Home Dept of Islamic Studies مفتی کا منصب اور مفتیانِ کرام کے داخلی و خارجی مسائل (۲)

مفتی کا منصب اور مفتیانِ کرام کے داخلی و خارجی مسائل (۲)

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

تحقیقی مراجع کا فقدان اور معاشی بے حسی

ایک محقق مفتی کو جدید دور کے چیلنجز کا جواب دینے کے لیے صرف قدیم فتاویٰ کافی نہیں ہوتے، بلکہ جدید مراجع اور عالمی فقہ اکیڈمیوں کی رپورٹس اور مختلف پروگراموں میں شرکت کی بھی ضرورت پڑتی ہیں۔ یہ کتابیں، مراجع اور اسفار مہنگے ہوتے ہیں، لیکن اکثر ادارے مفتی کو قلیل سی تنخواہ تو دیتے ہیں، مگر تحقیقی گرانٹ فراہم نہیں کرتے۔ یہ مادّی محرومی مفتی کو جدید علمی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ مفتی کا وہ خاموش خارجی مسئلہ ہے جو اسے جدید علمی دنیا سے کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔

اتحاد و اتفاق پر عوام کا نام نہاد درس

یہ بھی عجیب تماشا ہے کہ جو عوام خود دین کی بنیادی اخلاقیات سے ناواقف ہیں، وہ مفتی کو اتحاد و اتفاق کا درس دیتے ہیں۔ جہاں مفتی نے کسی باطل فرقے یا غلط رسم کی نشان دہی کی، وہیں اسے تفرقہ باز مشہور کر دیا جاتا ہے۔ جب کہ اتحاد’حق‘ پر ہوتا ہے، ’باطل‘ کے ساتھ سمجھوتا کرنے کا نام اتحاد نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۠﴾ اور اللہ کی رسّی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔ [آلِ عمران: 103]یعنی اتحاد کے لیے سب کا اللہ کی رسّی کو تھامنا ضروی ہے، جس نے رسّی ہی نہ تھامی ہو، وہ تو خود الگ تھلگ ہے۔

علمی جمود اور عوامی سماعت زدگی

یہ بھی ایک عجیب المیہ ہے کہ لوگوں نے پہلے سے جو کچھ سن رکھا ہوتا ہے، وہ اسے ہی کُل دین سمجھتے ہیں۔ کوئی محقق مفتی قرآن و سنت کے دلائل سے کتنا ہی ثابت کر ے کہ فلاں مروجہ طریقہ یا بات غلط ہے، لوگ اسے تسلیم کرنے کے بجائے مفتی کو ہی مشکوک بنا دیتے ہیں۔اس روِش کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:﴿بَلْ قَالُـوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ؀﴾بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنھیں کے نقشِ قدم کے مطابق ٹھیک ٹھیک راستے پر جارہے ہیں۔[الزخرف: 22] یہی نہیں بلکہ ایسے حق گو مفتی کی مقبولیت کم کرنے کی باقاعدہ کوششیں کی جاتی ہیں اور اسے ’سخت گیر‘ بلکہ ’فتنہ باز‘ تک کہا جاتا ہے۔

علماے سٗو کا حسد اور ذاتی حملے

حق گو مفتی کو سب سے بڑی سزا یہ دی جاتی ہے کہ اس کے لیے عوامی پلیٹ فارم بند کر دیے جاتے ہیں۔ اسے اجتماعات میں نہیں بلایا جاتا، اس کے بیانات پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی جاتی ہے تاکہ اس کی آواز عوام تک نہ پہنچ سکے۔ مصلحت پسند طبقہ اسے سخت گیر قرار دے کر سماجی طور پر تنہا کر دیتا ہے، تاکہ وہ حق بات کہنا چھوڑ دے۔اس لائن کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہی ہےکہ جب کوئی محقق مفتی اپنی علمی تحقیق اور بصیرت سے کوئی پوشیدہ پہلو سامنے لاتا ہے، تو بعض معاصرعلماےسٗو اس کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں۔ وہ علمی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دیتے ہیں اور اس کے علمی وقار کو مجروح کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: سود کی بدترین قسموں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت و آبرو پر ناحق زبان درازی کی جائے۔إِنَّ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةَ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ. [ابوداود: 4876]

علمی تنہائی اورہم زبانوں کا فقدان

ایک گہرا تحقیقی کام کرنے والا مفتی اکثر اپنے معاصرین میں اجنبی بن جاتا ہے۔ جب وہ کسی مسئلے کی گہرائی میں جا کر اور روایتی طرز سے ہٹ کر -لیکن اصولِ شریعت و فقہ کے اندر رہتے ہوئے-کوئی بات کرتا ہے، تو بسا اوقات اس کے اپنے ساتھی بھی اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ علمی تنہائی مفتی کے لیے بہت بڑا کرب ہے۔

جعلی مفتیوں کا فریب

آج کے جدید دور میں بغیر کسی مستند متبحر مفتی سے تربیت حاصل کیے، جسے دیکھیے مفتی بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ جعلی مفتی عوام کو ایسے ایسے غلط فتوے دیتے ہیں جن کا خمیازہ مستند مفتیوں کو بھگتنا پڑتا ہے، یہی نہیں بلکہ جب ایک مستند مفتی ان کی اصلاح کرتا ہے تو عوام اسے علما کی آپسی لڑائی قرار دے کر اصل دین سے ہی دور ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں مفتی کو اپنی علمی ساکھ بچانے کے ساتھ ساتھ عوام کے ایمان کی حفاظت کا دوہرا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

