏‏‏‏ كَأَنَّهُمُ الْغِزْلَانُ”، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ فَكَانَتْ سُنَّةً. [ابوداود]

طواف کے وقت ذکر و دعا

حضرت ابو عثمان نہدیؒ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓکو بیت اللہ کے طواف کے دوران میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا:أَللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِي فِي السَّعَادَةِ، فَأَثْبِتْنِي فِيهَا، وَإِنْ كُنْتَ کَتَبْتَنِي فِي الشِّقَاوَةِ، فَامْحُنِي مِنْھَا، وَأَثْبِتْنِي فِي السَّعَادَةِ ، فَإِنَّكَ تَمْحُو مَا تَشَاءُ وَتُثْبِتُ ، وَعِنْدَكَ أُمُّ الْكِتَابِ.اے اللہ ! اگر آپ نے مجھے سعادت مند لکھ دیا ہے تو یوں ہی رہنے دیجیے اور اگر مجھے بدبخت لکھ دیا ہے تو اس کو مٹا دیجیے اور مجھے سعادت مند لکھ دیجیے، بےشک آپ جو چاہتے ہیں مٹا دیتےہیں اور جو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں اور آپ ہی کے پاس اصل کتاب ہے۔ عَنْ عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِي فِي السَّعَادَةِ، فَأَثْبِتْنِي فِيهَا، وَإِنْ كُنْتَ کَتَبْتَنِي فِي الشِّقَاوَةِ فَامْحُنِي مِنْھَا، وَأَثْبِتْنِي فِي السَّعَادَةِ ،فَإِنَّكَ تَمْحُو مَا تَشَاءُ وَتُثْبِتُ ، وَعِنْدَكَ أُمُّ الْكِتَابِ. [کنزالعمال]

رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان ذکرو دعا

حضرت عبداللہ بن السائبؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺجب رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان میں آتے تو میں نے سنا آپ فرماتے: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾۔‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ:‏﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾. [ابوداود] حضرت ابو شعبہ بکریؒ سے روایت ہےکہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓکا جائزہ لیا، آپؓبیت اللہ کے طواف کے دوران یہ پڑھتے تھے:لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ .پھر پڑھتے:﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ؁﴾ عَنْ أَبِي شُعْبَةَ الْبَكْرِي ، قَالَ : رَمَقْتُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهُوَ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ثُمَّ قَالَ :﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ؁﴾ [البقرة]. [مصنف عبدالرزاق]

دعائیں عربی زبان میں

حضرت عطابن ابی رباحؒکہتے ہیں، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمرؓنے طواف کے دوران میںایک شخص کو فارسی بولتے ہوئے سناتو آپؓنے اس کا کندھا پکڑا اور فرمایا : عربی سیکھنے کی کوشش کرو۔ عن عطاء بن أبي رباح قال: بلغني أن عمر بن الخطاب سمع رجلاً يتكلم بالفارسية في الطوافِ، فأخذَ بعضُده، و قال: ابتغِ إلى العربية سبيلاً. [کنزالعمال]

اس لیے حج و عمرے کی دعائیں عربی زبان میں کرنےکی کوشش کرنی چاہیے، گو کہ دیگر زبانوںمیں بھی گنجائش ہے۔

(کالم نگار مشہور عالمِ دین، تقریباً پچاس کتابوں کے مصنف اور الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی کے صدر و مفتی ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here