ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
دینِ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، حسنِ اخلاق، نظم و ضبط اور شرعی اصولوں کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔ موجودہ دور میں مساجد کے انتظام، عبادات کے آداب اور دینی خدمات انجام دینے والے طبقے کے حقوق سے متعلق کئی ایسے مسائل سر اٹھا رہے ہیں جن پر فکری اور فقہی تناظر میں نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں مسجد کی صفوں میں فوم کے استعمال، معذور نمازیوں کے حقوق، ائمہ کی تنخواہوں کے عادلانہ نظام، طویل خدمت انجام دینے والے ائمہ کے ساتھ روایتی بے حسی اور بڑے شہروں میں جمعے کی متعدد جماعتوں کے نقصانات پر گفتگو کی گئی ہے۔
مسجد میں فوم یا گدّے پر سجدہ
مساجد میں نمازیوں کی آسانی کے لیے فوم بچھانے کا رواج عام ہو گیا ہے، اس حوالے سے فقہِ اسلامی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سجدہ درست ہونے کے لیے پیشانی اور ناک کا زمین پر یا کسی ایسی سخت سطح پر جو زمین کے حکم میں ہو ٹکنا اور اس کی سختی کا محسوس ہونا ضروری ہے۔فوم یا گدا اگر اتنا باریک یا مناسب کثافت والا ہو کہ جب نمازی اس پر سجدہ کرے تو پیشانی کچھ دبنے کے بعد َ نیچے سخت زمین پر ٹک جائے اور زمین کی سختی محسوس ہو تو ایسا فوم استعمال کرنا اور اس پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اگر فوم اتنا زیادہ موٹا یا نرم ہو کہ اس پر سر رکھنے سے وہ مسلسل دبتا چلا جائے، پیشانی اور ناک اچھی طرح نہ جمیں اور زمین کی سختی محسوس نہ ہو تو ایسے فوم پر سجدہ کرنا درست نہیں ہوگا۔اس لیے صفوں کے نیچے فوم بچھاتے یا فوم والی جائے نماز پر نماز پڑھتے ہوئے یہ اطمینان کر لیا جائے کہ سجدے میں پیشانی کسی ایک جگہ ٹک جائے، اگر فوم اتنا موٹا ہو کہ پیشانی اندر دھنستی چلی جائے اور کسی ایک جگہ نہ ٹکے تو نماز نہیں ہوگی۔ ’فتاویٰ ہندیہ‘ میں ہے: اگر گھاس، بھوسے، روئی، کپڑے یا برف پر سجدہ کیا تو اگر اس کی پیشانی اور ناک جم گئے اور وہ اس کی سختی کو محسوس کرے تو جائز ہے اور اگر نہ جمے تو جائز نہیں۔[الہندیۃ]
کرسی پر نماز پڑھنے والوں کو الگ کرنا
معذور اور بزرگ افراد جو زمین پر سجدہ کرنے سے قاصر ہونے یا دیگر اعذار کی وجہ سے کرسی پر نماز پڑھتے ہیں، مساجد میں ان کے بیٹھنے اور صفوں کے انتظام کے حوالے سے بعض مقامات پر نامناسب رویہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معذور افراد بھی مسجد کے اتنے ہی حق دار ہیں جتنے دوسرے صحت مند نمازی۔ انھیں کرسی کی وجہ سے مسجد سے باہر یا صفوں سے بہت دور پیچھے دھکیلنا ان کی دل آزاری کا سبب ہے، جو کہ شرعاً ناپسندیدہ ہے۔ فوم یا کارپٹ کو پھٹنے سے بچانے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں،کرسی کے پاؤں پر ربڑ کی کیپس لگا دی جائیں یا اس حصے میں کوئی لکڑی وغیرہ رکھ دی جائے تاکہ آپ کے کارپیٹ یا فوم کو کوئی نقصان نہ ہو۔ مسجد کا ایک مخصوص حصہ یا صف بھی ایسی رکھی جا سکتی ہے جہاں فوم کے بجائے کوئی مضبوط چیز ہو تاکہ معذور افراد وہیں باجماعت نماز ادا کر سکیں اور ان کی دل شکنی بھی نہ ہو۔ایسا نہ کرنے سے صفیں بھی متصل نہیں ہوتیں اور بعض صورتوں میں نماز بھی درست نہیں ہوتی۔ حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صفوں میں خوب مل کر کھڑے رہو اور ایک صف دوسری صف کے نزدیک رکھو (یعنی درمیان میں زیادہ فاصلہ نہ ہو) اور گردنوں کو بھی برابر رکھو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں شیطان کو صف میں خالی جگہ سے یوں گھستے ہوئے دیکھتا ہوں گویا وہ بکری کا بچہ ہے۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ.[ابوداود]شارحین نے مذکورہ بالا حدیث کی تشریح میں یہ بھی فرمایا ہے کہ دو صفوں کے بیچ میں ایک صف قایم ہونے کی جگہ نہ ہو۔ اس تشریح کے مطابق دوصفوں کے درمیان میں پانچ چھے فُٹ تک کے فاصلے کی گنجائش ہو سکتی ہے، اس سے زیادہ کی نہیں۔[مرقاۃ المفاتیح، بذل المجہود]
امام کی تنخواہ اور مالی امور میں اعتدال
