Home Darul Ifta تراویح میں قرآن سنانے پر اجرت لینا جائز، بخاری شریف سے؟

تراویح میں قرآن سنانے پر اجرت لینا جائز، بخاری شریف سے؟

تراویح میں قرآن سنانے پر اجرت لینا جائز، بخاری شریف سے؟

سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب !آپ نے تراویح میں قرآن سنانے پر اجرت لینے کو ناجائز بتایا ہے، لیکن بخاری شریف میں تو ہے کہ ’’بہترین اجرت قرآن کی ہے‘‘۔ پھر آپ نے ایسا کیوں لکھا؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً: یہ مسئلہ اتنا مشکل نہیں جتنا لوگوں نے قیل و قال کر کے بنا دیا ہے۔ آپ نے بخاری شریف کی جس حدیث کا حوالہ دیا ہے، وہ مکمل حدیث اور اس مطلب ملاحظہ فرمائیں:
حضرت ابن عباسؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے چند آدمی پانی کے رہنے والوں کے پاس سے گزرے، جن میں سے ایک شخص کو سانپ نے کاٹ لیا تھا۔ ان میں سے ایک آدمی ان صحابہؓکے پاس پہنچا اور کہا: تم میں سے کوئی شخص جھاڑنے والا ہے؟ پانی میں ایک شخص سانپ یا بچھو کا کاٹا ہوا ہے۔ ایک صحابی گئے اور بکریوں کی شرط پر سورۂ فاتحہ پڑھی تو وہ آدمی اچھا ہوگیا۔ وہ صحابہ کے پاس بکریاں لے کر آئے، لیکن ان لوگوں نے اسے ناپسند کیا اور کہنے لگے: تم نے کتاب اللہ پر اجرت لی! یہاں تک کہ وہ لوگ مدینہ پہنچے تو انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انھوں نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: جن چیزوں پر اجرت لینی جائز ہے ان میں سب سے زیادہ مستحق کتاب اللہ ہے۔ [بخاری: 5737]
دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ فرماتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھاڑ پھونک اور تعویذ پر اجرت لینا جائز ہے کیوںکہ یہ بھی ایک علاج ہے، پس جس طرح دوا کی اجرت لینا جائز ہے تعویذ کی اجرت لینا بھی جائز ہے، اور یہ بات دلیل کی محتاج نہیں۔ [تحفۃ القاری: 10/523]یعنی اس حدیث میں علاج پر اجرت لینے کا ذکر ہے، تلاوت اور عبادت پر اجرت کا ذکر نہیں۔۔ فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here