قرآن کا پیغام (پارہ:۲۳)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا تیئیسواں پارہ ﴿وَمَا لِيَ﴾سورۂ یٰسین کی آیت نمبر۲۸؍ سے شروع ہوتا ہے اور سورۃ الزمر کی آیت نمبر۳۱؍پر ختم ہوتا ہے۔ یہ پارہ اپنی بلاغت، تنبیہوں اور دلوں کو پگھلا دینے والے تذکروں کی وجہ سے ایک منفرد مقام کا حامل ہے۔
رسولوں کے انکار کی سزا: پارے کا آغاز اس المیے سے ہوتا ہے کہ جب انسانوں کے پاس اللہ کے رسول آئے تو انھوں نے ان کا مذاق اڑایا، تو اللہ نے انھیں ایک زوردار چنگھاڑ کے ذیعے ہلاک کر دیا اور وہ بجھ کر رہ گئے: ﴿اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ﴾۔
کائناتی توازن: اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ثبوت کے طور پر سورج اور چاند کی مثال دی کہ کس طرح وہ ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ سورج ایک معینہ وقت تک چل رہا ہے اور چاند کی بھی منزلیں مقرر ہیں۔ یہ سب اس عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے۔قرآن مجید میں ان اجرامِ فلکی کے نظم و ضبط کو جس انداز میں بیان کیا گیا ہے، وہ علمِ فلکیات [Astronomy] کے لحاظ سے بھی حیرت انگیز ہے۔
اعضا کی گواہی: قیامت کے دن کا لرزہ خیز نقشہ کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾ آج کے دن ہم ان کے منھ پر مہر لگادیں گے، اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے، اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کمائی کیا کرتے تھے۔یہ آیت انسان کو تنہائی کے گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔
﴿كُنْ فَيَكُوْنُ﴾ کا فلسفہ: سورت کے آخر میں کہا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ صرف اسے کہتا ہے’ہو جا‘ اور وہ ہو جاتی ہے: ﴿اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ﴾۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا اعلان ہے، جس کے سامنے کسی کا بس نہیں چلتا۔
سورۃ الصافات
یہ سورت فرشتوں کی صفوں کے ذکر سے شروع ہوتی ہے:﴿وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا﴾ قسم ان کی جو پرے باندھ کر صف بناتے ہیں۔اس سورت کا بڑا حصہ مشرکین کے ان شکوک و شبہات کے جواب پر مشتمل ہے جو وہ قیامت اور فرشتوں کی جنس کے بارے میں رکھتے تھے۔
شجرۂ زقوم اور اہلِ جہنم: اللہ تعالیٰ نے جہنم کے اندر ایک درخت ’زقوم‘ کا ذکر کیا ،جو جہنمیوں کی غذا ہوگا۔ اس کی ہول ناکی کا عالَم یہ ہے کہ اس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو دنیا کی عارضی لذتوں میں کھو کر اللہ تعالیٰ کو بھول گئے۔
حضرت ابراہیمؑاور اسماعیلؑکا امتحان: اس پارے کا سب سے جذباتی اور ایمان افروز حصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب اور اپنے بیٹے کی قربانی کرنا ہے۔ جب بیٹے نے کہا: ﴿يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ﴾ ابا جان ! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دوونوں کے خلوص کو قبول فرمایا اور ذبحِ عظیم فدیے میں دے دیا:﴿وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ﴾۔ یہ واقعہ اطاعتِ الٰہی کی انتہا ہے۔
حضرت یونسؑکا تذکرہ: مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونسؑکی تسبیح کا حوالہ دیا اور بتایا گیا کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے۔ آیتِ کریمہ کے نام سے مشہور یہ دعا ہر مشکل اور تنگی سے نجات کا نسخہ ہے۔
سورہ صٓ
اس سورت میں بڑے جلیل القدر بادشاہ اور انبیا کا ذکر ہے، تاکہ انسان کو سمجھ میں آئے کہ طاقت اور اقتدار میں بھی اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا ضروری ہے۔
حضرت داودؑ کی انابت: ان کو بہت سی نعمتیں دی گئیں،پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ ان کے پاس دو فریادیوں کا آنا اور حضرت داودؑکا اپنی غلطی کا احساس کر کے سجدے میں گر جانا، یہ بتاتا ہے کہ ایک سچا مومن وہ ہے جو حق واضح ہوتے ہی اپنی انا چھوڑ کر توبہ کر لے۔