امام یا مؤذن کا فریضہ انجام دینا ایک دینی خدمت ہے، لیکن چوںکہ آج کے دور میں امام کے پاس کوئی دوسرا ذریعۂ معاش نہیں ہوتا اور وہ اپنا پورا وقت مسجد کی خدمت کے لیے وقف کر دیتا ہے، اس لیے متاخرین فقہائے کرام نے اس کی اجرت لینے اور دینے کے جواز کا فتویٰ دیا ہے تاکہ امام عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ امام کی تنخواہ عرفِ عام (علاقے کے حالات، مہنگائی اور عام معیارِ زندگی) کے لحاظ سے معقول ہونی چاہیے، تاکہ اسے معاشی تنگی کا سامنا نہ ہو۔ اگر مسجد بڑی ہے اور ذمّے داریاں زیادہ ہیں تو اس لحاظ سے معاوضہ مناسب ہونا چاہیے۔ اکثر جگہوں پر تو ائمہ کا استحصال ہی ہوتا ہے اور بعض جگہ محض نمود ونمائش، شیخی بگھارنے کے لیے مارکیٹ ریٹ سے ہٹ کر ضرورت سے بہت زیادہ تنخواہ دی جاتی ہے، جب کہ وہ مسجد کے چندے کی مد سے دی جا رہی ہوتی ہے۔ مساجد کے چندے کا مال عوام کی امانت ہے، اور اس کا استعمال اعتدال کے ساتھ ہونا ضروری ہے،اگر ٹرسٹی یا کوئی اپنے ذاتی مال سے خوش ہو کر امام کو زیادہ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، چاہے اپنا مکان یا دکان ہی دے دے۔
طویل مدّت کے بعد امام کو نکال دینا: ایک المیہ
ایک طویل عرصہ؛ پوری جوانی اور زندگی کے بہترین اٹھارہ بیس سال کسی مسجد کی خدمت میں وقف کر دینے کے بعد جب کوئی امام ادھیڑ عمر کو پہنچتا یا بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اس کے ساتھ غیر انسانی رویہ اپنانا ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے۔ اکثر ٹرسٹی حضرات یا کمیٹی محض ذاتی ناپسندیدگی، انا کے مسائل یا اخراجات بچانے کی خاطر برسوں پرانے امام کو اچانک فارغ کر دیتی ہے یا ایسے گھٹن زدہ حالات پیدا کر دیتی ہے کہ امام خود استعفا دینے پر مجبور ہو جائے۔ اس عمر میں نئے سرے سے روزگار تلاش کرنا انتہائی اذیت ناک ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی جوانی مسجد کی نذر کر دے، بڑھاپے میں اس کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے تھا۔ مساجد کا نظام کارپوریٹ کلچر یا استحصالی سوچ پر نہیں بلکہ عدل اور رحم دلی پر چلنا چاہیے۔ اگر کسی امام کو شرعی لحاظ سے بھی ہٹانا ناگزیر ہو تو اس کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کیا جانا چاہیے، لیکن اکثر ایسا نہیں کیا جاتا، بلکہ رسوا کر کے نکالا جاتا ہے، الا ماشاءاللہ۔
جمعے کی کئی کئی جماعتیں
بڑے شہروں، کاروباری مراکز اور مصروف شاہ راہوں پر واقع مساجد میں ایک ہی مسجد کے اندر جمعے کی دو یا تین جماعتیں کرانے کا رواج تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اسلام میں جمعے کا مقصد یہ تھا کہ ہفتے میں ایک بار علاقے کے تمام مسلمان ایک ہی وقت میں، ایک ہی امام کے پیچھے جمع ہو کر اجتماعی وحدت کا مظہر بنیں۔ متعدد جماعتوں سے یہ شان ختم ہوتی جا رہی ہے۔ الگ الگ جماعتوں کی صورت میں بار بار خطبہ دینا پڑتا ہے، جس سے خطبے کی تاثیر اور اجتماعیت بھی باقی نہیں رہتی، اور لوگ خطبے کی برکات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بار بار جماعتیں کروانے سے مساجد مسافر خانوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔یہ سب ضرورت کے نام پر ہو رہا ہے، لیکن اکثر محقق مفتی سے استفسار کیے بغیر مسجد کے ذمّےداران آپس میں مل بیٹھ کر اس کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ بعض جگہ تو صرف چندے کے حصول کے لیے ایسا کیا جا رہا ہےکہ جتنی جماعتیں ہوںگی، اتنی مرتبہ چندے کی جھولی گھومےگی۔ بازار اور آفس والوں کو یہ فایدہ مل رہا ہے کہ اس طرح انھیں دکانیں اور آفس بند نہیں کرنے پڑتے۔ کسی کو بھی اس کی فکر نہیں کہ ان سب کی زد اسلامی شعار پر پڑ رہی ہے۔ انھوں نے اپنی ہاں میں ہاں ملانے والے بعض نام نہاد لکھے پڑھوں کو بھی اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ نمازِ جمعہ اسلام کا شعار ہے، اس کی ایسی درگت بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔اس موضوع پر ہم پہلے بھی دلائل کی روشنی میں کافی کچھ لکھ چکے ہیں، خدا کرے کہ مردِ مومن میدان میں آئیں اور اسلامی شعائر کی حفاظت کریں۔






