ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
انسان کی بنیادی اور فطری ضروریات میں لباس کو جو مقام حاصل ہے، وہ محض تن ڈھانپنے یا موسم کی سختیوں سے بچنے تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی تہذیبی شناخت، عفت و حیا کا مظہر اور اس کی شخصیت کا ترجمان بھی ہے۔ لباس کے معاملے میں دینِ اسلام نے کوئی ایسی غیرضروری تنگی اور سختی نہیں برتی جیسی عام طور پر کم علمی یا کج فہمی کے سبب لوگوں نے سمجھ رکھی ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح لباس کے معاملے میں بھی واضح اور متوازن اصول متعارف کروائے ہیں، جن کا مقصود اخلاقی پاکیزگی اور معاشرتی وقار کا تحفظ ہے۔
اسلامی احکام کے مطابق لباس کی بنیادی شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ستر کو مکمل طور پر چھپانے والا ہو، موسم کی سردی و گرمی سے حفاظت کا ذریعہ بنے، مرد اور عورت کی جنسیت کے درمیان امتیاز کو واضح کرے، اور کسی غیر قوم کی شعائراتی مشابہت سے خالی ہو۔ ساتر ہونے کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ بدن نظر نہ آئے بلکہ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اعضاے مستورہ کی ساخت اور باڈی شیپ نمایاں نہ ہو۔ رنگوں کے انتخاب میں مَردوں کے لیے سفید رنگ کو پسندیدہ قرار دیا گیا، تاہم دیگر رنگوں کے لباس پہننے کی بھی اجازت دی گئی ہے، بہ شرطے کہ وہ تکبر یا شہرت کا ذریعہ نہ بنیں۔ اسی طرح مَردوں کے لیے یہ پابندی بھی رکھی گئی کہ وہ ریشم نہ پہنیں اور ان کا لباس ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکے۔
جہاں تک غیر قوموں کی مشابہت کا تعلق ہے اس معاملے میں بھی ویسی شدت اختیار نہیں کی گئی جو آج کل کے بعض حلقوں میں دیکھنے میں آتی ہے۔ خود سیرتِ طیبہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رومی جبہ زیبِ تن فرمایا تھا۔ جب کوئی لباس کسی خاص قوم کی دینی یا مذہبی شناخت نہ رہے بلکہ وہ بین الاقوامی یا عمومی لباس کی شکل اختیار کر لے تو اس کے اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ جمعہ، عیدین، شادی بیاہ اور دیگر مسرت کے مواقع پر اچھے اور باوقار لباس کا اہتمام کرنا بھی ثابت ہے، البتہ اس میں اسراف اور فضول خرچی سے گریز کرنا لازم ہے۔
رسول اللہ ﷺ اپنے زمانے اور علاقے کے رواج کے مطابق عام لباس پہنتے تھے۔ آپ تہبند، چادر، کرتا، عمامہ اور ٹوپی استعمال کرتے تھے، جو زیادہ تر عام سوتی کپڑے ہوتے تھے۔ کبھی کبھار آپ باہر کے علاقوں سے آنے والے اچھے لباس یا یمنی چادریں اور شامی جبّہ بھی پہن لیا کرتے تھے۔ اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ لباس کے معاملے میں اسلام میں آسانی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اسلامی حدود میں رہتے ہوئے معمولی یا قیمتی، ہر قسم کا لباس پہنا جا سکتا ہے۔ ہر خطے اور زمانے کے لوگ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا پسندیدہ لباس پہن سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ تہذیب کی ترقی اور جغرافیائی حالات کی وجہ سے لباس بدلتے رہتے ہیں، اس لیے شریعت نے کسی خاص قسم کے لباس کو ضروری قرار نہیں دیا، بلکہ صرف بنیادی اصول دیے ہیں جن پر ہر دور میں آسانی سے عمل کیا جا سکتا ہے۔
لباس کے متعلق جامع آیت
اللہ تعالیٰ نے لباس کے متعلق ایک آیت میں جامع ہدایات دیتے ہوئے فرمایا: اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمھارے لیے لباس نازل کیا ہے جو تمھارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور جو خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے، اور تقوے کا جو لباس ہے وہ سب سے بہتر ہے،یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کریں۔ (الاعراف) اس میں انسان کے لیے لباس کی اہمیت بھی بیان فرمائی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لباس کا اصل مقصد جسم کا پردہ ہے اور ساتھ ہی لباس انسان کے لیے زینت اور خوش نمائی کا بھی ذریعہ ہے، ایک اچھے لباس کی صفت یہ ہونی چاہیے کہ وہ یہ دونوں مقصد پورے کرے اور جس لباس سے پردے کا مقصد حاصل نہ ہو وہ انسانی فطرت کے خلاف ہے،نیز ظاہری لباس پہننے کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ فکر بھی رکھنی چاہیے کہ وہ تقوے کے لباس سے آراستہ ہو۔(توضیح القرآن)