اختلافی مسائل اور زبردستی کی محاذ آرائی

مفتی کتنا ہی بچنا چاہے، اس سے جان بوجھ کر ایسے اختلافی مسائل کُرید کُرید کر پوچھے جاتے ہیں جن کا مقصد صرف فتنہ کھڑا کرنا ہوتا ہے، اور جب مفتی بچتے بچاتے ان کا جواب دیتا ہے تو اس کے فتوے کو کاٹ چھانٹ کر سوشل میڈیا پر ہوا بنائی جاتی ہے اور اس کے خلاف محاذ قایم کر دیا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ علما لوگوں کو لڑاتے ہیں، جب کہ وہ نہیں لڑاتے،یہ اِدھر کی اُدھر کرنے والے اور لگائی بجھائی کرنے والے ہی یہ کام کرتے ہیں۔

لایعنی اور فرضی سوالات کا بوجھ

عوام کی ایک بڑی تعداد ایسے سوالات کے پیچھے پڑی رہتی ہے جن کا نہ عقیدے سے تعلق ہوتا ہے اور نہ عمل سے۔ جنت میں فلاں چیز کیسی ہوگی؟ یا اگر ایسا ہو جائے تو کیا ہوگا؟ وہ کون سا پرندہ ہے جو ہوا میں انڈے دیتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے فرضی سوالات مفتی کا قیمتی وقت ضایع کرتے ہیں۔

عوامی مجتہدین کی کثرت

آج کل ہر شخص -جس نے محض چند یوٹیوب ویڈیوز دیکھ رکھی ہوں-وہ بھی مفتی کے سامنے اپنی رائے پیش کرتا ہے۔ بہت مہذب ہوا تو کہتا ہے کہ ’مفتی صاحب! آپ جو کہہ رہے ہیں، ٹھیک ہے ،لیکن مجھے ایسا لگتا ہے‘۔ جب کہ دین میں’لگنے‘ کی نہیں، بلکہ ’نص‘ اور ’دلیل‘ کی اہمیت ہوتی ہے۔ ماہرِ فن کے سامنے غیر ماہر کا اپنی رائے پیش کرنا علمی انارکی کا سبب بنتا ہے۔آج کل عوام سوشل میڈیا پر کسی نام نہاد اسکالر یا ادھورے علم والے کی ویڈیو دیکھ کر سیدھے مفتی صاحب کے پاس پہنچ جاتے ہیں، کہ فلاں اسلامی اسکالر تو یہ کہتا ہے، آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ تقابل مفتی کے لیے ذہنی اذیت کا بھی باعث بنتا ہےکہ اسے ایک مستند عالم کے بجائے ایک ایسے شخص سے موازنہ کرنا پڑتا ہے جو فقہ اور اصولِ فقہ کی ابجد بھی نہیں جانتا۔

ہر مسلمان کی ذمّےداری

حق گوئی کی پاداش میں اگر کسی مفتی کو آزمائش کا سامنا کرنا پڑے، اسے ادارے سے نکالا جائے یا اس پر جھوٹے الزامات لگائے جائیں تو اس وقت عوام کا فریضہ ہے کہ وہ اس کا دست و بازو بنیں۔ حق کے ساتھ کھڑے ہونا، ایسے شخص کی معاشی و اخلاقی مدد کرنا اور اس کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب دینا ہر مسلمان کی ذمّےداری ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، لہٰذا نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے (کہ وہ اس پر ظلم کرے)، اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت کو پورا کرنے میں مصروف ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرمائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت دور کرے گا،اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالےگا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. [بخاری: 2442] نیز آپ ﷺفرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی عزت و آبرو بچائےگا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے دوزخ کی آگ دور کر دےگا۔ مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .[ترمذی: 1931] نیز مفتی کو ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے کہ وہ دیگر دنیوی تفکرات سے بے فکر ہو کر خالص دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکے۔ اسے انتظامی کاموں، چندہ مہم یا دفتری سیاست سے دور رکھا جانا چاہیے۔ اس کا کام صرف مطالعہ، تحقیق اور امت کی رہنمائی ہونا چاہیے۔ قدیم دور میں سلاطین اور عوام علما کے لیے مستقل وظائف مقرر کرتے تھے تاکہ وہ یک سوئی سے علمی کام کر سکیں۔ آج بھی ہمیں اسی ماڈل کو جدید رنگ میں زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ منصبِ اِفتا ایک خارزار وادی ہے، مفتیِ وقت آج ان تمام محاذوں پر تنہا لڑ رہا ہوتا ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ امت کو مصلحتوں سے پاک، خالص اور تحقیقی دینی رہنمائی ملتی رہے تو ہمیں اسے مصلحتوں کی زنجیروں اورمعاشی تنگیوں سے آزاد کرانا ہوگا۔ جب مفتی معاشی طور پر بےفکر اور انتظامی طور پربے خوف ہوگا، تبھی وہ صحیح معنوں میں من جانب اللہ مُوقّع کہلانے کا حق ادا کر سکے گا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ مفتیانِ کرام کی قدر کریں، ان کی تحقیق کا احترام کریں اور آزمائش کی گھڑی میں ان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here