تراویح پر ہدیہ؍ اجرت؍ معاوضہ ناجائز کہنے والے
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب مدظلہ!تراویح پر ہدیہ، اجرت یا معاوضہ لینا کیا بالکل ناجائز ہے؟ اسے ناجائز کہنے والے کون لوگ ہیں؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا﴾ اور میری آیتوں کو معمولی سی قیمت لے کر نہ بیچو۔ [البقرۃ:41، المائدۃ: 44] حضرت ابوالعالیہ سے روایت ہے، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پر اجرت نہ لی جائے۔[تفسیر ابن کثیر: 1/377]
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺہماری مجلس میں تشریف لائے، ہم قرآن پڑھ رہے تھے ، ہم میں اعرابی بھی تھے اور عجمی بھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پڑھتے رہو ، سب ٹھیک ہے، عن قریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (قرآن کو ) ایسے سیدھا کریںگے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے، وہ اس کا اجر جلد لینا چاہیںگے( یعنی دنیا ہی میں ) اور ( آخرت تک ) مؤخر نہیں کریں گے۔[ابوداود:830]
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن معقلؒنے لوگوں کو رمضان میں تراویح پڑھائی، عیدا لفطر کے دن عبید اللہ بن زیاد نے ان کی طرف ایک جوڑا اور پانچ سو درہم بھیجے، انھوں نے یہ چیزیں واپس کردیں اور فرمایا: ہم قرآن پر اجرت نہیں لیتے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ: 7822]حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے یہاں مہمان تھا، رمضان کا مہینہ آیا تو ایک آدمی ان کے پاس مصعب بن زبیرؓکی طرف سے دو ہزار درہم لے کر آیا اور کہا: امیر آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر قابلِ احترام قاری کو اپنی طرف سے یہ ہدیہ دیا ہے، آپ اس مہینے میں اپنی ضروریات ان پیسوں سے پوری کیجیے۔ حضرت عمرو نے فرمایا: امیر کو ہماری طرف سے سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ اللہ کی قسم! ہم نے قرآن کو دنیا حاصل کرنے کے لیے نہیں پڑھا ہے، یہ کہہ کر وہ رقم اسے واپس کردی۔ [ایضاً: 7821]
تراویح میں قرآن ختم کرنا ایسی شرعی ضرورت نہیں جس کے بغیر تراویح ہی نہ ہو سکے، چھوٹی سورتوں سے بھی تراویح پڑھی جا سکتی ہے۔ اسی لیے فقہاےکرام نے تراویح پر ہدیہ یا اجرت و معاوضہ لینے دینے کو ناجائز کہا ہے۔ یہاں چند نام ذکر کیے جاتے ہیں:(۱)حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (۲)حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ (۳)حضرت مفتی عزیزالرحمن عثمانیؒ (۴)حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (۵)حضرت مفتی کفایت اللہ دہلویؒ (۶)حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ (۷)حضرت مولانا ظفراحمد عثمانیؒ (۸)حضرت مفتی عبدالکریم گمتھلویؒ (۹)حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ (۱۰)حضرت مفتی محمودحسن گنگوہیؒ (۱۱)حضرت مفتی نظام الدینؒ (۱۲)حضرت مفتی سید عبدالرحیم لاجپوریؒ (۱۳)حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ (۱۴)حضرت مولانا سید زوار حسینؒ (۱۵)حضرت مولانا مجیب اللہ ندویؒ (۱۶)حضرت مولانا عبد الشکور ترمذیؒ (۱۷)حضرت مفتی عبد الستارؒ (۱۸) حضرت مولانا ابرارالحق ہردوئیؒ (۱۹)حضرت مولانا عثمان غنیؒ (۲۰)حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ (۲۱)حضرت مفتی محمودؒ (۲۲) حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ (۲۳)حضرت مفتی محمد رفیع عثمانیؒ(۲۴)حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم (۲۵)استاذی و مرشدی حضرت مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم (۲۶)حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ۔ واضح رہے دارالعلوم دیوبند کا ایک مفصل فتویٰ ’معاوضہ علی التراویح‘ کے نام سے مستقل چھپا ہوا ہے۔[مزید تفصیل کے لیے دیکھیے ہماری کتاب فقہِ رمضان]واللہ اعلم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






