Home Dept of Islamic Studies Articles مسجدِ نبوی میں ایک نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے

مسجدِ نبوی میں ایک نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

مسجدِ نبوی اور اس کی زیارت

حضرت نبی کریم ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اور اول جس جگہ آپ کی ناقہ آکر بیٹی تھی، وہ جگہ یتیموں کا مربد تھا یعنی کھجور خشک کرنے کی جگہ تھی۔ آپ نے اس جگہ کی بابت دریافت کیا کہ یہ جگہ کس کی ملکیت ہے؟ معلوم ہواکایہ خرمن سہل اور سہیل کی ہے ۔ آپ نے ان دونوں یتیموں کو بلایا تاکہ ان سے یہ قطعہ خرید کر مسجد بنائیں اور ان کے چچاسے -جن کی زیرِ تربیت یہ دونوں یتیم تھے- خریدوفروخت کی گفتگو فرمائی۔ ان دونوں نے کہا: ہم اس خرمن کو بلا کسی معاوضے کے آپ کی نذر کرتے ہیں، ہم اللہ کے سوا کسی سے اس کی قیمت کے خواست گار نہیں، مگر آپ نے قبول نہیں فرمایا اور قیمت دے کر خرید لیا۔ بعد ازاں اس زمین پر جو کھجور کے درخت تھے آپ نے ان کے کٹوانے اور قبورِ مشرکین کے ہموار کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعد کچی اینٹیں بنانے کا حکم دیا اور خود بہ نفسِ نفیس اس کے بنانے میں مصروف ہو گئے اور انصار و مہاجرین بھی آپ کے ساتھ شریک تھے۔ [سیرۃ المصطفیٰ] یہی مسجد ’مسجدِ نبوی‘ کہلاتی ہے۔

مسجدِ نبوی میں بہت سی بھلائیاں ہیں

حضرت ابوسعید خدریؓسے روایت ہے، بنی خُدرہ اور بنی عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کا اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی ہے۔ خُدری نے کہا: وہ مسجدِ نبوی ہے، دوسرے نے کہا: وہ مسجدِ قبا ہے۔ پھر وہ دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ یہی (مسجدِ نبوی) ہے، اور اس میں بہت سے بھلائیاں ہیں۔ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ امْتَرَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْخُدْرِيُّ:‏‏‏‏ ” هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْآخَرُ:‏‏‏‏ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ هَذَا يَعْنِي مَسْجِدَهُ وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ”. [ترمذی]

مسجدِ نبوی میں ایک ہزار نمازوں کا ثواب

حضرت عائشہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں انبیا کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور میری مسجد انبیا کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے۔ تمام مساجد میں جو سب سے زیادہ یہ حق رکھتی ہیں کہ ان کی زیارت کی جائے اور ان کی طرف سفر کیا جائے وہ مسجدِحرام اور میری مسجد ہے۔ میری مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کسی اور مسجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے، سوائے مسجدِ حرام کے۔عَن عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَت، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَنَا خَاتَمُ الْأنْبِيَاءِ، وَ مَسْجِدِىْ خَاتَمُ مَسَاجِدِ الْأَنْبِيَاءِ، أحَقُّ الْمَسَاجِدِ أنْ يُزَارَ، وتُشَدَّ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلَ: الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ وَ مَسْجِدِىْ. صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِى أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيْمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ.[الترغیب و الترہیب] حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجدِ حرام میں نماز ادا کرنا ثواب کے اعتبار سے ایک لاکھ نمازوں کے برابر، مسجدِ نبوی میں نماز ادا کرنا ایک ہزار نمازوں کے برابر اور مسجدِ اقصیٰ میں نماز ادا کرنا پانچ سو نمازوں کے برابر ہے۔عن جابر بن عبد الله قال، قال رسول اللہ ﷺ : صلاةٌ في المسجدِ الحرامِ مائةُ ألفِ صلاةٍ، وصلاةٌ في مسجدِي ألفُ صلاةٍ، وفي بيتِ المقدسِ خمسمائةِ صلاةٍ. [شعب الایمان بیہقی]

