[قسط اوّل]
ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
مِلّت کی بقا، اس کے عروج اور فکری و اخلاقی استحکام کا دارومدار بڑی حد تک اس کے نوجوان طبقے پر ہوتا ہے۔ جوانی عمر کا وہ حصہ ہے جو ولولے، جوشِ عمل اور لامحدود توانائیوں سے عبارت ہوتا ہے۔ جب بھی کسی قوم نے اس قیمتی سرمایے کی قدر کی اور اس کی توانائیوں کو درست سمت عطا کی تو وہ دنیا کی امامت کے منصب پر فائز ہوئی۔یہی وجہ ہے کہ محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے نئی نسل کی تربیت، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کے جذباتی و اخلاقی توازن کو برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی۔ آپ نے نو عمر صحابہ کرامؓکو بڑی بڑی ذمّےداریاں سونپیں، ان کی مخفی صلاحیتوں پر اعتماد کیا، ان کے جذباتی اور فکری ابہام کو حکمت اور محبت کے ساتھ دور کیا اور انھیں شریعت کے عملی نفاذ اور دعوتِ دین کا ہراول دستہ بنایا۔زیرِ نظر مضمون میں اسی نبوی منہجِ تربیت کی جھلک پیش کی گئی ہے کہ کس طرح رحمتِ دو عالم ﷺ نے نوجوانوں کی تربیت اور ان کے عزم کو جلا بخشنے کا فریضہ انجام دیا۔ یہ اسوۂ حسنہ ہمارے دور کے والدین، اساتذہ اور مربیان کے لیے بھی ایک روشن مینارۂ نور ہے کہ وہ نئی نسل کو گمراہیوں سے بچا کر ملت کا قیمتی اثاثہ کیسے بنا سکتے ہیں۔
جوانی کی عبادت پر عرش کے سائے کی بشارت
حضرت عقبہ بن عامر ؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس نوجوان سے خوش ہوتا ہے جس میں جوانی کی نادانی نہیں ہوتی۔ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْجَبُ مِنْ الشَّابِّ لَيْسَتْ لَهُ صَبْوَةٌ.[مسند احمدبن حنبل] اس باوقار جوانی کی فضیلت کو مزید اجاگر کرتے ہوئےحضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا: سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں اس دن جگہ دےگا جس روز اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا: (۱)انصاف کرنے والا حکمران (۲)وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں پروان چڑھے (۳)وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں اٹکا رہتا ہو (۴)وہ دو شخص جو اللہ کے لیے دوستی کریں، جمع ہوں تو اس کے لیے اور جدا ہوں تو بھی اسی کے لیے (۵)وہ شخص جسے کوئی خوب رو اور معزز عورت برائی کی دعوت دے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں (۶)وہ شخص جو اس قدر پوشیدہ طور پر صدقہ دے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہ چلے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کرتا ہے (۷)وہ شخص جو خلوت میں اللہ کو یاد کرے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: “سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ”. [بخاری]
جوانی کو نیکی اور تقوے میں صَرف کرنے کی ترغیب
نوجوانوں کی تربیت کے اس نبوی منہج میں جوانی کے اس قیمتی سرمایے کی حفاظت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمروؓفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺمیرے پاس سے گزرے، میں اور میری والدہ دیوار پر گارے کا لیپ کر رہے تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اے عبداللہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ دیوار کچھ خراب ہوگئی تھی، اسے درست کررہا ہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا: ’معاملہ‘ (یعنی موت کا وقت) اس سے بھی زیادہ جلدی آنے والا ہے۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: “مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا أُطَيِّنُ حَائِطًا لِي أَنَا وَأُمِّي، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَيْءٌ أُصْلِحُهُ، فَقَالَ: الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ[ذاک]”. [ابوداود]
حضرت اسامہ بن زیدؓ کو لشکر کا سپہ سالاربنانا
نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بہترین نبوی انداز یہ تھا کہ انھیں بڑی ذمّےداریاں سونپی جائیں۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے نو عمر صحابہؓکو بڑی بڑی ذمّےداریاں دیں تاکہ ان میں قیادت اور خود اعتمادی کی صلاحیتیں ابھر سکیں۔ مثال کے طور پر آپ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو محض اٹھارہ برس کی عمر میں ایک عظیم لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ حضرت ابنِ عمرؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے قوم (مہاجروانصار) پر اسامہؓکو امیر بنایا تو لوگوں نے ان کی امارت پر طعن کیا۔ آپ ﷺنے فرمایا: اگر آج تم اسامہ کی امارت پر طعن کر رہے ہو تو پہلے تم نے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کیا تھا۔ قسم ہے اللہ کی ! وہ امیر ہونے کے مستحق اور اہل تھے اور وہ مجھے تمام لوگوں میں زیادہ محبوب تھے اور ان کے بعد یہ (اسامہ) مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ: “إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ”. [بخاری]
حضرت زیدؓ کو اہم ذمّےداری سونپنا
میدانِ جنگ کے علاوہ علمی و انتظامی امور میں بھی نو عمروں کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کیا جاتا تھا، چناںچہ حضرت زید بن ثابتؓکو عبرانی زبان سیکھنے اور سرکاری خطاطی کی ذمّے داری سونپی گئی۔حضرت زید بن ثابتؓکہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لیے یہود کی کچھ تحریر سیکھ لوں۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم! میں یہود کی تحریر پر اعتماد و اطمینان نہیں کرتا۔ چناںچہ ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے آپ کے لیے اسے سیکھ لیا۔ جب میں (سریانی) سیکھ گیا تو آپ اگر یہودیوں کو کچھ لکھواتے تو میں لکھتا، اور اگر ان کی طرف سے کوئی چیز آتی تو میں اسے پڑھ کر سناتا۔عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: ” أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أَتَعَلَّمَ لَهُ كَلِمَاتٍ مِنْ كِتَابِ يَهُودَ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابٍ، قَالَ: فَمَا مَرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ، حَتَّى تَعَلَّمْتُهُ لَهُ، قَالَ: فَلَمَّا تَعَلَّمْتُهُ كَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى يَهُودَ كَتَبْتُ إِلَيْهِمْ، وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهُ كِتَابَهُمْ “. [ترمذی] کیوں کہ یہود سے اگر کوئی چیز لکھائی جاتی یا ان سے کوئی چیز پڑھوائی جاتی دونوں صورتوں میں ان کی طرف سے کمی و زیادتی کا امکان تھا ، اسی خطرے کے پیشِ نظر آپ ﷺنے زید بن ثابتؓکو یہود کی زبان سیکھنے کا حکم دیا۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ کو مدینے کا پہلا سفیر بنانا
صلاحیتوں کے اس اعتراف کا دائرۂ کار مدینہ طیبہ کی تبلیغی مہم تک بھی وسیع تھا، چناںچہ حضرت براء بن عازبؓفرماتے ہیں کہ سب سے پہلے (مدینے میں) ہمارے پاس حضرت مصعب بن عمیر ؓ اور ابنِ اُم مکتومؓآئے تھے، ان کے بعد حضرت عمار بن یاسرؓ اور بلالؓتشریف لائے تھے۔ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: “أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ،وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ”. [بخاری]
حضرت معاذؓ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنا
جب نوپختہ صلاحیتوں کو وسعت دینے کا مرحلہ آیا تو آپ ﷺ نے حکومتی و انتظامی ذمّےداریاں بھی ان کے سپرد فرمائیں، جیسا کہ حضرت ابنِ عباسؓنے بیان کیا ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذؓکو یمن بھیجا اور فرمایا کہ تم انھیں یہ شہادت دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رات دن میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر ان کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائےگا۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ”أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ”. [بخاری]
حضرت معاذؓسے محبت کا اظہار کرنا
مادّی اور منصبی ذمّےداریوں کی ادایگی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی قلبی محبت اور روحانی تربیت بھی نبوی منہج کا خاصہ رہی ہے، چناںچہ حضرت معاذ بن جبلؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں، اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ پھر فرمایا : میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد اس دعا کو پڑھنا نہ چھوڑنا:اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلٰى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ (اے اللہ! اپنے ذکر و شکر اور اچھی طرح عبادت کرنے پر میری مدد کیجیے)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: “يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ”. [ابوداود]