اچھا لباس پہننا جائز بلکہ پسندیدہ ہے
اسلام میں صاف ستھرا اور اچھا لباس پہننا ممنوع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار اور پسندیدہ عمل ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ کی حلال کردہ زینت اور اچھے لباس کو کسی نے حرام نہیں کیا:کہہ دیجیے کہ آخر کون ہے جس نے زینت کے اس سامان کو حرام قرار دیا ہو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ (الاعراف)ابوالاحوص اپنے والد حضرت مالک بن نضلہ الجشمیؓسے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں حضور ﷺ کے پاس معمولی کپڑوں میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا مال ہے ؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے اونٹ، بکری، گھوڑے اور غلام وغیرہ سب کچھ دے رکھے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جب اللہ نے تجھے مال دیا ہے تو چاہیے کہ اللہ کی نعمت کا اثر تیرے اوپر ظاہر ہو اور اس کی عزت بھی ظاہر ہو۔(ابوداؤد)مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو حلال و حرام ٹھہرانا صرف اس ذات پاک کا حق ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے، کسی دوسرے کی اس میں مداخلت جائز نہیں، اس لیے وہ لوگ قابلِ عتاب و عذاب ہیں جو اللہ کی حلال کی ہوئی عمدہ پوشاک یا پاکیزہ اور لذیز خوراک کو حرام سمجھیں، وسعت ہوتے ہوئے پھٹے حالوں، گندہ، پراگندہ رہنا نہ کوئی اسلام کی تعلیم ہے، نہ کوئی اسلام میں پسندیدہ چیز ہے، جیسا کہ بہت سے جاہل خیال کرتے ہیں۔ سلفِ صالحین اور ائمۂ اسلام میں بہت سے اکابر؛ جن کو اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت عطا فرمائی تھی اکثر عمدہ اور بیش قیمت لباس استعمال فرماتے تھے، آںحضرت ﷺ نے بھی جب وسعت ہوئی عمدہ سے عمدہ لباس بھی زیب تن فرمایا ہے، ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ باہر تشریف لائے تو آپ کے بدن مبارک پر ایسی چادر تھی جس کی قیمت ایک ہزار درہم تھی۔ امام اعظم ابوحنیفہؒسے منقول ہے کہ چار سو گنّی کی قیمت کی چادر استعمال فرمائی۔ اسی طرح امام مالکؒہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس استعمال فرماتے تھے، ان کے لیے تو کسی صاحب نے سال بھر کے لیے تین سو ساٹھ جوڑوں کا سالانہ انتظام اپنے ذمّے لیا ہوا تھا، اور جو جوڑا امامؒکے بدن پر ایک مرتبہ پہنچتا تھا دوبارہ استعمال نہ ہوتا تھا، کیوںکہ صرف ایک روز استعمال کرکے کسی غریب طالبِ علم کو دے دیتے تھے۔وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنی نعمت اور وسعت عطا فرماویں تو اللہ تعالیٰ اس کو پسند فرماتے ہیں کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے لباس وغیرہ میں دیکھا جائے، اس لیے کہ اظہارِ نعمت بھی ایک قسم کا شکر ہے، اس کے بالمقابل وسعت ہوتے ہوئے پھٹے پرانے یا میلے کچیلے کپڑے استعمال کرنا ناشکری ہے۔ہاں ضروری بات یہ ہے کہ دو چیزوں سے بچے؛ ایک ریا و نمود، دوسرے فخر و غرور؛ یعنی محض لوگوں کو دکھلانے اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے لباسِ فاخر استعمال نہ کرے۔(معارف القرآن)
حضور ﷺ کا اُسوۂ حسنہ
حضرت نبی کریمﷺلباس کے معاملے میں کو ئی (خاص تکلف یا) اہتمام نہیں فرماتے تھے، جومیسر آتا اس کو استعمال فرماتے تھے، کبھی عمدہ لباس بھی آپﷺ نے زیبِ تن فرمایااورکبھی معمولی بھی۔ ایک مرتبہ ایک لباس آپ نے تینتیس اونٹ دے کر سلایا اور زیبِ تن فرمایا۔ اگر عمدہ لباس پہن کر آدمی کی طبیعت میںکوئی فخر اور غرور پیدا نہ ہو تو کوئی حرج کی بات نہیں، اللہ تعالیٰ نے نعمت دی ہے تو پہن سکتاہے، اور اگر عمدہ لباس پہن کر طبیعت میں غرور آتا ہےاور اس لباس کی وجہ سے آدمی دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے تو ایسا لباس اس کے لیے ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ یہی حال معمولی لباس کا بھی ہے، بعض لوگ معمولی لباس پہن کر اپنی تواضع کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اس کو بھی شریعت پسند نہیں کرتی۔ہاں اگر واقعتاً تواضع اور خاکساری کی وجہ سے معمولی لباس زیبِ تن کرتا ہے تو پسندیدہ ہے، کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ بہرحال کوئی بھی شکل ہو، شریعت کی ہدایت کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ (محمودالخصائل شرح الشمائل)






