Home Dept of Islamic Studies Articles حِجَامہ:ایک عظیم تحفۂ معراج اور بہترین علاج

حِجَامہ:ایک عظیم تحفۂ معراج اور بہترین علاج

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

قسط (۱)

انسانی جسم قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جسے صحت و تندرستی کی صورت میں ایک بیش بہا نعمت سے نوازا گیا ہے۔ آزمائش اور بیماریوں کے اس جہان میں خالقِ کائنات نے جہاں درد پیدا کیا وہیں شفا کے سرچشمے بھی جاری کیے۔ اِنھی سرچشموں میں سے ایک لازوال اور بابرکت نسخہ ’حجامہ‘ ہے۔ یہ محض ایک علاج نہیں بلکہ آسمانی دنیا سے زمینی دنیا کے انسانوں کے لیے بھیجا گیا صحت کا وہ پیغام ہے جس کی سفارش فرشتوں نے شبِ معراج کے تاریخی سفر میں سرورِ کائنات ﷺ سے کی تھی۔ طبِ نبوی کا یہ عظیم نسخہ نہ صرف جسم کے فاسد مادّوں کو نکال باہر کرتا ہے بلکہ انسان کو چست، بینائی کو تیز اور کمر کو ہلکا کر دیتا ہے۔

حجامہ کی تعریف

’حِجامہ‘ ’حِجم‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں ’چوسنا‘۔ ’حجّام‘ مصاص (چوسنے والا) کے معنی میں ہے اور ’حجامہ‘ یا ’حجامت‘ چوسنے کا عمل ہے، اور ’مِحْجَم‘ کا اطلاق اس آلے؛ جس میں خون جمع ہوتا ہے اور حجامہ کرنے والے کے نشتر پر بھی ہوتا ہے۔فقہا کے کلام میں ’حجامہ‘ بعض کے نزدیک فصد کے بغیر نشتر کے ذریعے سر کے پچھلے حصّے سے خون نکالنے کو کہتے ہیں۔ زُرقانیؒ نے ذکر کیا ہے کہ حجامہ سر کے پچھلے حصّے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ سارے بدن سے ہوتا ہے۔ خطابیؒاسی طرف گئے ہیں۔ فصد اور حجامہ دونوں اس اعتبار سے مشترک ہیں کہ دونوں میں خون نکالا جاتا ہے اور اس اعتبار سے مختلف ہیں کہ فصد میں رگ کو کھولا جاتا اور حجامہ میں نشتر لگا کر خون نکالا جاتا ہے۔الْحِجَامَةُ: مَأْخُوذَةٌ مِنَ الْحَجْمِ أَيِ الْمَصِّ. يُقَالُ: حَجَمَ الصَّبِيُّ ثَدْيَ أُمِّهِ إِذَا مَصَّهُ. وَالْحَجَّامُ الْمَصَّاصُ، وَالْحِجَامَةُ صِنَاعَتُهُ وَالْمِحْجَمُ يُطْلَقُ عَلَى الآْلَةِ الَّتِي يُجْمَعُ فِيهَا الدَّمُ وَعَلَى مِشْرَطِ الْحَجَّامِ… وَالْحِجَامَةُ فِي كَلاَمِ الْفُقَهَاءِ قُيِّدَتْ عِنْدَ الْبَعْضِ بِإِخْرَاجِ الدَّمِ مِنَ الْقَفَا بِوَاسِطَةِ الْمَصِّ بَعْدَ الشَّرْطِ بِالْحَجْمِ لاَ بِالْفَصْدِ. وَذَكَرَ الزَّرْقَانِيُّ أَنَّ الْحِجَامَةَ لاَ تَخْتَصُّ بِالْقَفَا بَلْ تَكُونُ مِنْ سَائِرِ الْبَدَنِ. وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ الْخَطَّابِيُّ…فَالْفَصْدُ وَالْحِجَامَةُ يَجْتَمِعَانِ فِي أَنَّ كُلًّا مِنْهُمَا إِخْرَاجٌ لِلدَّمِ، وَيَفْتَرِقَانِ فِي أَنَّ الْفَصْدَ شَقُّ الْعِرْقِ، وَالْحِجَامَةُ مَصُّ الدَّمِ بَعْدَ الشَّرْطِ. (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ)