حضرت سلیمانؑکی دعا اور بادشاہت: حضرت سلیمانؑنےاللہ تعالیٰ سے ایسی بادشاہت کی دعا کی تھی جو ان کے بعد کسی اور کو نہ ملے: ﴿وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ﴾ اور ان کی دعا قبول کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے ہوا کو ان کے قابو میں کردیا جو ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے ہموار ہو کر چلا کرتی تھی، اور شریر جنات بھی ان کے قابو میں دے دیے تھے، جن میں ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور شامل تھے۔
حضرت ایوبؑاور ان کا صبر: بیماری اور تکلیف میں حضرت ایوبؑکا صبر رہتی دنیا تک مثال بن گیا۔ انھوں نے شکایت کے بجائے اللہ تعالیٰ کو پکارا تو اللہ نے انھیں نہ صرف صحت بخشی بلکہ ان کا خاندان اور مال و متاع بھی دوگنا کر کے واپس کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ ۘ، الآیۃ﴾ اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو، جب انھوں نے اپنے رب کو پکارا تھا کہ شیطان مجھے دکھ اور آزار لگا گیا ہے۔ ہم نے ان سے کہا: اپنا پاؤں زمین پر مارو، لو ! یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کے لیے بھی اور پینے کے لیے بھی۔ اور اس طرح ہم نے انھیں ان کے گھر والے بھی عطا کردیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی، تاکہ ان پر ہماری رحمت ہو، اور عقل والوں کے لیے ایک یادگار نصیحت۔
سورۃ الزمر
تخلیق کے مراحل:پارے کا آخری حصہ سورۃ الزمر پر مشتمل ہے جو توحیدِ خالص کا درس دیتی ہے۔یہ سورت مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ، اس میں مشرکین کے مختلف باطل عقیدوں کی تردید فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس نے تم سب کو ایک شخص سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کا جوڑ بنایا، اور تمھارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے پیدا کیے، وہ تمھاری تخلیق تمھاری ماؤں کے پیٹ میں اس طرح کرتا ہے کہ تین اندھیریوں کے درمیان تم بناوٹ کے ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے سے گزرتے ہو۔ وہ ہے اللہ جو تمھارا پروردگار ہے۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، پھر بھی تمھارا منھ آخر کوئی کہاں سے موڑ دیتا ہے ؟﴿لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ﴾۔
تکلیف میں اللہ کو یاد کرنا اور پھر بھول جانا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِيْبًا اِلَيْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْٓا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ قُلْ تَمَــتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا ڰ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ﴾ اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی سے لو لگا کر پکارتا ہے، پھر جب وہ انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ تعالیٰ کو پکار رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ کے لیے شریک گھڑ لیتا ہے، جس کے نتیجے میں دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے بھٹکاتا ہے۔ کہہ دیجیے کہ کچھ دن اپنے کفر کے مزے اڑالے، یقیناً تو دوزخ والوں میں شامل ہے۔
علم کی فضیلت:دو ٹوک الفاظ میں سوال کیا گیا:﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ﴾کہو کہ کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟جاننے والا اللہ کی عظمت کو پہچان کر خشیت کے ساتھ بندگی کرتا ہے اور نہ جاننے والا غفلت میں زندگی گزارتا ہے۔
خلاصۂ کلام:یہ پارہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قدرتِ الٰہی ہر طرف بکھری ہوئی ہے، ضرورت صرف بصیرت کی ہے اور یہ کہ ہم کائنات کی رنگینیوں میں کھونے کے بجائے اس ذات کی طرف پلٹیں جو رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور جو تنہا پوری کائنات کا مالک ہے۔





