[دوسری اور آخری قسط]
ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
نوجوانوں کو دینی فقاہت کی تعلیم
تزکیہ و تعلیم کا یہ پرخلوص انداز عام فہم دینی نصائح میں بھی نمایاں نظر آتا ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓکہتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہﷺ کے ساتھ آپ کے پیچھے سوار تھا، آپ نے فرمایا : اے لڑکے ! بےشک میں تمھیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں؛ تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو وہ تمھاری حفاظت فرمائےگا، تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تم مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد چاہو، اور یہ بات جان لو کہ اگر سب لوگ جمع ہو کر تمھیں کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو وہ تمھیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سب تمھیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہوجائیں تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہوگئے ہیں ۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا، فَقَالَ: يَا غُلَامُ، ” إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ “، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. [ترمذی]
دین سیکھنے والے نوجوانوں کی خصوصی دیکھ بھال کرنا
جب دینی تعلیم حاصل کرنے والے نو عمر طلبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ان کے خاندانی جذبے کا بھی مکمل احترام فرماتے، چناںچہ حضرت مالک بن حویرثؓنے بیان کیا کہ ہم حضرت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ ہم نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم نے آپ کے یہاں بیس دن قیام کیا۔ پھر آپ ﷺکو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے اہلِ خانہ یاد آرہے ہیں تو آپ نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنھیں ہم اپنے اہل و عیال میں چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ کو پورا حال سنا دیا۔ آپ ﷺانتہائی نرم دل اور بڑے مہربان تھے۔ آپ نے فرمایا : اب تم اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ اور انھیں دین کی تعلیم دو ،پھر اس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرو، نیز نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اور جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے۔عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ ﷺ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَظَنَّ أَنَّا اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَفِيقًا رَحِيمًا، فَقَالَ: “ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ”. [بخاری]
جوانی کے گناہوں اور جذبات کی معقول تربیت
جوانی کا دور انتہائی حساس اور جذباتی تلاطم سے عبارت ہوتا ہے، لیکن رحمتِ عالم ﷺ نے ہر لغزش کے موقع پر بے مثال حکمت اور درگزر کا مظاہرہ فرمایا، چناںچہ حضرت ابو امامہؓسے روایت ہے، ایک نوجوان حضرت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجیے! لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: میرے قریب آجاؤ! وہ آپ کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اپنی ماں کے لیے ایسا پسند کرو گے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں ایسا پسند کروگے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی بہن کے حق میں اسےپسند کرو گے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں اسے پسند کرو گے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی خالہ کے حق میں اسے پسند کروگے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے بدن پر رکھا اور دعا کی: اے اللہ ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت فرما۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: إِنَّ فَتًى شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي بِالزِّنَا، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَزَجَرُوهُ، قَالُوا: مَهْ مَهْ، فَقَالَ: ادْنُهْ، فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا، قَالَ: فَجَلَسَ، قَالَ: أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ. قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ. قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ.قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ. قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ ؟قَالَ: لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ. قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ، وَطَهِّرْ قَلْبَهُ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ. فَلَمْ يَكُنْ بَعْدُ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ.[مسند احمد] اس واقعے میں حضرت نبی کریم ﷺ نے نوجوان کی بالکل فحش بات پر بھی غصہ نہیں کیا بلکہ اسے قریب بٹھایا، اس کی نفسیات کے مطابق معقول سوالات و جوابات سے اس کا ذہن بدلا اور اس کی تسلّی فرمائی اور آخر میں اس کے لیے دعا بھی کی۔
نوجوانوں کو نکاح کی ترغیب اور عفت کا درس
اس اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ نے جوانی کے طبعی جذبات کے توازن کے لیے پاکیزہ حل بھی تجویز فرمایا، چناں چہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓنے فرمایا؛ ہم نوجوان رسول اللہ ﷺکے ساتھ رہا کرتے تھے، ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا : نوجوانو ! تم میں سے جو کوئی نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ نکاح کرلے، کیوں کہ نکاح کا عمل نظر کو بہت زیادہ جھکا دینےوالا اور شرم گاہ کی خوب حفاظت کرنے والا ہے، اور جو کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا اسے روزے رکھنے چاہئیں، کیوں کہ یہ عمل اس کے لیے شہوت کو توڑنے والا ہے۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَةَ والْأَسْوَدِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ شَبَابًا لَا نَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ”.[بخاری]
حضرت فضل بن عباسؓکی عملی اصلاح
سفر و حضر کے دوران اگر کبھی کسی نوجوان سے نادانستہ کوئی لغزش سرزد ہو جاتی تو آپ غصہ کرنے کے بجائے محبت کے ساتھ اس کا رخ پھیر دیتے، جیسا کہ حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت فضل بن عباسؓرسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں قبیلۂ خثعم کی ایک عورت آئی تو فضل اس عورت کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت فضل کی طرف دیکھ رہی تھی۔ آپ ﷺ نے فضل کا منہ دوسری طرف پھیردیا۔اس عورت نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا فریضہ حج جو اس کے بندوں پر عائد ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو پالیا ہے، مگر وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپ ﷺنے فرمایا : ہاں ! یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا تھا۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: “كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ، قَالَ: نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ”. [بخاری]
سادگی، زہد اور قناعت کا درس
نوجوانوں میں عام طور پر جوانی کے جوش، ظاہری نمود و نمائش اور مادّی آرائش کے رجحانات کو اعتدال پر لانے کے لیے آپ ﷺ نے انکساری اور سادہ زندگی گزارنے کی تلقین فرمائی، تاکہ دل دنیا کی محبت سے آزاد ہو کر اخروی فکر سے معمور ہو جائے۔ حضرت ابوامامہؓکہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہؓنے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا :کیا تم سن نہیں رہے ہو ؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو ؟ بےشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بےشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے۔ اس سے مراد ترکِ زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے۔ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: ذَكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا عِنْدَهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “أَلَا تَسْمَعُونَ أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ يَعْنِي التَّقَحُّلَ”، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيُّ. [ابوداود]
تہجد کے لیے حضرت ابنِ عمرؓکی تشجیع
نوجوانوں کی اس ہمہ جہت تربیت کا ثمر ان کی قلبی بیداری اور تذکیرِ آخرت کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا، چناں چہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے متعلق حضرت نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: عبداللہ کیا ہی اچھا آدمی ہے، کاش وہ رات کی نماز (تہجد) پڑھا کرتا! چناں چہ اس کے بعد وہ رات کو بہت ہی کم سویا کرتے تھے۔ نِعْمَ، الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ بَعْدُ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا.[بخاری]
حضرت جریر بن عبداللہ ؓکا مسکرا کر استقبال کرنا
زندگی بھر آپ ﷺ کا صحابۂ کرامؓکے ساتھ یہ شفقت آمیز اور حوصلہ افزا رویہ برقرار رہا، چناں چہ حضرت جریر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا: جب سے میں اسلام میں داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ نے مجھے نہیں روکا، اور جب بھی آپ ﷺ مجھے دیکھتے تو مسکرا کر دیکھتے۔ عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: “مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ”. [بخاری]