حجامہ کا شرعی حکم

حجامہ مندوب و مستحب ہے، حجامہ کے ذریعے علاج کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اس سلسلے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، صحاحِ ستہ سمیت حدیث کی کتابوں میں اس سلسلے کی بہت سی روایات موجود ہیں، یہاں ہم نے چالیس سے زیادہ احادیث و آثار نقل کیے ہیں۔التَّدَاوِي بِالْحِجَامَةِ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ، وَوَرَدَ فِي ذَلِكَ عِدَّةُ أَحَادِيثَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ…وَمِنْهَا مَا رَوَاهُ الشَّيْخَانِ. (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ)

جدید صورتیں اور حجامہ کی سنت

’بنوری ٹاؤن، کراچی‘ کے فتوے میں ہےکہ حجامہ یعنی پچھنے لگوانا رسولِ اکرم ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے، ہر دور میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے، اس طریقۂ علاج میں کٹ لگا کر خون کو نکلنے دیا جاتا ہے جس کا مقصد گردشِ خون کو بحال کرنا ہوتا ہے، عصرِ حاضر میں اس کی جدید صورتیں وجود میں آچکی ہیں، جن میں بلاتکلیف اور آسان طریقے سے خون نکالا جاتا ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مروجہ طریقے پر پچھنے لگوانے سےبھی سنت پر عمل کرنے کا ثواب ہوگا بہ شرطےکہ حجامہ کرنے والا اس فن میں ماہر ہو ، ورنہ ناتجربےکار جاہل سے حجامہ کرنے کی صورت میں اگر نقصان ہوجائے تو اس کی ذمّےدار شریعت نہیں ہے۔

معراج میں فرشتوں نے حجامہ کے لیے کہا

حضرت عبداللہ بن عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا : معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا : محمد ﷺ! آپ حجامہ کو لازم کرلیں۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ،‏‏‏‏ إِلَّا كُلُّهُمْ،‏‏‏‏ يَقُولُ لِي:‏‏‏‏ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ”.(ابن ماجہ) حضرت ابنِ مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے شبِ معراج کا قصہ سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ فرشتوں کے کسی ایسے گروہ کے پاس سے نہیں گزرے جس نے آپ کو اپنی امت کو حجامہ کروانے کا حکم دینے کے لیے نہ کہا ہو۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ:‏‏‏‏ ” أَنَّهُ لَمْ يَمُرَّ عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا أَمَرُوهُ:‏‏‏‏ أَنْ مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ “، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ. (ترمذی)

حجامہ بہترین علاج ہے

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو علاج بھی تم کرتے ہو ان میں سے اگر کسی میں بہتری ہے تو وہ حجامہ میں ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَن النَّبِيِّ ﷺ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ،‏‏‏‏ فَالْحِجَامَةُ”. (ابن ماجہ)

حجامہ کے ذریعے درد سے شفا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے احرام کی حالت میں ایک درد کی وجہ سے -جو آپ کو ہوا تھا-حجامہ کروایا۔ عَنْ جَابِرٍ “أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ احْتَجَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ مُحْرِمٌ عَنْ رَهْصَةٍ أَخَذَتْهُ”. (ابن ماجہ)حضرت جابر ؓ ہی سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ اپنے گھوڑے سے کھجور کے ایک ٹنڈ پر گرے تو آپ کے پاؤں مبارک میں موچ آگئی۔ وکیع فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺنے صرف درد کی وجہ سے حجامہ کروایا۔ عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ،‏‏‏‏”سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ،‏‏‏‏ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ”،‏‏‏‏ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي:‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ. (ابن ماجہ)