مسجدِ نبوی میں پچاس ہزار نمازوںکا ثواب

حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے، رسول ﷺ نے فرمایا: مرد کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز کے برابر، محلّے کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کے برابر، جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کے برابر، مسجدِ اقصٰی میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر، میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر اور مسجدِ حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ “صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِ مِائَةِ صَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ”. [ابن ماجہ]

مسجدِ نبوی میں چالیس نمازوں کا ثواب

حضرت انسؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھ لے کہ اس سے کوئی نماز چھوٹ نہ جائے، اس کے لیے جہنم سے براءت، عذاب سے نجات اور نفاق سے براءت لکھ دی جاتی ہے۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا تَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنْ النَّارِ وَنَجَاةٌ مِنْ الْعَذَابِ وَبَرِئَ مِنْ النِّفَاقِ.[مسند احمد]

ریاض الجنۃ

حضرت علی بن ابی طالبؓاور ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک ’ریاض الجنہ‘ ہے۔عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ ” مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ “. [ترمذی]

حضورﷺ کا منبر

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي”.[بخاری]

مسجدِ نبوی میں سیکھنا سکھانا

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میری مسجد میں کسی خیر کے لیے آئے، کچھ سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے، اس کی مثال اس مجاہد کی سی ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کررہا ہو، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسروں کے سامان کو دیکھ رہا ہو۔ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ یَقُولُ : مَنْ جَاءَ مَسْجِدِی ھَذَا لَمْ یَأْتِہِ إِلاَّ لِخَیْرٍ یُعَلِّمُہُ ، أَوْ یَتَعَلَّمُہُ فَھُوَ بِمَنْزِلَۃِ الْمُجَاھِدِ فِی سَبِیلِ اللہِ وَمَنْ جَائَہُ لِغَیْرِ ذَلِکَ فَھُوَ بِمَنْزِلَۃِ الرَّجُلِ یَنْظُرُ إلَی مَتَاعِ غَیْرِہِ۔[مصنف ابن ابی شیبہ]

آپ کی زیارت کے ساتھ مسجدِ نبوی کی زیارت

حضرت ابوسعیدخدریؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے سفر نہ کیا جائے: (۱)مسجدِحرام (۲)میری مسجد اور (۳)مسجدِ اقصیٰ۔عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ ” لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، ‏‏‏‏‏‏مَسْجِدِ الْحَرَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى “. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. [ترمذی]

علامہ ابن ہمامؒ فرماتے ہیں:میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ خالص زیارت کی نیت کرےکیوں کہ حدیث ’میری زیارت کے سوا کوئی حاجت اس کو نہ لائی ہو‘ کے ظاہر کے موافق ہے۔والأولی فیما یقع عند العبد الضیعف تجرید النیة لزیارة قبر النبی ﷺ … و یوافق ظاھر ما ذکرناہ من قولہ علیہ الصلوٰة والسلام، لا تعملہ حاجة إلا زیارتی. [فتح القدیر] علامہ خلیل احمد سہارنپوریؒ فرماتے ہیں:ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک زیارتِ قبرِ سید المرسلین (ہماری جان آپ پر فدا) اعلیٰ درجے کی قربت اور نہایت ثواب اور سببِ حصولِ درجات ہےبلکہ واجب کے قریب ہے، گو شدِّ رحال اورجان و مال خرچ کرنے سے نصیب ہو، اور سفر کے وقت آپ کی زیارت کی نیت کرے اور ساتھ میں مسجدِ نبوی وغیرہ کی نیت کرے۔عندنا وعند مشائخنا زیارة قبر سید المرسلین (روحی فداہ) من أعظم القربات و أھم المثوبات و أنجح لنیل الدرجات بل قریبة من الواجبات، وإن کان حصولہ بشدّ الرحال و بذل المھج و الأموال و ینوی وقت الارتحال زیارة علیہ الف الف تحیة و سلام و ینوی معھا زیارة مسجدہ ﷺ.[المہند علی المفند]

(کالم نگار مشہور عالمِ دین، تقریباً پچاس کتابوں کے مصنف اور الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی کے صدر و مفتی ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here