حجامہ میں شفا ہے

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ۱۷، ۱۹، یا ۲۱؍ تاریخ میں حجامہ کروایا، اس کے لیے ہر بیماری سے شفا ہے۔ ‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ “مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَتِسْعَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ”. (ابوداود) حضرت جابر ؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا: اگر تمھاری دواؤں میں سے کسی چیز میں شفا ہے تو وہ حجامہ یا آگ سے داغ دینے میں ہے اور میں داغ دینے کو پسند نہیں کرتا۔ ‏‏حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرًا ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ شِفَاءٌ فَفِي:‏‏‏‏ شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ”. (بخاری)حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: شفا تین چیزوں میں ہے: حجامہ، شہد یا آگ سے داغ دینا، اور میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ:‏‏‏‏ فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ”. (بخاری)

حجامہ سے کمر ہلکی اور نگاہ تیز ہو جاتی ہے

حضرت عبداللہ بن عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حجامہ کرنے والا بہترین شخص ہے، وہ خون نکال دیتا ہے اور کمر کو ہلکا نیز نگاہ کو تیز کرتا ہے۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ “نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ،‏‏‏‏ يَذْهَبُ بِالدَّمِ،‏‏‏‏ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ،‏‏‏‏ وَيَجْلُو الْبَصَرَ”. (ابن ماجہ)

حضور نے حجامہ کروایا اور اجرت ادا کی

حضرت سَمُرَہ بن جندبؓسے روایت ہے، ایک مرتبہ میں حضرت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے حجامہ کرنے والے کو بلایا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آیا، اس نے آپ کو سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا، اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا، جس کا تعلق بنوجَذِیمہ کے ساتھ تھا۔ اس نے آپﷺ کو جب حجامہ کرواتے ہوئے دیکھا تو چوں کہ اسے اس کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا اس لیے وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دی؟ آپ ﷺنے فرمایا: اسے’ حجم‘ کہتے ہیں۔ اس نے پوچھا:حجم کیا چیز ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا: علاج کا سب سے بہترین طریقہ، جس سے لوگ علاج کرتے ہیں۔ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَدَعَا الْحَجَّامَ، فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ، فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا، قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ، فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ، فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ، وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ، وَلَا يَعْرِفُهَا، قَالَ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ، قَالَ: هَذَا الْحَجْمُ، قَالَ: وَمَا الْحَجْمُ؟ قَالَ: هَذَا مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ. (مسند احمد) حضرت انسؓسے روایت ہے، ان سے حجامہ کرنے والے کی مزدوری کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے حجامہ کروایا تھا۔ ابو طیبہ نے آپ کا حجامہ کیا اور آپ نے اسے دو صاع غلہ دیا تھا۔ نیز آپ نے ابو طیبہ کے آقاؤںسے ان کے ٹیکس کے متعلق گفتگو کی تو انھوں نے اس میں تخفیف کردی تھی۔ آپ نے فرمایا : بہترین علاج جو تم کرتے ہو، وہ حجامہ اور عودِ بحری استعمال کرنا ہے۔ آپ نے مزید فرمایا : تم اپنے بچوں کو حلق کی بیماری کی وجہ سے ان کا تالو دبا کر تکلیف نہ دیا کرو بلکہ قسطِ ہندی استعمال کیا کرو۔ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَجْرِ الْحَجَّامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ “احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَخَفَّفُوا عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْقُسْطِ. (بخاری ) حضرت عکرمہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حجامہ کروایا اور حجامہ کرنے والے کو مزدوری میں ایک دینار عطا فرمایا۔ عَنْ عِکْرِمَۃَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ، وَأَعْطَی الْحَجَّامَ عُمَالَتَہُ دِینَارًا.(مصنف ابن ابی شیبہ )

ہر ماہ حجامہ کروانا

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، حضر ت نبی کریم ﷺ ہر رات سرمہ لگاتے تھے ، ہر مہینے حجامہ کرواتے تھے اور ہر سال دوا پیتے تھے ۔ كان يكتحل كل ليلة، ويحتجم كل شهر، ويشرب الدواء كل سنة.عائشة.(کنزالعمال) اس روایت میں کلام ہے۔

جاری۔۔۔

(ممبئی و مضافات والے حجامہ کروانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here